فلمسازوں اور بھارتی فلموں کے تقسیم کاروں کے درمیان محاذ آرائی

فلمسازوں اور بھارتی فلموں کے تقسیم کاروں کے درمیان محاذ آرائی

  

کراچی(اے این این )عیدالفطر پر فلموں کی ریلیزکے سلسلہ ایک مرتبہ بھارتی فلمیں ریلیز کرنے والوں اور مقامی فلمسازوں میں محاذ آرائی ہو رہی ہے۔اس سلسلہ میں بھارتی فلمیں ریلیزکرنے والے جہاں سرگرم ہو رہے ہیں، وہیں مقامی فلمساز بھی ان کے خلاف صف آرا ءہیں۔سنیما مالکان اور فلمسازوں کے درمیان کئی برس سے سردجنگ چل رہی ہے۔ فلمسازوں کی خواہش اورکوشش ہے کہ پاکستان میں بھارتی فلموں کی ریلیز کے تسلسل کو روک دیا جائے تاکہ پاکستانی فلموں کو اچھے سنیما گھر ملیں اور فلموں کو روایتی انداز میں کامیابیاں حاصل ہو، تاہم سنیما مالکان کی ترجیح اب بھارتی فلمیں ہوتی ہیں ان کا موقف ہے پاکستانی غیر معیاری فلموں کے سبب سیکڑوں سنیماگھر مسمار ہوئے جبکہ غیر ملکی فلموں کے سبب ہی سنیما انڈسٹری کا احیا ہوا ہے اور یہی غیر ملکی فلمیں اب سنیما گھروں میں ریکارڈ بزنس کررہی ہیں۔ماضی میں سنیما مالکان اور فلمسازوں کے وفود نے وفاقی اور صوبائی اعلی۔حکام سے ملاقاتیں کیں اور اپنے موقف سے آگاہ کیا۔تاہم حکومت نے بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی عائد نہ کی جس کے بعد عیدین پر بھی فلمسازوں نے بھارتی فلموں کی نمائش رکوانے کی اپنے طور پرکاوشیں کیں۔تازہ ترین کاوشیں سلمان خان کی فلم ایک تھا ٹائیگر کی نمائش رکوانے کے سلسلہ میں کی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں انکا موقف ہے کہ مذکورہ فلم پاکستان مخالف موضوع پر مبنی ہے جبکہ بعض پروموٹرز قابل اعتراض حصے کاٹ کر فلم کی ریلیز چاہتے ہیں کہ ہم کسی ایسی فلم کو یہاں نمائش کی اجازت نہیں دیں گے جو ملک کے خلاف ہو۔ اس حوالے سے نہ صرف فلمساز بلکہ فلمی صنعت سے وابستہ دیگر لوگ بھی اپنے تنظیموں کے ساتھ اس سلسلے میں فعال ہوگئے ہیں۔فلم فیڈریشن آف پاکستان کے چیف آرگنائزر اچھی خان کا کہنا ہے کہ ایک تھا ٹائیگر اگر عید پر ریلیز کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم سنیماگھروں کوآگ لگادیں گے۔سنیما مالکان کی ترجیح اپنی انڈسٹری کے استحکام کے لیے ہونا چاہیے۔

مزید :

کلچر -