دستک

دستک
دستک

  

ایک پرانی بوسیدہ ڈائری آج مدت بعد ملی، اس سبز   بوسیدہ ڈائری کے کچھ پنے پلٹے تو ماضی ہنوز وہی کھڑا تھا اپنے پورے جوبن پر مسکراتا ہوا منڈیر پر شام کے سائے منڈلانے لگے تھے اور ایسا ہی ایک سیاہ سایہ میری ذات سے لپٹنے لگا جس نے میری سوچوں کے تسلسل میں طلاطم خیز شور برپا کیا اور میں نے ان دیکھی دنیا میں قدم رکھ دیا کھڑکی کے عقب سے ڈوبتے سورج نے سیاہی کا پیغام دیا اور میں اس سوچ کی منجمد دھاروں میں بہنے لگی ۔

پریشان کیوں ہو؟ "دل نے سوال کیا" 

جب سیراب کے پیچھے بھاگو گی تو ایسا ہی ہوگا، "روح نے جنجھوڑ کے جواب دیا" 

 سرد جنوری کی شام میں سیاہی اپنے پورے جوبن پہ تھی! یہ مضبوط تخیل والے لوگ بھی عجیب ہوتے ہیں کبھی صدیوں آگے تو کبھی صدیوں پیچھے! 

سنو! کیا تھک گئی ہو؟ "اب کی بار ضمیر سے سوال آیا" 

نہیں اپنا رستہ الگ کر لیا ہے_! "دل نے جواب دیا" 

یہ اداسی میرے وجود کو چیرتی ہوئی گزر رہی تھی_! 

کیا اس اداسی کا کوئی حل ہے؟ ذہن میں یہ سوال گردش کرنے لگا_! ہاں موت "دل نے رستہ دکھایا" 

تھک گئی ہو تو ٹھہر جاؤ لیکن موت نہ مانگو یہ حل نہیں ہے__! "مزید لتاڑا گیا" 

سانسیں اکھڑنے لگی_! 

تم تسلیم کر چکی ہوں کہ تمہارے خواب بکھر گئے ہیں اب خاموش تماشائی بن جاؤ__! دل نے مشورہ دیا 

اضطراب مزید بڑھنے لگا! یخ بستہ ٹھٹھرتی ہوئی شام میں بھی پسینہ سے شرابور ہو گئی!! 

تمہیں کبھی نور نہیں ملے گا تھک جاؤ گی چھوڑ دو یہ ضد باطن سے ایک پراسرار آواز ابھری__! 

گناہوں کی دلدل میں پھنسی ہوئی لڑکی رہنما کی تلاش میں نکلی ہے جس کا دامن گناہوں سے داغدار ہے یہ ناممکن ہے کہ بھٹکی ہوئی لڑکی کو نور یا رہنما ملے! دل نے ایک اور جواز پیش کیا!! 

نہیں_! اپنی پوری شدت سے چیخی کہ کن پٹیوں سے خون کا اخراج ہونے لگا_! 

 رات کے پہر میں ایک ٹمٹماتا ہوا جگنو نمودار ہوا، زمین ساکت ہوئی_! 

ایک ترنم اور دلسوز آواز ابھری__! سنو 

آنسو لڑھک کر اس بوسیدہ ڈائری میں جذب ہوا_! 

سوالات کا تسلسل شروع ہوا__!! 

کیا چاہتی ہو؟ سوال پوچھا گیا 

نور اور رہنما__! جواب دیا گیا 

اس کی عملی اور حقیقی شکل کیا ہوگی؟ کیا اس سے مراد کوئی مرشد ہے؟ 

جی شاید__! جواب دیا گیا 

خواہشات کیا ہے؟ جو ابھی تک کامیابی تک نہیں پہنچی پھر سوال کیا گیا_! 

میں بھٹک جاتی ہوں! یہ چند کاغذ کے ٹکڑے میری کامیابی نہیں ہے! جواب دیا گیا 

وہ تو ہر سوچ رکھنے والا انسان بھٹک جاتا ہے_! جواب ملا 

مجھے روح کا سکون چاہیے؟ سوال پوچھا گیا 

وہ کیسے مل سکتا ہے الٹا سوال کیا؟ 

مجھے لوگ کہتے ہیں آپ نفسیاتی مریض ہو_! 

کیا سوچنے والا نفسیاتی مریض ہوتا ہے؟ الٹا سوال کیا گیا_! 

ہر معاملے میں ہر ماہر کی طرف رجوع کرنا بھی مرشد کی اطاعت کہلاتا ہے_! حل بتایا گیا 

میری ذات سیاہ ہو چکی ہے_ ایک نئی بات بتائی 

یہ کیسے آپ نے تعین کر لیا_! ایک بار پھر سوال آیا 

کتھارسس ہے یہ سب اور کچھ نہیں__ سمجھایا گیا!! 

