ڈرون حملے اور انتہا پسندی

ڈرون حملے اور انتہا پسندی

  

امریکہ میں پاکستان کی سفیر شیری رحمن نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ میں دونوں ملکوں کے انٹیلی جنس چیفس کی ملاقات سے پہلے ڈرون حملے روکے جائیں، ان کا کہنا تھا کہ ڈرون حملوں سے القاعدہ کو نقصان ضرور پہنچا مگر اس سے خطے میں انتہا پسندی میں اضافہ ہورہا ہے، پاکستان چاہتا ہے ڈرون حملوں کا خاتمہ ہو، اس پر مزید مفاہمت کی گنجائش نہیں۔ ........آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام یکم سے تین اگست تک امریکہ کا دورہ کرنے والے ہیں اس سہ روزہ دورہ میں ان کی ملاقات سی آئی اے کے سربراہ سے ہوگی۔ اگر سفیر شیری رحمن کے مطالبے کو پذیرائی حاصل ہوتی ہے تو ڈرون حملے اگلے دو تین روز میں بند ہوجانے چاہئیں لیکن ان حملوں کے بارے میں اب تک امریکہ کا جو مو¿قف متعدد بار سامنے آچکا ہے اس کے پیش نظر بظاہر اس امر کا امکان نہیں کہ ڈرون حملے بند ہوں گے کیونکہ امریکہ کے خیال میں ڈرون حملوں سے القاعدہ کو کافی نقصان پہنچایا گیا ہے اور جن علاقوں تک دوسرے ذرائع سے فوجوں کی رسائی نہیں وہاں ڈرون حملے ہی کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں‘ لیکن ان حملوں کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان کے ذریعے اگر چند قصور وار مارے جاتے ہیں تو بہت سے ایسے لوگ بھی نشانہ بن جاتے ہیں جن کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا‘ جب یہ بیگناہ لوگ مارے جاتے ہیں تو ان کے ورثاءیا پھر دوسرے حامی مشتعل ہوتے ہیں اور پھر وہ اپنے انداز میں بدلے لینے پر تل جاتے ہیں، اور یوں دہشت گردی کا دائرہ پھیلتا چلا جاتا ہے۔پاکستان بھر میں دہشت گردی کی جو وارداتیں ہوتی رہتی ہیں ان میں سے بعض کا تعلق ڈرون حملوں میں مارے جانے والے لوگوں کے قبائل سے ضرور ہوتا ہے لیکن امریکہ ہر چیز کو اپنے پیمانے سے دیکھتا اور پرکھتا ہے اس کے خیال میں اگر چند مجرموں کو نشانہ بنانے کیلئے ان کے ساتھ بیگناہ لوگ بھی مارے جاتے ہیں تو ایسا کرنے میں حرج نہیں‘ ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے کہ مدارس کے بچے‘ جنازوں کے جلوس اور شادی بیاہ کی تقریبات بھی ڈرون حملوں کا نشانہ بنتی رہی ہیں اس لئے سفیر شیری رحمن کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اگر ڈرون حملوں سے القاعدہ کو کچھ نقصان پہنچا ہے تو اس سے انتہا پسندی کو بھی فروغ ملا ہے۔

