مولی، کھچڑی اور اسلام آباد

مولی، کھچڑی اور اسلام آباد

  

O.... بچہ جمورا اُٹھ جا صبح ہو گئی ہے۔

O.... سرکار ہماری صبح کون سی حکمرانوں جیسی ہے کہ ہم اس کا استقبال کریں۔

O.... استقبال کے بچے، کیا دھندے پر نہیں جائے گا، پہلے ہی لوڈشیڈنگ نے بُرا حال کر رکھا ہے۔

O.... مائی باپ آپ کی اِس بات پر مجھے ہنسی آ رہی ہے۔ ہماری اس کٹیا میں تو بلب تک نہیں ہے، پھر لوڈشیڈنگ سے آپ کی زندگی پر کیا عذاب آ گیا ہے۔

O....اے چریے، ہماری نہیں تو لوگوں کی حالت تو خراب ہے،جب اُن کے حالات خراب ہوں گے تو وہ ہمیں کیا دیں گے۔

O.... مالک، آپ بھی عجیب باتیں کرتے ہیں، زرداری صاحب نے تو کبھی نہیں سوچا کہ عوام کی حالت خراب ہو گئی تو وہ حکومت کو ووٹ نہیں دیں گے، وہ تو اُن کی حالت خراب پر خراب کئے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو احساس دلا سکیں کہ ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز موجود ہے۔

O.... ابے نام نہاد اوقات میں رہ، قبلہ زرداری صاحب کی تو نوازشریف جیسے بڑے لیڈر کو سمجھ نہیں آئی، تو کس کھیت کی مولی ہے۔

O.... مولی سے یاد آیا سرکار، یہ اسلام آباد میں کیا کھچڑی پک رہی ہے۔

O.... مولی،کھچڑی اور اسلام آباد، یہ تم کیا کہہ رہے ہو، لگتا ہے ہوش ٹھکانے نہیں ہے۔

O.... مالک میں بقائمی ہوش و ہواس پوچھ رہا ہوں، مگر لگتا ہے آپ کو روزہ لگ رہا ہے۔

O.... ابے چپ کر، پوچھ کیا پوچھتا ہے؟

O.... سرکار یہ قومی کانفرنس کا کیا قصہ ہے،کیا ہم بھی اُس میں جائیں گے؟

O.... کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ،ابے دولے شاہ کے چوہے بھلا ہم کیوں جائیں گے، کون بلائے گا ہمیں۔

O.... کیوں ہم قوم میںشامل نہیں؟

O.... ہم قوم میں نہیں عوام میں شامل ہیں۔

O....مالک اس کانفرنس کا مقصد کیا ہے،کیا روٹی سستی ہو جائے گی، ہمیں بھی گوشت دال پلیٹ ملے گی۔

O.... ہت تیری کی۔ کس قدر گھٹیا سوچ ہے تیری۔ ابے یہ کانفرنس ملکی حالات سنوارنے کے لئے بلائی جا رہی ہے،ہمارے حالات سدھارنے کے لئے نہیں۔

O.... کیا حالات سنوارنے کے لئے قومی کانفرنس بلانی ضروری ہے؟ پہلے والے وزیراعظم تو کہتے تھے باہر کچھ نہیں ہو گا سارے فیصلے پارلیمنٹ کرے گی۔

O.... اسی لئے تو باہر ہو گئے، بچہ جمورا چل ایک کام کرتے ہیں۔

O.... کیا مالک۔

O.... چل اسلام آباد چلتے ہیں، شاید اچھی دیہاڑی لگ جائے۔

O.... پھر سرکار اسلام آباد میں دیہاڑی کیوں، لاہور یا کراچی میں کیوں نہیں؟

O.... ابے گماٹر، لاہور اور کراچی کا وقت گزر گیا، اب جو ہونا ہے اسلام آباد میں ہو گا۔ دیر نہ کر جلدی تیار ہو جا۔

O.... آپ تو ایسے کہہ رہے ہیں مالک جیسے مَیں نے رحمن ملک کی طرح ہنگامی طور پر سینیٹ اور وزارت کا حلف اُٹھانا ہو۔مجھے کپڑے تو بدلنے دیں۔

O.... گیلانی صاحب چلے گئے، پر تیری عادت نہیں گئی۔ بات بات پر کپڑے بدلنے کا شوق تو انہیں تھا، تم کیوں یہ ڈرامہ کر رہے ہو۔

O.... سرکار گیلانی صاحب کو کچھ نہ کہیں، میرے وہ آئیڈیل ہیں، مجھے اُن کے بارے میں سوچ کر رونا آ جاتا ہے۔