کیا بات کرنے سے مسائل کا حل ہو جانا ہے؟ 

ہاں! کیوں نہیں جواب دیا گیا__! 

نماز کبھی کبھی پڑھتی ہوگی_! سوال کیا گیا 

پڑھتی ہوں مکمل نہیں_جواب دیا گیا 

قرآن مجید کی تلاوت کرتی ہوں اور کونسی دعائیں پڑھتی ہو؟ ایک بار پھر سوال آیا 

کیا میں کچھ سجسیٹ کرو تو خرید لو گی؟ 

جی پھر جو چاہتی ہوں مجھے ملے گا کیا؟ سوال کیا 

جی کیوں نہیں سمجھایا گیا__! 

قرآن پڑھنے اور دعا پڑھنے کی ہدایت دی گئی_! 

نجانے ایسا کیوں لگا جیسے منزل مل جائے گی! جگنو کی روشنی تیز ہوئی! ہواؤں نے سرگوشیاں کی_! 

ایک نیا مسئلہ بتایا گیا! مجھے میری دوست نے گمراہ کہا اور شیطان سے تشبیہ دی! 

ایسے لوگوں سے دور رہو اور اسے کہنا میں شیطان ہی ٹھیک ہوں تم نے کونسا رحمن کے بندوں والی بات کی_! نہایت شائستگی سے جواب دیا گیا! 

آپ کو کون کون سے کام کرنے سے خوشی ملتی ہے؟ 

ایسے کام جن سے خوشی ملتی وہ زیادہ کرنے ہیں__! 

منفرد انداز سے سمجھایا گیا کہ ضمیر ماننے پر راضی ہو گیا__! 

کونسے کام کرنے سے دل مطمئن نہیں ہوتا؟ 

کام بتائے گئے__! 

ٹھیک ہے ایسے کام کرنا کم کر دیں، لیکن بالکل ترک نہیں کرنا_! 

کچھ بنا کر تقسیم کرنا کیسا لگتا ہے؟ سوال پوچھا گیا 

بہت اچھا_!!جواب دیا 

یہ اچھا عمل ہے تقسیم اور صدقہ خیرات کرنے سے سکون ملتا ہے ضرور کیا کریں__! مخلص مشورہ دیا گیا 

اپنے دکھ کا اظہار ہر شخص سے کرنا ضروری ہے؟ ایک نیا سوال آیا_! 

نہیں__! 

تو بس آج کے بعد اپنے کسی دکھ کا اظہار واٹس ایپ پہ یا کسی سے بھی نہیں کرنا نہ ہی اپنی کسی کمزوری اور دکھ کو کسی بھی شخص سے ذکر کرنا ہے_! 

میں مکمل نماز نہیں پڑھتی_! مزید بتایا گیا 

نماز پڑھنا یا نہ پڑھنا یہ آپ کا ذاتی مسئلہ یے۔اہم یہ ہے کہ خدا سے رابطہ نہ ٹوٹے۔۔خدا پرست نہیں خدا شناس ہونا ہے اس کے لیے بہترین چیز دعا ہے مناجات ہیں صدقہ ہے۔ "رائے دی گئی" 

میری زندگی میں اندھیرا ہے میں اندھیروں کی شہزادی ہوں_!! 

یہ بات کس نے ذہن میں ڈال دی! آپ کی زندگی میں روشنی ہے امید ہے! بتایا گیا 

وہ بس اسکی آواز سن سکتی تھی_ سرسراتی سرگوشیاں کرتی آواز__ 

وہ اسے کھلی آنکهوں سے اپنے آس پاس تلاش کر رہی تھی_ آواز اسکے بہت قریب سے ابھر رہی تھی لیکن کہیں بھی اسکا وجود نہيں تھا۔ 

دلسوز آواز_ سحر انگیز لہجہ اور طلسماتی نظر نہ آنے والا وجود_اپنے طلسم میں لپیٹنے والا، انتہائی منفرد 

اسے سمجھ نہيں آتی تھی کہ اسے کیا نام دے؟؟ 

رہنماؤں کی دنیا میں خوش آمدید مرحبا__!! 

اچانک دھند کے مرغولے اٹھنے لگے! اور اس کے ساتھ ہی بہت سے راز آشکار ہوئے!! 

بوسیدہ ڈائری بند کرتے تینوں ڈمپل پراسرار طریقے سے نمودار ہوئے اور ضمیر نے اس رہنمائی کو عملی جامہ پہنانے کی جستجو شروع کر دی__!!

 ۔

     نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -