لوڈشیڈنگ میں”تمیزبندہ وآقا“

لوڈشیڈنگ میں”تمیزبندہ وآقا“

  

بجلی کا بحران بڑھتا جارہا ہے اور حکومت اپنا یہ وعدہ نبھا نہیں سکی کہ رمضان المبارک میں سحر اور افطار کے وقت لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی، رمضان کا پہلا عشرہ مکمل ہونے والا ہے لیکن ان دس دنوں میں سحر وافطار کے وقت بھی لوڈشیڈنگ ہوتی رہی بلکہ لاہور سمیت بعض دیگر شہروں میں تو گیس کی بندش کی بھی اطلاعات ہیں۔، پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئرمین ندیم افضل چن ،جن کا اپنا تعلق بھی پیپلز پارٹی سے ہے اس صورتحال پر خاصے برہم ہیں، یہاں تک کہ انہوں نے استعفے کی دھمکی بھی دے دی ہے اور حکومت کو لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کیلئے چار دن کی مہلت دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور وزیر بجلی احمد مختار کے حلقوں میں چھ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے جبکہ ان کے حلقے میں 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔

لاہور میں ہونے والی انرجی کانفرنس میں طے کیا گیا کہ ملک کے تمام حصوں میں یکساں لوڈشیڈنگ ہوگی لیکن اس کانفرنس کی کسی بھی سفارش پر آج تک عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ عجیب اتفاق ہے کہ جن علاقوں سے حکومت کو 90 فیصد سے زیادہ ریکوری ہوتی ہے وہاں تو لوڈشیڈنگ کا دورانیہ زیادہ ہے اور جن علاقوں میں بجلی چوری اور لائن لاسز 40 فیصد سے بھی زیادہ ہوتے ہیں اور ریکوری کی شرح بھی بہت کم ہے وہاں چار گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے اور جیسا کہ ندیم افضل چن نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیر پانی وبجلی کے حلقوں میں چھ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے یہ تفاوت بہت ہی افسوسناک ہے۔ اسی طرح بعض بااثر افراد نے اثرورسوخ استعمال کرکے اور بجلی کمپنیوں کے افسروں سے ساز باز کرکے کئی علاقوں کو لوڈشیڈنگ سے مستنثیٰ قرار دے رکھا ہے ملک کا ہر شہری حکومت کی جانب سے برابر کے سلوک کا مستحق ہے جو ان کے ساتھ نہیں کیا جارہا ہے۔ اگر اندھیرے ہی ملک کا مقدر بن کر رہ گئے ہیں تو پھر یہ ضروری ہے کہ ایوان صدر سے لے کر نیچے تک ”اندھیرا“برابر تقسیم ہو یہ نہیں ہونا چاہئے کہ اس ضمن میں ”تمیز بندہ وآقا”روا رکھی جائے۔سحر وافطار کے وقت لوڈشیڈنگ غالباً اس لئے بھی ہورہی ہے کہ آئی پی پیز کو ادائیگیاں بروقت نہیں ہوپا رہیں۔ حکومت ہر ماہ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام پر بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرتی چلی جارہی ہے اس لئے بلوں سے جو رقوم حاصل ہوتی ہیں ان میں سے ادائیگیاں اگر باقاعدہ ہوتی رہیں تو بھی بڑی حد تک اصلاح احوال ہوسکتی ہے۔ وزیر اطلاعات قمر زماں کائرہ کہتے ہیں کہ بجلی کا بحران ”تکنیکی وجوہ“ کی بنا پر پیدا ہوا، وجہ کچھ بھی ہو، لوگ تو اس عذاب سے نجات کے طلبگار ہیں۔حکومت اگر مخالفین کی بات نہیں سنتی تو کم ازکم اپنے رکن قومی اسمبلی اور چیئرمین پی اے سی کی بات تو سنے جنہوں نے استعفے کی دھمکی تک دے دی ہے۔   ٭

مزید :

اداریہ -