نائن الیون کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرکے طالبان حکومت کا خاتمہ تو کر دیا اور خطے میں دہشت گردی کیخلاف جنگ بھی شروع کر دی لیکن افغان معاشرے سے طالبان کا خاتمہ ممکن تھا اور نہ ہی ہوسکا، جونہی طالبان ذرا سنبھلے تو انہوں نے دوبارہ منظم ہوکر جہاں ممکن ہوسکا امریکیوں اور ان کے حامیوںکیخلاف کارروائیاں شروع کر دیں۔ امریکی سرزمین تو محفوظ ہوگئی اور نائن الیون کے بعد وہاں کوئی تخریب کاری نہیں ہوسکی، یورپ کے چند ملکوں میں اکا دکا واقعات ہوئے جن پر انہوں نے قابو پالیا۔ پاکستان دنیا کا واحد بدقسمت ملک ہے جس کو ان دس گیارہ برسوں میں سکون کا سانس لینا نصیب نہیں ہوا۔ اس عرصے میں ملک کے طول وعرض میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی کارروائیاں ہوتی رہیں‘ سیکیورٹی اداروں کے قابل احترام افسر اور جوان دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے‘ مساجد اور مدارس لہو سے تر بتر ہوتے رہے، سرکاری ادارے اور املاک تباہ کی جاتی رہیں۔ ان وارداتوں میں چار ہزار سے زائد سیکیورٹی اداروں کے ارکان اور چالیس ہزار کے لگ بھگ سویلین موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے ہماری معیشت کا تاروپور بکھر کر رہ گیا اور محتاط اندازے کے مطابق اس عرصے میں معیشت کو 100 ارب کے لگ بھگ نقصان پہنچا۔ معیشت کی شرح نمو انتہائی کم ہوگئی، جب معیشت میں جان نہ رہی تو مہنگائی کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ چل پڑا، دہشت گردی کی وارداتوں کا یہ سلسلہ اب تک رکنے میں نہیں آیا اور دہشت گردی کی جنگ میں نیٹو کا ”نان نیٹو فرنٹ لائن اتحادی“ پاکستان اب تک اس کی زد میں ہے۔ دہشت گردی کی اس جنگ کا افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ اتنی زیادہ قربانیاں بھی امریکہ کو مطمئن نہ کرسکیں اور وہ وقتاً فوقتاً ”ڈومور“ کا مطالبہ کرتا رہا، اب بھی وہ شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک کیخلاف کارروائی پر اصرار کر رہا ہے اور اس ضمن میں زمینی حقائق پر کوئی توجہ نہیں دے رہا۔

طالبان کا مو¿قف یہ ہے کہ وہ اپنی مادر وطن سے غیرملکی افواج کو نکالنے کیلئے سرگرم عمل ہیں جن ملکوں کی افواج نے ان کی سرزمین پر قبضہ کر رکھا ہے ان ملکوں کیخلاف دنیا بھر میں کارروائیاں کرنا ان کا حق ہے اور قتل و استہلا ک کا یہ سلسلہ اسی وقت ختم ہوگا جب غیر ملکی افواج افغان سر زمین سے نکل جائیں گی، افغان سرزمین پر جن ملکوں کی افواج موجود ہیں ان سب کیخلاف وہ براہ راست فوجی کارروائیاں تو نہیں کرسکتے لیکن جہاں ہدف آسان ہے وہاں وہ من پسند کارروائیاں کرنے سے گریز نہیں کرتے۔پاکستان ، افغانستان کے ہمسائے میں واقع ہونے کی وجہ سے آسان ہدف ہے۔

امریکہ کا دعویٰ ہے کہ وہ افغانستان میں اپنے مقاصد حاصل کرچکا ہے اور جو باقی ہیں وہ اگلے دو سال میں حاصل کرلے گا اسی لئے اس نے 2014ءواپسی کا سال مقرر کیا ہے لیکن افغانستان میں نیٹو افواج کی موجودگی میں بھی جو دہشت گردانہ کارروائیاں ہوتی رہتی ہیں ان سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ افغانستان میں سب اچھا نہیں ہے۔ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات پر بھی افغانستان کے حالات اثر انداز ہورہے ہیں، 26 نومبر کو سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو افواج حملے کے بعد پاکستان نے افغانستان کو سپلائی روٹ بند کر دیا تھا جو چھ سات ماہ کی زبردست سفارتی کوششوں کے بعد اب اگرچہ کھول دیا گیا ہے لیکن لگتا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں اختلافات کی چنگاری ابھی تک سلگ رہی ہے۔ پاکستان کی سفیر شیری رحمن نے کولو ریڈو میں گزشتہ روز سپین سیکیورٹی فورم میں جو خطاب کیا اس میں بھی محسوس کیا گیا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں ابھی کافی رخنے موجود ہیں لیکن ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ ایسا نہیں ہے کہ اس سے صرف نظر کیا جائے، انتہا پسندی روکنے کیلئے ضروری ہے کہ ڈرون حملے بند کئے جائیں، یہ حملے اگر جاری رہتے ہیں تو دہشت گردی کا سلسلہ روکنا مشکل ہوگا جس کا سب سے زیادہ نشانہ پاکستان ہی بن رہا ہے۔

مزید :

اداریہ -