عوامی مسائل کو وسائل کے بنیاد پر حل کئے جائیں گے، ظہیر الاسلام 

عوامی مسائل کو وسائل کے بنیاد پر حل کئے جائیں گے، ظہیر الاسلام 

  

الپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر) کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ظہیرالاسلام نے کہا ہے کہ عوامی مسائل کے حل میں ہی حکومت کی خوشی پوشیدہ ہیں،عوامی مسائل کو وسائل کے بنیاد پر حل کئے جائیں گے،کھلی کچہری کے انعقاد سے انتظامیہ اور عوام کے درمیان فاصلے ختم ہونے میں مدد ہوتی ہے۔جتنے مسائل یہاں بیان کیے گئے انکے فوری حل کیلئے عملی اقدامات اٹھائیں گے۔سرکاری افسران عوامی مسائل کے حل میں اپنا کلیدی کردار ادا کرکے فرائض پورے کریں۔ان خیالات کا اظہار کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ظہیرالاسلام نے جمعہ کے روز بشام میں منعقدہ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔کھلی کچہری میں مختلف محکموں کے ضلعی افسران،اسسٹنٹ ڈائریکٹر بلدیات آمان اللہ خان،اسسٹنٹ ڈائریکٹر ماہی پروری جعفر یحیٰ میاں،ڈسٹرکٹ آفیسر زراعت محمد جان،ڈی ایچ او عبدالوحید،ڈی او لائیو سٹاک،ڈی ایف او فارسٹ فارسٹ فیض الرحمن،ایس ڈی ایف او جہانگیر خان،ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ریونیو نواب گل،اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اورنگزیب سمیت سابق ناظمین،مشران علاقہ ودیگر نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ظہیرالاسلام نے کہا کہ موجودہ حکومت عوامی مسائل کے حل میں سنجیدہ ہیں اسلئے عوام کی دہلیز پر عوامی مسائل جاننے کیلئے تمام سرکاری مشینری سمیت آج اس عوامی عدالت میں حاضر ہیں۔انھوں نے کہا کہ اس کھلی کچہری میں جتنے مسائل بیان ہوئے وہ ماسوائے ایک دو کے تمام اجتماعی ہیں اور ہم انکے حل کیلئے بھرپور کوشش کریں گے۔کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے تمام ضلعی آفسران کو ہدایت کی کہ انکے محکمے کیساتھ جو بھی مسئلے یا شکایات بیان ہوئے ہو انکا جواب تیار کریں اور مسائل حل کریں۔کھلی کچہری کے شرکاء سے ڈپٹی کمشنر شانگلہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی خدمت اور مسائل کا حل ہمارا فریضہ ہے اور کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ظہیرالاسلام کی ہدایت پر کھلہ کچہریوں کا انقعاد کیا جارہا ہے اور عوامی مسائل تک رسائی ہورہی ہیں۔ڈی سی شانگلہ نے کھلی کچہری کے شرکاء،معززرین علاقہ،عوام اور کمشنر ملاکنڈ ڈویژن کا شکریہ ادا کیا اور انھیں شانگلہ بشام آمد پر خوش آمدید کہا۔کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ظہیرالاسلام نے اپنے خطاب کے آخر میں شانگلہ کے ضلعی آفسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا دین اسلام ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ بزرگوں مشران اور مظلوموں کا احترام قدرجبکہ ظلم کرنے والے ظالم کے خلاف کاروائی ہونی چاہئیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -