صدارتی ایوارڈ یافتہ خطاط خورشید عالم گوہر کی یاد میں تعزیتی ریفرنس

  صدارتی ایوارڈ یافتہ خطاط خورشید عالم گوہر کی یاد میں تعزیتی ریفرنس

  

 ملتان  (اے پی پی)صدارتی ایوارڈ یافتہ خطاط خورشید عالم گوہر قلم کی وفات اس فن کا ایسا نقصان ہے جو کبھی پورانہیں ہوسکے گا۔ وہ حافظ یوسف سدیدی کے شاگرد تھے اورانہوں نے اپنی کتابوں اور شاگردوں کے ذریعے فن خطاطی کو نئی زندگی دی۔ان خیالات کااظہار ملتان آرٹس کونسل کے زیراہتمام سخن ورفورم کی ادبی بیٹھک میں خورشید عالم گوہر قلم کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس کے دوران مختلف قلم کاروں نے اظہارخیال کرتے ہوئے کیا۔تقریب کی (بقیہ نمبر22صفحہ6پر)

صدارت معروف خطاط راشد سیال نے کی۔مہمان خصوصی خورشید عالم کے صاحبزادے ظاہر خورشید تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے راشد سیال نے کہاکہ وہ ایک درویش منش انسا ن تھے۔ انہوں نے کئی سال کی محنت کے بعد فیصل مسجد کے لیے چارمن وزنی قرآن پاک کی خطاطی کی۔فیصل مسجد میں اس قرآن پاک کے 30پارے الگ الگ باکس میں رکھے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ داتادربارسمیت بے شمار مساجد اورمزارات پر انکا فن دیکھنے کو ملتا ہے۔داتادربار کی دیواروں پر 308فٹ طویل سورہ رحمان اور 108فٹ طویل درود تاج خورشید عالم کے فن کا ہی نمونہ ہے۔شاکر حسین شاکر نے کہاکہ ایسی شخصیات اب ختم ہوتی جارہی ہیں۔ قمررضا شہزاد نے کہاکہ یہ ان کا ہنر تھاکہ ان کے لکھے ہوئے لفظ گفتگو کرتے دکھائی دیتے تھے۔استادخورشید عالم کی شاگردماریہ وقاص نے کہاکہ میں نے ان سے فن خطاطی کے رموز سیکھے۔وہ اپنے بچوں کی طرح میرا خیال رکھتے تھے۔مختار علی نے کہاکہ وہ ایک محبت کرنے والے انسان تھے۔ سبطین رضا لودھی نے کہاکہ مختلف سڑکیں اور مقامات ایسے فنکاوروں اورمشاہیر سے منسوب کیے جائیں۔اکمل اویسی نے کہاکہ انہوں نے فن خطاطی کے حوالے سے جو کتب لکھیں آج کی نسل کو ان کامطالعہ ضرورکرنا چاہیے۔ایس پی او کے ریجنل کوارڈینیٹر شاہ نوازخان نے کہاکہ ایسی ہستیاں ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ان کی عمربھر قرآن پاک کے ساتھ وابستگی رہی اوریہی ان کی بخشش کاوسیلہ ہے۔تقریب میں مستحسن خیال، مسیح اللہ جامپوری، رضوانہ شاہین، مبشر کلیم،ارشد بخاری، جمیل اصغر بھٹی، تحسین غنی، ڈاکٹر واجد برکی،سجاد ملک سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افرادنے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

تعزیتی ریفرنس

مزید :

کامرس -