مولانا فضل الرحمان، امیر مقام اور اسفند یار بھی صحت کارڈ سے ۔۔۔صوبائی وزیر اطلاعات  کامران خان بنگش نے ایسی بات کردی کہ آپ بھی مسکرا اٹھیں

مولانا فضل الرحمان، امیر مقام اور اسفند یار بھی صحت کارڈ سے ۔۔۔صوبائی وزیر ...
مولانا فضل الرحمان، امیر مقام اور اسفند یار بھی صحت کارڈ سے ۔۔۔صوبائی وزیر اطلاعات  کامران خان بنگش نے ایسی بات کردی کہ آپ بھی مسکرا اٹھیں

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)خیبر پختونخوا(کے پی کے)حکومت کے وزیر اطلاعات و ہائرایجوکیشن کامران خان بنگش نے کہا ہے کہ صوبے میں وزیراعظم عمران خان اور ریاست مدینہ کے ویژن کے مطابق عوام کو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں،صوبائی حکومت نے شہریوں کو صحت کارڈ دئیے، جس کے تحت دس لاکھ تک علاج مفت کرایاجاسکتاہے،مولانا فضل الرحمان، امیر مقام اور اسفندیار بھی صحت کارڈ سے دس لاکھ روپے کا علاج کروا سکتے ہیں۔

لاہور پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس میں گفتگو کرتے ہوئے کامران خان بنگش کا کہنا تھا کہ پشاور بی آر ٹی پر سیاست کی گئی مگر ہم عوام کو سہولت دے رہے ہیں،ہمارے بی آر ٹی کو ناکام بنانے کی کوشش کی گئی جو ہمارا کامیاب منصوبہ ہے ،ہم روزانہ دو لاکھ تک افراد کو ٹرانسپورٹ مہیا کر رہے ہیں، سوات ایکسپریس وے فیز ون کو مکمل کیا،پچھلے دو ماہ میں گلیات میں سات لاکھ سے زائد سیاح آئے،صوبے میں آٹھ نئے سیاحتی زون بنانے کے ٹارگٹ میں سے چار سیاحتی مقامات کو ہم بنا چکے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ تیس سال ایک جنگ سے گزرے ہیں، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے تحت 17 اکنامک زون بنا دئیے گئے ہیں، کے پی کے پہلا صوبہ ہے جہاں رسکئی اکانومی زون میں دو لاکھ لوگوں کو روزگار ملے گا ، کے پی کے میں ماربل انڈسٹری کو فروغ دینے کے لئے چکرال اکنامک زون بنا رہے ہیں جبکہ توانائی کے شعبے میں انقلابی اقدامات کئے ہیں اور ساڑھے تین سو چھوٹے پن بجلی کے منصوبے بنائے ہیں،خیبر پاس اکنامک زون ہمارے لوگوں کے لئے نئی معاشی سرگرمیاں لے کر آئے گا،چشمہ رائٹ بنک کنال سے صوبے میں زرعی انقلاب آئے گا  اوردو  لاکھ 60 ہزار ایکڑ سے زائد زمین قابل کاشت بن جائے گی، تعمیراتی شعبے میں ترقی کی جانب بڑھتے ہوئے نئی رہائشی سوسائٹیاں بنائی جارہی ہیں اور کے پی کے میں بلند و بالا عمارتیں بنانے کی اجازت دے دی ہے۔

 کامران خان بنگش کا کہنا تھا کہ علماءکرام کو حکومت جون 2021ء سے فی کس ماہانہ دس ہزار روپے دے گی جس سے وہ عزت نفس کو برقرار رکھتے ہوئے ضروریات زندگی کو بہتراندازمیں ادا کرسکیں گے،صوبے میں سات پناہ گاہیں بنائی ہیں، اب ہم اس کو 34 اضلاع میں لے کر جا رہے ہیں،فاٹاکے سات قبائل ختم ہو کر کے پی کے کا حصہ بن چکے،جہاں کبھی 20 ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبے نہیں ہوئے اسے ہم 70 ارب روپے تک لے کر جائیںگے، فاٹا انضمام کو سیاسی پنڈت  نا ممکن قرار دیتے تھے لیکن ہم نے وہ کر کے دکھایا ہے،ہم نے قبائل میں ایف سی آر کا قانون ختم کیا، سیاسی کرپٹ ٹولوں کا خاتمہ اپنی کارکردگی سےکیا ۔

ان کا کہناتھاکہ کالا باغ ڈیم اور بھاشا ڈیم پر ایک غیر جانبدار کمیشن بننا چاہئیے تاکہ جو بھی اس پر سیاست کرے اس کا احتساب ہو ،پشاور اور گومل یونیورسٹی خسارے میں اس کے لئے ہم بہترین اقدامات کرنے جا رہے ہیں، مالم جبہ سکینڈل کو ایک پروپیگنڈا ٹول بنا کر پیش کیا جارہا ہے،مالم جبہ پر ٹیکنیکل ایشو آرہا ہے، دلیپ کمار اور راج کمار کی حویلیوں کے بارے مالکان کیساتھ رابطے میں ہیں، پنجاب اور کے پی کے وزیر اعلیٰ دونوں ہی عاجز ،اپنے کام سے مخلص اور ایماندارہیں ۔ 

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -