سندھ کے 1.2 کھرب بجٹ میں سے تنخواہوں کی مد میں کتنے پیسے خرچ ہوتے ہیں؟تفصیلات جان کر آپ کے ہوش اڑ جائیں گے

سندھ کے 1.2 کھرب بجٹ میں سے تنخواہوں کی مد میں کتنے پیسے خرچ ہوتے ہیں؟تفصیلات ...
سندھ کے 1.2 کھرب بجٹ میں سے تنخواہوں کی مد میں کتنے پیسے خرچ ہوتے ہیں؟تفصیلات جان کر آپ کے ہوش اڑ جائیں گے

  



کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبائی بجٹ کے 1.2 کھرب روپے میں سے 870.2 ارب روپے تنخواہوں، ملازمین کی ریٹائرمنٹ و فوائد، آپریشن اخراجات، گرانٹ، سبسڈی پر خرچ کیے جاتے ہیں جبکہ مرمت اور بحالی کیلیے لوکل باڈیز پر 75 ارب روپے خرچ کیے جاتے ہیں لہذا، ترقیاتی کاموں کیلئے نہایت ہی کم اسپیس بچتا ہے ،اسکے باوجود بھی صوبائی حکومت مناسب مالیاتی انتظام کے ساتھ پورے صوبے میں ترقیاتی کام کرتی ہے۔

 وزیراعلی ہاؤس میں بیچ 2019 کے ٹریننگ مینجمنٹ اینڈ ریسرچ ونگ کے 45 زیر تربیت افسران سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سال 20-2019 کا بجٹ ایک کھرب 2 ارب روپے تھا جبکہ اس میں سے 870 ارب روپے تنخواہوں، ریٹائرمنٹ و فوائد، آپریٹنگ اخراجات، سود کی ادائیگیوں، فزیکل اثاثوں، مرمت و بحالی اور گرانٹس و سبسڈیز پر خرچ ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 72 ارب روپے بلدیاتی اداروں کو دیئے گئے ہیں،اب ہم نے بلدیاتی اداروں کو مزید مستحکم اور موثر بنانے کے لئے اس میں اصلاحات لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ کل بجٹ کا 23.2 فیصد شعبہ تعلیم،، 13 فیصد صحت، 12 فیصد داخلہ، 2.7 فیصد آبپاشی اور 2.9 فیصد توانائی کو دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ بلدیات کو 1.2 فیصد اور محکمہ زراعت کو 1.2 فیصد دیا گیا۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ترقیاتی اخراجات 284.04 ارب روپے ہیں، جن میں صوبائی 208 ارب روپے، ضلعی اے ڈی پی کیلئے 20 ارب روپے، غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والے منصوبوں کیلئے 51.5ارب روپے اور4.89 ارب روپے وفاقی پی ایس ڈی پی شامل ہیں۔ہمارے پاس 1583 جاری سکیمیں ہیں جن کیلیے 78 فیصد مختص کیا گیا ہے اور 852 نئی سکیمیں ہیں جن کیلیے 22 فیصد مختص کیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جس نے دریائے سندھ پر دو پل اور تھرپارکر میں ایک ایئرپورٹ تعمیر کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ہم نے پورے سندھ کو چھوٹے اور بڑے سڑکوں کے جال سے جوڑ دیا ہے اور اب کہیں بھی کوئی آسانی سے سفر کر سکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعلی سندھ نے کہا کہ سوائے کراچی اور نواب شاہ کے تمام بنیادی صحت کے یونٹس پی پی ایچ آئی کو دے دی گئیں ہیں اور وہ اس پر بہترین کام کررہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعلی سندھ نے کہا کہ اگر کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے نظریہ پر کام کرنے کی اجازت ملتی تو آج پاکستان بجلی برآمد کرنے والا ملک بن جاتا۔ انہوں نے کہا ہاں، ہمارے پاس محترمہ کے بتائے ہوئے منصوبوں ہیں اور آج سندھ واحد صوبہ ہے جو ملک میں بجلی پیدا کررہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے ثمرات تھر کے لوگوں کو بھی فراہم کردیئے گئے ہیں جنھیں ملازمت فراہم کی گئی اور وہ اس منصوبے میں شراکتدار بھی بن چکے ہیں۔

انہوں نے اس سوال پر اتفاق کیا کہ تھر میں بڑی سرمایہ کاری کرکے انفراسٹرکچر کی ترقی کو پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا اب ہم سڑکوں، پانی اور صفائی ستھرائی کی ترقی پر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ غربت میں کمی لانے کی حکمت عملی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ اسے یو سی کے تحت غربت میں کمی کے پروگرام کے طور پر 2009 میں کام شروع کیا گیا تھا اور اب اسے 18 اضلاع تک بڑھا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہم یورپی یونین کی مالی اعانت سے چلنے والی سندھ کونسل اور کمیونٹی اقتصادی مضبوطی اور معاونت (SUCCESS) پروگرام کے تحت اسکو مزید آٹھ اضلاع تک بڑھا رہے ہیں جوکہ62 ملین یورو کے ساتھ پروگرام شروع کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا صوبے کی عوام بالخصوص دیہی علاقے سب سے کم قوت خریداری کے ساتھ مشکل زندگی بسر کر رہے ہیں۔ وزیراعلی سندھ نے کراچی کو نظر انداز کرنے والے تاثر پر جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ 27.8 ارب روپے کی لاگت سے 40 منصوبے مکمل ہوچکے ہیں اور مزید منصوبے جاری ہیں۔ انہوں نے نئے افسران پر زور دیا کہ وہ اس صوبے کی عوام کی خدمت ایمانداری اور اپنی بہترین صلاحیتوں کے عیوض ممکن بنائیں۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی