امریکہ کا سائبر کرائمز پر قابو پانے کیلئے ہیکرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ

امریکہ کا سائبر کرائمز پر قابو پانے کیلئے ہیکرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ

  

واشنگٹن(اے پی اے )امریکیوں کے ڈھنگ بھی نرالے ہیں۔ انٹرنیٹ جرائم سے لڑنے کے لئے مجرموں کو ملازم رکھنے کے لئے ملک کے سب سے بڑے جاسوسی کے ادارے نے انہیں ایک کانفرنس میں طلب کر لیا۔امریکا کے شہر لاس ویگاس میں ڈیف کان کے نام سے ایک دلچسپ کانفرنس ہوئی جس میں پولیس کی نظروں سے چھپتے انٹرنیٹ ہیکرز نے شرکت کی۔ کانفرنس کا مہمانِ خصوصی کوئی بہت بڑا ڈان نہیں بلکہ امریکا کی نیشنل سیکورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر کیتھ ایلگزینڈر تھے۔ اپنے خطاب میں کیتھ نے ہیکرز کی تعریف کرتے ہوئے کہا اس کمرے میں وہ ٹیلنٹ موجود ہے جو امریکا کی سائبر سرحدوں کی حفاظت کر سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دو ہزار نو سے دو ہزار گیارہ کے درمیان امریکا کے حساس اداروں پر سائبر حملوں میں سترہ فیصد اضافہ ہوا۔کیتھ نے ان ا داروں، بنکوں کریڈٹ کارڈ کمپنیوں، وڈیو گیم اور کار ساز اداروں کی فہرست بھی دکھائی جو سائبر حملوں کا آسان شکار رہیں۔آخر میں انہوں نے ہیکرز سے کہا کہ قومی سلامتی کے ادارے کو ان جیسے ذہین لوگوں کی تلاش ہے۔ ادارہ شاید زیادہ تنخواہ تو نہ دے سکے لیکن اس کے ساتھ کام کرنے میں لطف ضرور آئے گا۔ ہیکروں نے کہا کہ حکومت ان سے دوستی کرنا چاہتی ہے تو پھر انہیں گرفتار کرنا بند کرے۔

مزید :

عالمی منظر -