سیڈ کونسل کا اہم اجلا س، زرعی اجناس کی  47اقسام منظور، ریسرچ پر مزید توجہ دی جائے حسین جہانیاں 

سیڈ کونسل کا اہم اجلا س، زرعی اجناس کی  47اقسام منظور، ریسرچ پر مزید توجہ دی ...

  

   ملتان (سپیشل رپورٹر) زرعی سائنسدان فصلوں کی ایسی نئی اقسام کی تیاری پر توجہ دیں جو جاری موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرسکیں اور بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت کی حامل ہونے کے ساتھ زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل ہوں جس سے زرعی فی ایکڑ پیداوار اور کاشتکاروں کے منافع میں اضافہ ہو سکے۔ یہ بات صوبائی وزیر زراعت سید حسین جہانیاں گردیزی نے زراعت ہاؤس میں پنجاب سیڈ کونسل کے 54ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں پبلک پرائیویٹ سیکٹر کی زرعی اجناس کے بیجوں کی 47 نئی اقسام کی منظوری دے دی گئی جن میں 7 بی ٹی کپاس، 2 کھجور، 3 مونگ، 2 مٹر، 2 مونگ پھلی، 2 باجرہ، 1 گوار، 2 لوسرن، 3 دھان کی باسمتی اور 1 ہائبرڈ باسمتی، 5 مکئی کی (بقیہ نمبر44صفحہ6پر)

ہائبرڈ اقسام اور 1 مکئی کی عام قسم، 1 قسم بالترتیب شلجم، مولی اور ادرک، 2 آلو کی اقسام، 1 کینولہ، 2 بارانی گندم اور 2 آبپاش گندم کی اقسام کے علاوہ 2 بیر، 1 تلسی، 1 سٹویا اور 1 باجرہ کی اقسام شامل ہیں۔ اس موقع پر وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے نئی اقسام کی تیاری پر زرعی سائنسدانوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ریسرچ ٹرائلز کو مزید بہتر کرنے کی ہدایت کی اور آئندہ کے لئے پنجاب سیڈ کونسل میں زرعی اجناس کی اقسام کی منظوری کو ورائٹی رجسٹریشن اور ڈی این اے فنگر پرنٹنگ سے مشروط کر دیا گیا اور اس میں زرعی اجناس کی نئی اقسام کی دریافت کرتے وقت معیار کو برقرار رکھنے کی ہدایات کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ اقسام کی دریافت کی بجائے ایسی اقسام دریافت کی جائیں جو فیلڈ میں بہتر رزلٹ دے سکیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ پچھلی حکومتوں نے زراعت اور بیج کی اہمیت کو فراموش کیا جبکہ موجودہ حکومت معیاری بیج کی تیاری پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ عالمی معیار کے بیج سے ہم زرعی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کر سکیں جس سے ملکی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ ہمارے ملک میں روایتی زراعت کے علاوہ کھجور اور پھلوں کی پیداوار میں اضافہ کے مواقع موجود ہیں۔ وزیر زراعت نے جدید ہارویسٹنگ ٹیکنالوجی کو متعارف کروانے پر زور دیا۔ انھوں زرعی سائنسدانوں پر زور دیا کہ وہ ایسی اقسام دریافت کریں جو فیلڈ میں پانچ سال یا اُس سے زیادہ عرصہ تک کاشتکاروں کی پیداواری لاگت کو کم رکھتے ہوئے منافع کا باعث بن سکیں۔ قبل ازیں اجلاس میں وزیر زراعت پنجاب نے ایک کمیٹی بنانے کی ہدایت کی جو کپاس کی نئی اقسام کو مقرر کردہ بین الاقوامی معیار کے مطابق جانچ کرے گی اور اس میں آپٹما، ڈائریکٹر جنرل (ریسرچ) اور پرائیویٹ سیکٹر کے ماہرین کی نمائندگی ہوگی۔ اجلاس میں اسپیشل سیکرٹری زراعت وقار حسین، ایم ڈی پنجاب سید کارپوریشن محمد خالد راجو، ڈائریکٹر جنرل زراعت (توسیع) ڈاکٹر انجم علی، ڈائریکٹر جنرل زراعت (ریسرچ) ڈاکٹر ظفر اقبال، ڈائریکٹر کاٹن ڈاکٹر صغیر احمد، ڈائریکٹر نظامت زرعی اطلاعات پنجاب محمد رفیق اختر سمیت پنجاب سیڈ کونسل کے ممبران اور پبلک و پرائیویٹ سیکٹر کے بریڈرز حضرات کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔ وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی کی زیر صدارت ایگریکلچر ہاؤس لاہور میں پنجاب سیڈ کونسل کے منعقدہ54ویں اجلاس میں  سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ، ملتان کی بی ٹی سی آئی ایم 343اور بی ٹی سی آئی ایم663کو پنجاب میں عام کاشت کے لیے منظوری دے دی گئی پنجاب بھر کے زرعی سائنسدانوں نے اس اجلاس میں شرکت کی یہ اقسام ریشہ کی اعلیٰ خصوصیات کے ساتھ ساتھ وائرس کے خلاف قوت مدافعت رکھنے اور زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل ہیں وائس پریزیڈنٹ پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی، ڈاکٹر محمد علی تالپور نے سی سی آر ٓئی ملتان کے ڈائریکٹر اور تمام زرعی سائنسدانوں خاص کر بریڈنگ سیکشن کے زرعی ماہرین اور دیگر سٹاف کو مبارکباد پیش کی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں بھی پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کے تحقیقاتی ادارے کاشتکاروں کو کپاس کی بہترین اقسام روشناس کرانے کی سابقہ روایات برقرار رکھے گا،  ڈائریکٹر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ڈاکٹر زاہد محمود نے بتایا کہ منظور شدہ اقسام زیادہ گرمی برداشت کرنے اور کم دستیاب پانی میں بہترین پیداوار دینے کی صلاحیت رکھتیں ہیں اور ان اقسام کا پیداواری پوٹینشل 50من فی ایکٹر تک ہے۔ سی سی سی آر آئی ملتان کی ان منظورشدہ اقسام اور دیگر اقسام سے نہ صرف ملک میں کپاس کی ترقی و بحالی میں پیشرفت ہوگی بلکہ کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ڈائریکٹر سی سی آر آئی ڈاکٹر زاہد محمود کا مزید کہنا تھا کہ کپاس کے تمام کاشتکار بلا تفریق ان منظورشدہ اقسام کا بیج اور دیگر اقسام کے بیج سرکاری نرخ پر ادارہ ہذا سے دفتری اوقات میں پہلے آئیے اور پہلے پائیے کی بنیاد پر 250روپے فی کلو کے حساب سے حاصل کر سکتے ہیں۔ڈاکٹر زاہد محمود کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے کاشتکار اچھی مینجمنٹ کا خصوصی خیال رکھیں اور کاشتہ کپاس کی پیداواری ٹیکنالوجی کو سامنے رکھ کر کاشت کاری کے امور ٹھیک سے سرانجام دیں تو وہ بہت اچھی فی ایکڑپیداوار لے سکتے ہیں۔

حسین جہانیاں گردیزی

مزید :

کامرس -