جنوبی کوریا میں سگریٹ کی فروخت میں اضافہ

جنوبی کوریا میں سگریٹ کی فروخت میں اضافہ
جنوبی کوریا میں سگریٹ کی فروخت میں اضافہ

  

سیول (رضا شاہ)جنوبی کوریا کی وزارت خزانہ نے جمعہ کو بتایا کہ جنوبی کوریا میں سگریٹ کی فروخت گزشتہ سال 4.1 فیصد بڑھ گئی ہے اور اس کی بڑی وجہ کوویڈ 19 کی وجہ سے بیرون ممالک سفر میں کمی کی وجہ سے ڈیوٹی فری چینلز کے ذریعے سگریٹ کی خریداری میں مشکلات بھی ہیں۔

وزارت اقتصادیات اور خزانہ کے مطابق جنوبی کوریا میں تمباکو کے خریداروں نے گزشتہ سالوں کے 3.45 بلین 20 سیگریٹ والے پیک کے مقابلے میں سن 2020 میں 3.59 بلین سگریٹ پیک خریدے تھے۔وزارت نے بتایا کہ ملک میں سگریٹ کی فروخت میں اضافہ اس وقت ہوا جب کورونا کی وجہ سے بیرون ملک سفر میں کمی کے باعث ڈیوٹی فری شاپوں پر تمباکو کی فروخت میں تیزی سے کمی واقع ہوئی جس کی وجہ سے ملک کے اندر سگریٹ کی فروخت میں اضافے میں مدد ملی۔اس سے پہلے ملک میں جنوری 2015 میں سگریٹ کی قیمتوں میں 80 فیصد اضافہ کیا گیا تھا اور سگریٹ نوشی کو کم کرنے کے اقدام میں ہر سگریٹ کے پیکٹ پر تقریباً 2 ڈالر اضافہ کیا گیا تھا۔

لیکویڈ سے استعمال ہونے والے الیکٹرانک سگریٹ کی فروخت میں 97.6 فیصد کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ حکومت نے لوگوں کو سختی سے مشورہ دیا تھا کہ ایسے سگریٹ کا استعمال نہ کریں اور متنبہ کیا تھا کہ اس طرح کی مصنوعات پھیپھڑوں کی سنگین بیماری یا موت کا سبب بن سکتی ہے۔صحت حکام کے مطابق سن 2019 تک 19 سال یا اس سے زیادہ عمر کے کوریا کے مردوں میں تمباکو نوشی کی شرح 35.7 فیصد کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔

مزید :

بین الاقوامی -