لاہو ر کے ہسپتالوں کی انسپکشن اور مانیٹرنگ کا کام ڈپٹی کمشنر کے حوالے 

      لاہو ر کے ہسپتالوں کی انسپکشن اور مانیٹرنگ کا کام ڈپٹی کمشنر کے حوالے 

  

 لاہور (جاوید اقبال)وزیر اعل پنجاب سردار عثمان بزدار نے وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد  اور ان کی ٹیم پر عدم اعتماد کرتے ہوئے انسپکشن اور مانیٹرنگ ڈپٹی کمشنر لاہور کے سپرد کر دی ہے وزیر اعلی پنجاب کی طرف سے ملنے والے احکامات کی روشنی میں ڈی سی نے  8 ٹیمں تشکیل دے دی ہے  جو ہسپتالوں پر چھاپے ماریں گی بتایا گیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت کے ٹیچنگ اینڈ ڈسٹرکٹ ہسپتال ڈپٹی کمشنر لاہور اور ان کے افسروں کے حوالے کردیے ہیں اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر لاہور نے ایک باقاعدہ طور پر نوٹی فکیشن جاری کر دیا ہے جس میں تمام ہسپتالوں کو ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اسسٹنٹ کمیشنر ایڈمنسٹریٹر میں تقسیم کر دیا  گیاہے ایک افسر کو دو دو ہسپتال دیے گئے ہیں جو یومیہ بنیادوں پر ہسپتالوں کی مانیٹرنگ اور انسپکشن کریں گے اور ہر روز کی رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کی جائے گی ماہرین صحت اور ہیلتھ پروفیشنلز کا کہنا ہے کہ درحقیقت محکمہ صحت کے افسر و کی بجائے ڈپٹی کمشنر اور ان کے متعدد افسروں کو ہسپتالوں کی مانیٹرنگ اور انسپکشن کا کام سونپے جانا وزیراعلی کا وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد اور ان کی ٹیم پر اظہار عدم اعتماد ہے  ڈپٹی کمشنر لاہور کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈپٹی کمشنر لاہور  کے ہسپتالوں  کو آٹھ  حصوں میں تقسیم کر دیا ہے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈکوارٹر کو گنگا رام ہسپتال اور جانکی دیوی ہسپتال کی انسپکشن اور مانیٹرنگ کا کام دیا گیا ہے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کہ ذمہ تین ہسپتال ہوں گے لیڈی ولنگڈن سید میٹھا اور پنجاب ڈینٹل ہسپتال کی انسپکشن ہوگی سینر ایڈمنسٹریٹر آفیسر کے ذریعے سروسز ہسپتال اور پنجاب کارڈیالوجی اسسٹنٹ کمشنر ہیڈکوارٹر کے ذمہ شاہدرہ ٹیچنگ اسپتال اور میاں منشی اسپتال ہونگے اے سی  سٹی کو تین ہسپتال دیئے گئے ہیں میو ہسپتال لیڈی ایچیسن اور گورنمنٹ مزنگ اسپتال اسسٹنٹ کمشنر ماڈل ٹاون کے ذمے چلڈرن ہسپتال گلاب دیوی اسپتال اور لاہور جنرل ہسپتال ہوں گے اسسٹنٹ کمشنر شالیمار کوٹ خواجہ سعید ہسپتال کے ذمہ دار ہوں گے جبکہ اسسٹنٹ کمشنر رائیونڈ کو جناح ہسپتال اور شیخ زید ہسپتال کی انسپکشن اور مانیٹرنگ کی ذمہ داری دی گئی ہے یہ آفیسرز ان روزانہ ہسپتالوں کی انسپکشن کریں گے اور اپنی رپورٹ ڈپٹی کمشنر کو ارسال کریں گے جو وزیر اعلی کو یومیہ بنیادوں پر فراہم کریں گے اس حوالے سے ہیلتھ پروفیشنلز اور ڈاکٹرز تنظیموں کا کہنا ہے کہ در حقیقت ہے یہ وزیر اعلی کا ڈاکٹر یاسمین راشد وزیر صحت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بھی ہے اور ریڈ نشان بھی جسے عرف عام میں کہا جاسکتا ہے کہ وزیر اعلی نے پنجاب کی وزیر صحت کی کارکردگی پر عدم اعتماد کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو محکمہ صحت میں سینکڑوں لوگ موجود ہیں جو انسپکشن کرسکتے ہیں ڈی  جی آفس موجود ہے  دوسری طرف پیشنٹ پروٹیکشن کونسل آف پاکستان کے عہدے داروں نے کہا کہ یہ آفیسر اپنے کام کر نہیں سکتے تو ہسپتالوں کو کیسے سنواریں گے پورا شہر گندگی کا ڈھیر بنا ہوا ہے تجاوزات عام ہیں گرانفروشی ہر طرف چھائی ہوئی ہے صفائی کا نظام انتہائی ناقص ہے یہ افسر  اپنے کام کرتے نہیں ہسپتالوں کا کیسے کام کریں گے۔

عدم اعتماد 

مزید :

صفحہ اول -