جھوٹ نہ بولنا کبھی 

جھوٹ نہ بولنا کبھی 

  

  قمر صاحب کا آج آفس جانے کا بالکل موڈنہیں تھا اور اگر ان کی بیوی بچوں کو ان کی چھٹی کاعلم ہوجاتا تو بیوی شاپنگ پرجانے کا اصرار کرتیں اور بچے سکول نہ جاتے کہ ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں گے۔

    ابھی اس سوچ میں ہی تھے کہ ریحانہ بیگم اندر داخل ہوئی اورکہنے لگی کہ آپ ابھی تک۔۔۔سواسات ہوگئے ہیں، جلدی سے آئیں ناشتہ ٹھنڈا ہورہاہے۔

    رہنے دو بیگم میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے، قمرصاحب نڈھال سی آواز میں بولے۔ہائے ہائے کیا ہوا آپ کی طبیعت کو۔۔۔ خرم مانیہ ادھر توآئیں۔۔۔ ریحانہ بیگم گھبرا کراپنے دونوں بچوں کو پکارنے لگی تو وہ دونوں یونیفارم سکول کا پہنے ہوئے تھے۔

    بھاگے بھاگے آئے۔۔۔ کیاہوا ہے ممااور پاپا آ پ کیوں نہیں اٹھ رہے؟ خرم نے پوچھا۔ بیٹا آپ کے پاپا کی طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔ تو پھر ہم سکول نہیں جائیں گے مانیہ بولی۔قمر صاحب ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے نہیں نہیں بیٹا آپ سکول جاؤ۔میں نے ابھی دوائی لی ہے اور پہلے سے بہترہوں۔۔۔مگر آپ نے تو ابھی ناشتہ بھی نہیں کیا۔

    ریحانہ بیگم نے کہا کہیں آپ نے ناشتہ کیے بغیر تو دوائی نہیں لے لی۔ خرم نے پوچھا۔نہیں بیٹا صبح جب واک کیلئے گیا تھا تو میں نے وہیں ریڑھی سے نان چنے کھالئے تھے۔

 اوہ میرے خدایا آپ لوگوں کوباہر کی چیزیں کھانے منع کرتے ہیں اور آج آپ نے خود باہرسے کھایا ہے اس لئے آپ کی طبیعت خراب ہوئی ہے۔

    ہمارے ساتھ والے ہمسائے نذیر صاحب نے بھی پرسوں ریڑھی سے ناشتہ کیا تھا جس کی وجہ سے ان کو ہیضہ ہوگیا ہے اور وہ ابھی تک ٹھیک نہیں ہوئے۔ ہائے ہائے میں کیا کروں ریحانہ بیگم دونوں ہاتھ ملتے ہوئے کہنے لگیں۔

    خرم اوخرم جلدی سے اپنی خالہ رافعہ کو فون کرکے بلاؤ۔میں اکیلی جان کیسے ان کو ڈاکٹروں کے پاس لے کر جاؤں گی۔ قمر صاحب جو نڈھال سے بیڈپر لیٹے ہوئے تھے یہ سنتے ہی ہشاش بشاش ہوکر اٹھ بیٹھے کیونکہ ریحانہ بیگم کی یہ بڑی بہن جب بھی اپنے چھ سات بچوں کے ساتھ تشریف لاتی تو ان کا جینا حرام ہوجاتا۔

    بچے تو آفت تھے۔ ناہی فریح میں کوئی پھل چھوڑتے اور لگاتار گھر میں کئی دن گوشت پکتا اور ان کے پورے مہینے کا بجٹ خراب ہوجاتا۔ ریحانہ بیگم نے قمر صاحب کو ایک دم بیڈ سے اٹھ کریوں ٹھیک ٹھاک دیکھا تو بولیں۔ ارے آپ کھڑے کیوں ہوگئے ہیں؟ آپ آرام سے لیٹ جائیں۔میں آپ کیلئے سوپ بناکرلاتی ہوں۔

     سوپ نہیں میرے لئے ناشتہ لاؤ اور بچو اپنے بیگزمیں کاپیاں اور کتاب چیک کرلیں میں آ پ کی میڈم سے معذرت کرلوں گا آج ہم تھوڑا لیٹ ہوگئے ہیں اور بیگم آپ کے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں کہ کوکسی کوبلانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں۔

    پہلے قمر صاحب کاجی چاہا کہ بیگم اور بچوں کو سچ بتادوں لیکن اس سچ کا بچوں پر اثر نہ پڑجائے کہیں بچے ایسا کرنا شروع نہ کردیں۔ یہی سوچ کروہ چپ ہوگئے اور سارا راستہ ندامت کے مارے سوچتے رہے کہ واقعی بزرگوں نے سچ کہا ہے کہ ایک جھوٹ کو چھپانے کی خاطر انسان کو سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں اور سچ بولنا چاہا تو وہ میرے گلے میں ہی اٹک گیا۔

    یااللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمااور سچ بولنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔

    ادھر ریحانہ بیگم ناشتے کے برتن سمیٹتے ہوئے مسلسل بڑ بڑا رہی تھیں یااللہ! کیسازمانہ آگیا ہے۔ لوگ مہمانوں کی آمد کاسنتے ہی گھروں سے باہر نکل جاتے ہیں۔

    بیچاری میری آپا کانام سنتے ہی ایسے بیماری رفوچکر ہوئی۔ خود بھی فٹ سے تیار ہوکربچوں کو بائیک پربٹھا کر ایسے ہواؤں میں اڑا کر لے گئے گویا میری آپانہ ہوئیں کوئی اور ہی دنیا کی مخلوق ہوئیں جو سب کے سب آناََ فاناََ غائب ہوگئے۔

    نتیجہ بچو! یہ بات سچ ہے کہ خواہ کچھ بھی ہوجائے۔ آپ کاکتنا بڑا نقصان ہی کیوں نہ ہوجائے لیکن ہمیشہ سچ بولو۔

مزید :

ایڈیشن 1 -