O.... رونا، ابے ناہنجار کیا بکے جا رہا ہے۔

O.... ہاں مالک، کس طرح بیٹھے بٹھائے انہیں وزارت عظمیٰ سے محروم ہونا پڑا۔ زرداری صاحب اگر انہیں خط لکھنے دیتے تو آج گیلانی صاحب اس طرح گوشہ ¿ گمنامی میں نہ پڑے ہوتے۔ آپ کو یاد ہے پچھلے دنوں جب ہم ملتان میں تھے تو گیلانی صاحب نے تین دنوں میں صرف ایک بار کپڑے تبدیل کئے تھے، مجھے تو یہ سوچ سوچ کر پریشانی ہو رہی ہے کہ وہ اب اتنے سارے سوٹوں کا کریں گے کیا!

O.... مَیں سمجھ گیا ہوں کہ تمہاری رال ٹپک رہی ہے تم چاہتے ہو۔ یہ لاکھوں روپے مالیت کے سوٹ وہ تمہیں دے دیں، ایسی فضول بات سوچنا بھی ناں۔ انہوں نے اپنے دونوں بیٹے اس لئے اسمبلی میں نہیں بھیجے کہ وہ ملکی کپڑے پہنتے رہیں، اب یہ مہنگے سوٹ وہ پہنیں گے۔

O.... سرکار گیلانی صاحب کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے؟

O.... یعنی تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ سپریم کورٹ نے سید یوسف رضا گیلانی کو تو گھر بھیج دیا، راجہ پرویز اشرف کو نہیں بھیج رہی۔

O.... اوہ نہیں سرکار، مَیں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ صدر آصف علی زرداری ہمارے عظیم گیلانی صاحب کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں۔

O.... مالک آپ بھی اب اپوزیشن کی طرح سوچنے لگے ہیں، جو زرداری صاحب کی باتوں کو سمجھ ہی نہیں سکتی۔ مَیں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ رحمن ملک کے سینیٹر اور عبدالقادر گیلانی کے رکن قومی اسمبلی بننے کا نوٹیفکیشن ایک ہی دن جاری ہوا۔ رحمن ملک کا حلف اُٹھوانے کے لئے سینیٹ کا فوری اجلاس بلایا گیا، مگر عبدالقادر گیلانی کا حلف اُٹھوانے کے لئے قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں بلایا جا رہا، حالانکہ وزارت کی گیلانی خاندان کو رحمن ملک سے زیادہ ضرورت ہے۔

O.... ابے واہ چیلے، بات تو تُو نے پتے کی کی ہے، لیکن زرداری صاحب کا اس میں کوئی عمل دخل نظر نہیں آتا۔

O.... مالک آپ کی سوچ بھی عجیب ہوتی جا رہی ہے، آپ نے دیکھا سید یوسف رضا گیلانی صاحب کے والد سید علمدار حسین گیلانی کی برسی پر ایک وزیر مشیر بھی نہیں پہنچا۔اکیلے ہی یوسف بے کارواں کی طرح انہیں پچھلے سال کی برسی کو یاد کرنا پڑا، جس میں وزراءاور ارکان اسمبلی کی فوج ظفر موج موجود تھی۔ اگر گیلانی صاحب زرداری صاحب کی گڈ بکس میں ہوتے تو وزراءاور مشیر اُن کی خوشنودی کے لئے ملتان ضرور آتے، مگر مجھے تو لگتا ہے کہ انہیں چلا ہوا کارتوس سمجھ لیا گیا ہے۔

O.... ابے الو کے چرخے زیادہ چر چر نہ کر۔ تجھے کیوں گیلانی صاحب کا غم کھائے جا رہا ہے۔ تیرے پاس روٹی کھانے کو پیسے نہیں اور اُن کے پاس اب اتنا مال ہے کہ کئی نسلیں گھر بیٹھ کے کھا سکتی ہیں، تو انہیں چلا ہوا کارتوس کہہ رہا ہے، حالانکہ وہ خود کئی توپیں خریدنے کی پوزیشن میں ہیں۔

O.... سرکاری آپ کو تو میری ہر بات ہی اُلٹی لگتی ہے اچھا بتائیں، اب مَیں کیا کروں۔

O.... چلو اُٹھو، اسلام آباد چلتے ہیں۔

O.... مالک اسلام آباد کا ذکر تو آپ ایسے کر رہے ہیں جیسے وہاں حلف اُٹھانا ہو۔

O.... اے چیلے حالات تو ایسے ہی ہیں، شائد ہماری بھی دال گل جائے۔

مزید :

کالم -