حمزہ شہباز ،ن لیگ کا ونڈر بوائے
پاکستان کی سیاست میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں، جو خاموشی سے منظرنامے میں موجود رہتے ہیں، مگر اچانک فضا میں سرگوشیوں، ملاقاتوں اور غیر محسوس سرگرمیوں کے ذریعے اپنی موجودگی کا احساس دلا دیتے ہیں۔ میاں حمزہ شہباز شریف بھی انہی ناموں میں سے ایک ہیں۔ وہ سیاسی میدان میں پچھلے تقریباً دو برس تک بظاہر خاموش رہے، مگر اب اقتدار کی راہداریوں، پارٹی حلقوں اور لاہور کے سیاسی مرکز میں دوبارہ زیرِ بحث ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ وہ واپس آ رہے ہیں یا نہیں، سوال یہ ہے کہ وہ کس کردار ،کس کی اجازت، کس کی خواہش یا کس کی ضرورت پر واپس آ رہے ہیں۔
1999 میں جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء کے بعد جب شریف خاندان سیاسی جلاوطنی، مقدمات اور دباؤ کا شکار تھا، اس وقت ایک نوجوان میاں حمزہ شہباز شریف کو بغیر والدین کے بطور ضمانت پاکستان میں رکھا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب سیاست میں رہنا جرم بن چکا تھا اور شریف خاندان کی ہر حرکت کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔اسی دور نےمیاں حمزہ شہباز کی سیاسی نفسیات، برداشت اور خاموش مزاجی کی بنیاد رکھی۔ وہ سیاست میں آئے تو ضرور، مگر شور، نعرے اور جارحانہ بیانات کے بغیر۔میاں شہباز شریف کی سیاست ہمیشہ انتظامی کارکردگی، ورکنگ ریلیشن شپ اور بیوروکریسی کے ساتھ ہم آہنگی کے گرد گھومتی رہی ہے اور حمزہ شہباز اسی اسکول آف تھاٹ کی پیداوار ہیں۔
2009 سے 2018 تک جب میاں محمد شہباز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے، اس دوران میاں حمزہ شہباز شریف صوبائی سیاست میں خاموش مگر مؤثر کردار ادا کرتے رہے۔ وہ سپیشل کیبنٹ کمیٹی کے سربراہ رہے، ایک ایسا فورم جہاں فائلیں، فیصلے اور کارکردگی کی بنیاد پر سیاست کی جاتی ہے، نہ کہ کیمروں کے سامنے۔
میاں حمزہ شہباز شریف کی سب سے بڑی سیاسی طاقت ان کا مزاج ہے۔ وہ ٹھنڈے دماغ سے بات کرنے والے، کم بولنے اور زیادہ سننے والے سیاست دان سمجھے جاتے ہیں۔ پارٹی کے پرانے ورکرز آج بھی یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ میاں حمزہ شہباز ان چند رہنماؤں میں سے ہیں جو کارکن کے گھر خوشی اور غم دونوں میں پہنچتے ہیں، فون سنتے ہیں اور وعدہ کر کے غائب نہیں ہو تے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے وہ کارکن جو ماضی میں میاں شہباز شریف کے گرد گھومتے تھے، آج وہ میاں حمزہ شہباز کے نام پر متحرک دکھائی دیتے ہیں۔
سیاست میں مقبولیت صرف جلسوں سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ رابطے، اعتماد اور تسلسل سے بنتی ہے۔میاں حمزہ شہباز شریف کی مقبولیت کا دائرہ شاید ٹی وی سکرین پر کم دکھائی دے مگر پارٹی کے اندر، خصوصاً پنجاب میں وہ اب بھی ایک قابلِ قبول چہرہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور میں نیب کے سابق دفتر، جسے کبھی سیاسی انتقام کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج وہاں میاں حمزہ شہباز شریف کی ٹیم کا بیٹھنا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی علامت بھی ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے اقتدار میں آنے کے بعد تقریباً دو سال تک میاں حمزہ شہباز مکمل طور پر پس منظر میں رہے۔ نہ بیانات، نہ جلسے، نہ میڈیا پر موجودگی مگر اب حالات بدلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ پارٹی کے اندر یہ گفتگو عام ہے کہ میاں حمزہ شہباز اورمیاں سلمان شہباز دونوں کو سیاسی طور پر متحرک ہونے کا پیغام دیا گیا ہے۔ یہ پیغام پارٹی قیادت کی جانب سے ہے یا مقتدر حلقوں کی خاموش خواہش، اس پر آراء مختلف ہیں مگر سیاسی فضا میں یہ اشارے واضح ہو چکے ہیں کہ شریف خاندان کے اگلے مرحلے کی تیاری شروع ہو گئی ہے۔یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے کہ کیا حمزہ شہباز شریف کو میاں محمد شہباز شریف کے متبادل کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے یا وہ محض ایک انتظامی چہرہ ہوں گے جو ضرورت کے وقت سامنے آئے گا؟ یا پھر انہیں ایک ایسے سیاست دان کے طور پر آگے لایا جا رہا ہے ،جو مقتدر حلقوں کے لیے قابلِ قبول ہو، نرم مزاج ہو اور تصادم کی سیاست سے دور رہے؟
پاکستانی سیاست میں یہ سوالات غیر ضروری نہیں، کیونکہ یہاں قیادت صرف عوامی مقبولیت سے نہیں بنتی، بلکہ طاقت کے مراکز کی ہم آہنگی بھی ضروری سمجھی جاتی ہے۔میاں حمزہ شہباز شریف کا ایک اور پہلو جو انہیں دیگر سیاست دانوں سے مختلف بناتا ہے، وہ ان کا ورکنگ اسٹائل ہے۔ وہ فیصلوں میں جلد بازی کے قائل نہیں، مگر ایک بار فیصلہ ہو جائے تو اس پر عملدرآمد میں تاخیر برداشت نہیں کرتے۔ وہ بیوروکریسی کے ساتھ سخت مگر شائستہ انداز میں کام کرنے کے قائل ہیں، یہی وجہ ہے کہ سرکاری افسران میں بھی انہیں ایک سنجیدہ اور قابلِ اعتماد سیاست دان کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔یہ کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ میاں حمزہ شہباز شریف کا سیاسی کیریئر میاں محمدشہباز شریف کے سائے سے باہر آ کر ابھی مکمل طور پر اپنی شناخت نہیں بنا سکا، مگر شاید اب وہ وقت آ رہا ہے جب انہیں خود فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ صرف میاں محمد شہباز شریف کے بیٹے کے طور پر جانے جائیں گے یا اپنی الگ سیاسی پہچان قائم کریں گے۔
ان کی خاموشی اب ان کی طاقت بھی بن سکتی ہے اور کمزوری بھی، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں کس حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔پارٹی کے اندرونی حلقوں میں یہ بات بھی زیرِ گردش ہے کہ اگر پنجاب میں کسی مرحلے پر قیادت کی ضرورت پڑی، تومیاں حمزہ شہباز شریف ایک فطری انتخاب ہوں گے۔ وہ نہ صرف صوبائی سیاست کا تجربہ رکھتے ہیں بلکہ پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا مزاج اسٹیبلشمنٹ کے لیے بھی زیادہ قابلِ قبول سمجھا جاتا ہے، جو پاکستانی سیاست میں ایک تلخ مگر ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔آخر میں سوال یہی ہے کہ کیامیاں حمزہ شہباز شریف واقعی متحرک ہو رہے ہیں یا یہ محض سیاسی قیاس آرائیاں ہیں؟ باوثوق ذرائع کے مطابق فی الحال جو کچھ نظر آ رہا ہے، وہ یہ ہے کہ سیاست کے خاموش کھلاڑی دوبارہ شطرنج کی بساط پر آ چکے ہیں۔ میاں حمزہ شہباز شریف اگر میدان میں اترتے ہیں، تو شور کے ساتھ نہیں، بلکہ فائلوں، ملاقاتوں اور خاموش فیصلوں کے ذریعے۔ ۔ ۔ اور شاید یہی انداز ان کی اصل شناخت ہے۔
۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔
