کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کریں

کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کریں

  

کراچی کے شہری کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کریں، سارے حکومتی حلقوں نے مفاہمت کے نام پر اپنے ہاتھوں پر نام نہاد موجودہ جمہوریت کے دستانے پہنے ہوئے ہیں، موجودہ حکمرانوں کے بقول ”جمہوریت ہی سب سے اچھا انتقام ہے“۔ کراچی پاکستان کا بڑا شہر ہے، ڈیڑھ کروڑ افراد سے زائد کی آبادی والا یہ شہر پاکستان کا معاشی مرکز بھی ہے اور ساری قومیتوں کے لوگ یہاں آباد ہیں۔ جمہوری حکومت بھی ہے، موجودہ جمہوری حکومت میں ملک کی سبھی بڑی پارٹیاں حصہ دار بھی ہیں، لیکن پھر بھی عوام قتل عام اور لوٹ مار کرنے والوں کی زد میں ہیں۔ کراچی میں سفاک قاتل، بھتہ مافیا اور سمگلر کسی بھی قومیت والے کو معاف نہیں کرتے اور نہ ہی یہ پیشہ ور سفاک گروہ کسی خاص مہینے، رمضان المبارک، عاشورہ محرم کو خاطر میں لاتے ہیں۔ یہ سفاک قاتل اور بھٹہ مافیا جب جہاں چاہتے ہیں واردات کر کے غائب ہو جاتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عوام بے یارو مدد گار دکھائی دیتے ہیں۔ کیا یہ سفاک گروہ اب اتنے مضبوط ہو گئے ہیں یا یہ کہ حکومت ہی ناہلیت اور کرپشن کی وجہ سے مفلوج ہو گئی ہے اور وہ اِن گروہوں سے بلیک میل ہو رہی ہے۔ سابقہ کئی سالوں سے کراچی میں بھتہ مافیا اور ٹارگٹ کلرز کا راج ہے، بلکہ ہر مہینہ اور ہر آنے والا دن کراچی والوں کے لئے پہلے سے زیادہ تباہی اور خوف و ہراس لے کر آتا ہے۔ اب تو روزانہ کی بنیاد پر درجن سے زائد قتل ہو رہے ہیں، روزانہ 200کے لگ بھگ دکاندار بھتہ دے رہے ہیں۔

 ایک اخباری خبر کے مطابق کراچی سے روزانہ ڈیڑھ کروڑ روپیہ بھتہ خور بھتہ وصول کر رہے ہیں۔ سابقہ ساڑھے چارسال کی اس جمہوری حکومت کے دور میں پورے ملک میں دہشت گردی اور بم دھماکوں میں ساڑھے تین سے چار ہزار لوگ مارے گئے جبکہ صرف کراچی میں ٹارگٹ کلرز کے ہاتھوں مرنے والوں کی تعداد6500افراد پر مشتمل ہے۔ 2011ءمیں کراچی میں ٹارگٹ کلرز کے ہاتھوں 1723بے گناہ لوگ مارے گئے، جبکہ 2012ءکے پہلے چھ ماہ، یعنی جنوری 2012ءسے جون 2012ءتک مرنے والوں کی تعداد 750بتائی جاتی ہے۔ جولائی2012ءکے پہلے بیس روز میں کراچی میں130افراد کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔ اب تو کراچی میں قانون نافذ کرنے والے ان سفاک قاتلوں کے ہاتھوں محفوظ نہیں اور آئے روز پولیس والے بھی قتل ہو رہے ہیں۔ چند روز قبل پولیو مہم کے دوران عالمی ادارہ صحت ”ڈبلیو ایچ او“ کے ایک ڈاکٹر کو بھی دن دیہاڑے قتل کر دیا گیا، جس کے بعد عالمی تنظیموں نے پاکستان میں قائم اپنے مراکز میں عملے کو خبردار کیا ہے کہ وہ پاکستان میں اپنی تمام امدادی کارروائیاں فوری طور پر بند کر دیں۔

