انوکھے ترین مقدمے میں جج نے 12 دن کے بچے کو مارنے کی اجازت دے دی

انوکھے ترین مقدمے میں جج نے 12 دن کے بچے کو مارنے کی اجازت دے دی
انوکھے ترین مقدمے میں جج نے 12 دن کے بچے کو مارنے کی اجازت دے دی

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ایک انوکھے ترین مقدمے میں عدالت نے 12دن کے بچے کو ابدی نیند سلانے کی اجازت دے دی۔ میل آن لائن کے مطابق یہ بچہ پیدائش کے بعد سے وینٹی لیٹر پر موجود ہے اور اس کے بچنے کا کوئی امکان نہیں چنانچہ ڈاکٹر اسے وینٹی لیٹر سے ہٹانا چاہتے تھے لہٰذا اس کی اجازت کے لیے عدالت سے رجوع کیا گیا تھا۔ اس بچے کا نام ڈینی ہے جس کی 18سالہ والدہ ڈینیئلی جونز کو 17جنوری کو ہسپتال لایا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق برطانوی شہر برسٹل کی رہائشی ڈینیئلی اپنے والدین کے گھر میں تھی جہاں بے ہوش ہو کر گر گئی۔ اسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کی موت واقع ہو گئی۔ ڈاکٹروں نے آپریشن کے ذریعے اس کے پیٹ میں موجود بچے کی پیدائش کروائی تاکہ اس کی جان بچائی جا سکے لیکن بچے کے دماغ کو تب تک شدید نقصان پہنچ چکا تھا۔ پیدائش کے بعد سے بچہ انتہائی نگہداشت وارڈ میں وینٹی لیٹر پر ہے۔ عدالت کے جج جسٹس ہیڈن کو بتایا گیا کہ ڈینیئلی غیرشادی شدہ تھی اور اس نے کسی کو نہیں بتایا تھا کہ وہ ماں بننے والی ہے۔ جب وہ بے ہوش ہو کر گری اور اسے ہسپتال لیجایا گیا تب اس کے حاملہ ہونے کے بارے میں اس کے والدین کو علم ہوا۔ ماہر ڈاکٹروں کی عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈینی کے ذہن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، چنانچہ اسے لائف سپورٹ مشین سے اتار کر آسان موت دے دینی چاہیے۔ جس پر عدالت نے ہسپتال کو یہ اجازت دے دی۔

مزید :

برطانیہ -