آئی جی سندھ کی تعیناتی ،بلاول بھٹو زرداری ایک بار پھر وزیر اعظم عمران خان کے سامنے کھڑے ہو گئے

آئی جی سندھ کی تعیناتی ،بلاول بھٹو زرداری ایک بار پھر وزیر اعظم عمران خان کے ...
آئی جی سندھ کی تعیناتی ،بلاول بھٹو زرداری ایک بار پھر وزیر اعظم عمران خان کے سامنے کھڑے ہو گئے

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت نے آج کا اجلاس آرڈیننس پاس کروانے کے لئے وقت سے پہلے بلایا،صدر ہاؤس آرڈیننس کی فیکٹری بنا ہوا ہے،پی ٹی آئی کا دھرنا جمہوریت جبکہ اپوزیشن کا دھرنا غداری ہے،ایک پاکستان میں ایک نہیں بلکہ دو پاکستان ہیں،اسلام آباد کے آئی جی کو فون نہ سننے پر تبدیل کر دیا جاتاہے جبکہ سندھ کے آئی جی کے تبدیلی کے لئے پانچ نام فائنل ہونے کے باوجود تعیناتی نہیں کی جاتی، جو قانون دوسرے صوبوں کے لئے استعمال کرتے ہیں وہی سندھ کے لئے ہونا چاہئے، ہر چیز کھیل کر کرکٹ نہیں ہوتی، ہمارا مطالبہ ہے کہ بھیجے گئے پانچ ناموں میں سے فوری طور پر سندھ کا آئی جی لگایا جائے، ٹیکس ایمنسٹی صرف ارب پتی لوگوں کے لئے ہوتی ہے لیکن کسانوں کے لئے کوئی بیل آوٹ پیکج نہیں ہوتا،آئی جی کی تبدیلی کے حوالے سے وزیراعظم اور وزیراعلی کے درمیان بات ہوتی ہے یہی قانونی طریقہ کار ہے۔

 پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب سے حکومت آئی ہے اس کا رویہ درست نہیں ہے موجودہ سیشن مہنگائی فوڈ سیکیورٹی پر نہیں بلایا گیا، صرف آرڈینس میں ترامیم کے لئے بلایا گیا ہے ترامیم کے لئے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ڈبیٹ ہوتی ہے لیکن حکومت کا رویہ جمہوری نہیں ہے صدر ہاوس آرڈینس کی فیکٹری بنا ہوا ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر سیاسی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے محسن داوڑ اور علی وزیر احتجاج کر رہے تھے محسن داوڑ کو گرفتار کیا گیا اور مقدمات بنائے گئے اس کی ہم مذمت کرتے ہیں اگر ان کے بیانات پر کسی کو اعتراض ہے تو اس کا جواب دیا جانا چاہئے آج اسمبلی میں کہا گیا کہ محسن داوڑ پہلے معافی مانگیں لیکن مجھے نہیں پتہ انہوں نے کیا بیان دیا تھا ؟حکومت نے ان کے بیان پر سنسر شپ لگائی ہوی ہے، فاٹا سے آنے والے اراکین کو بولنے کا حق ملنا چاہئے ،جنہوں نے دہشت گردی کا سامنا کیا ،افغان وار کے دوران فاٹا کے نوجوانوں نے بہت قربانیاں دیں،جن علاقوں میں آپریشن ہوا وہاں کی عوام کو فوری طور پر بحال کیا جانا چاہئے تھا ،پاکستان پیپلزپارٹی نے فاٹا کے عوام کی ڈیویلمپنٹ کے لئے حصہ زیادہ رکھا تھا ،جہاں جہاں آپریشن ہوا سب کو واپس گھر بھیجا، بے نظیر کارڈ کا انتظام کیا تھا لیکن موجودہ حکومت نے ابھی تک آئی ڈی پیز کو مکمل طور پر بحال نہیں کیا، پاکستان پیپلزپارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ آئی ڈی پیز کو فوری طور پر گھر بھیجا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دھرنے جمہوری اور ہمارا دھرنا غداری ہے ،جب عمران خان پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتا ہے تو نوجوان متاثر ہوتا ہے، ایک نہیں دو پاکستا ن ہیں، اسلام آباد کا آئی جی اگر فون نہ سنے کو گھر بھیج دیا جاتا ہے،  پنجاب پولیس ریفارمز کرنے والوں کو چند ہفتوں میں ہی تبدیل کر دیا جاتا ہے، کے پی کے میں بھی آئی جی کو تبدیل کر دیا جا تاہے ،جب وزیراعظم اور وزیراعلی سندھ کے درمیان بات طے پا جاتی ہے اور پانچ نام سینارٹی کے مطابق بھیجے جاتے ہیں لیکن معاملات طے کرنے کے باوجود بھی یوٹرن لے لیا جاتا ہےاور اس کا نقصان لاء اینڈ آرڈر کی صورت میں عوام کو بھگتنا پڑتا ہے، عمران خان ایک نہیں دو پاکستان کا کھیل کھیل رہے ہیں ، جو قانون دوسرے صوبے کے لئے استعمال ہوتا ہے وہی سندھ کے لئے استعمال ہونا چاہئے ،اس طرح کے رویہ سے وفاق کو نقصان پہنچے گا ۔انہوں نے کہا عوام کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے، آئے دن بجلی گیس کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہے، عوام کا جینا مشکل ہو گیا ہے ،امیروں کے لئے ایمنسٹی سکیم آئی ہے لیکن غریبوں کے لئے کچھ نہیں ہوتا ، کسانوں کو کوئی بیل آوٹ پیکج نہیں دیا جاتا ، وزیراعظم اور وزیراعلی کے درمیان آفیشل میٹنگ ہوتی ہے جس میں بات طے پا جاتی ہے لیکن اس کے باوجود وزیراعظم اپنی کمٹمنٹ پوری نہیں کرتے، وفاقی حکومت سندھ سے اپنے تعلقات بہتر نہیں کئے ، سندھ کے لئے کوئی ترقیاتی منصوبہ نہیں دیا گیا ، صرف سندھ حکومت کے حقوق چھینے گئے ، آئی جی تبدیلی کے لئے قانونی طور پر صرف وزیراعظم کی وزیراعلی سے بات ہوتی ہے، حکومت اور اپوزیشن کو مل کر عوام کے مسائل حل کرنے چاہئیں۔

مزید : قومی