کراچی میں قتل و غارت اور بھتہ مافیا کا رقص تسلسل سے جاری و ساری ہے اور اتحادی حکومت بھی بڑی محبت اور خوش اسلوبی سے چل رہی ہے، لیکن کسی کو کانوں کان خبر نہیں کہ مرنے اور مارنے والے کون ہیں اور اُن کے مقاصد کیا ہیں۔ قانون کی عمل داری عملاً ختم ہو کر رہ گئی ہے، حالانکہ پولیس کے ساتھ رینجرز بھی چوق و چوبند نظر آتے ہیں، لیکن بھتہ مافیا اور سفاک قاتل سب کی نظروں سے اُوجھل ہیں، نہ کوئی پکڑا جاتا ہے، خدانخواستہ کوئی پکڑا بھی جاتاہے، تو کبھی کسی کو سزا نہیں ہوتی، جرائم پیشہ افراد ہیں کہ دندناتے پھر رہے ہیں۔ تاجر اور دکاندار، فیکٹری مالکان روزانہ کروڑوں کا بھتہ دے کر بھی اپنی جان محفوظ نہیں کر پا رہے۔ حکومت اس مرض کی تشخیص کیوں نہیں کر پا رہی یا جان بوجھ کر ایسا کر رہی ہے کہ شاید جمہوری انتقام پورا نہیں ہوا۔ کراچی بھتہ خوروں، ڈرگ مافیا اور ٹارگٹ کلرز کے لئے محفوظ آماجگاہ کیسے بن گیا یا بنا دیا گیا، کیوں روزانہ درجنوں خاندان اپنے پیاروں کی لاشوں پر ماتم کرنے پر مجبور کر دیئے گئے۔ کراچی کے لوگ حکومت سے سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ کیوں کراچی کو جرائم پیشہ لوگوں کے حوالے کر دیا گیا، مرنے والوں کا آخر قصور کیا ہے۔ کراچی کی تجارتی سرگرمیاں ہر آنے والے دن میں مندے کی نشاندہی کر رہی ہیں۔ نئی سرمایہ کاری تو کجا، بلکہ پہلے سے موجودہ سرمایہ دار اپنی پونجی سمیٹ کر آئے روز کسی اور جگہ کے لئے روانہ ہو رہے ہیں اور ملک کی موجودہ کرپٹ اور نااہل حکومت اپنے اتحادیوں سمیت اپنے اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔

کراچی کے موجودہ حالات پر وزیراعلیٰ سندھ، وفاقی مشیر داخلہ اور صدر پاکستان کے بیانات ملاحظہ ہوں۔ ان حضرات کے مندرجہ بیانات کوئی نئے نہیں، بلکہ ہر مہینے یہی بیانات دو تین بار دہرائے جاتے ہیں کہ پرچی مافیا اور ٹارگٹ کلرز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، ہر واردات کی ایف آئی آر درج ہو گی اور ہر واردات کا ذمہ دار متعلقہ تھانے کا ایس ایچ او ہو گا۔ وزیراعلیٰ سندھ اور مشیر داخلہ کا2008ءسے اب تک یہ کوئی ایک ہزارواں بیان ہے اور ہر بیان میں انہوں نے کسی عملی کارروائی کی بجائے بھتہ مافیا اور ٹارگٹ کلرز کو صرف وارننگ ہی دی ہے۔ صدر پاکستان آصف علی زرداری نے21جولائی2012ءکو بلاول ہاﺅس کراچی سے اپنے ایک بیان میں فرمایا ہے کہ کراچی کا امن ہماری اولین ترجیح ہے، جو افسران امن و امان کی صورت حال میں لاپرواہی برتیں گے انہیں فوری طور پر عہدوں سے برخاست کر دیا جائے گا۔ سندھ حکومت شہر میں بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کے خلاف کارروائی تیز کر دے۔ کراچی میں بدامنی کے حالات کسی صورت برداشت نہیں کئے جائیں گے۔ عوام کی جان و مال پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا وغیرہ وغیرہ، لیکن اِن بڑھکوں اور بیانات کا اثر نہ تو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ہو رہا ہے اور نہ ہی ان بڑھکوں سے سفاک قاتل اور بھتہ مافیا متاثر ہو رہا ہے۔ حکومتی عمل داری کا مطلب ہے کہ عوام کی جان و مال، عزت و آبرو محفوظ ہو، لیکن کراچی اور بقیہ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے حکومتی عمل داری کا نام تو نہیں دیا جا سکتا، بلکہ یہ تو انارکی ہے۔ سابقہ ساڑھے چار سال کی موجودہ حکومتی کارکردگی صفر بٹا صفر ہے۔ مسلسل عدم تحفظ کی فضا برقرار ہے۔ موجودہ ملکی نظام اور حکمرانوں سے عوام سو فیصد مایوس ہیں، عوام کو چاہئے کہ وہ اپنے حکمران بدل لیں، شاید کوئی نیا حکمران اُن کے دُکھوں کا مداوا بہتر طریقے سے کر سکے۔ پورے ملک کی قیادت جس میں تمام قابل ذکر سیاسی جماعتیں حصہ دار ہیں اُن میں تو یہ سکت اور ہمت نہیں کہ وہ حالات بہتر کر سکیں۔ کراچی میں خصوصاً پولیس اور رینجرز کی ناکامی کے بعد شاید فوج ہی حالات کو بہتر کر سکے، اس سے قبل کہ بہت دیر ہو جائے۔

مزید :

کالم -