الجزائر نے قتل سے قبل کرنل قذافی کے ٹھکانے کی نشاندہی کی تھی: وکی لیکس

الجزائر نے قتل سے قبل کرنل قذافی کے ٹھکانے کی نشاندہی کی تھی: وکی لیکس

  

طرابلس(آن لائن)عالمی سفارت کاری کے تعاقب میں شہرت یافتہ نیوز ویب سائٹ “وکی لیکس” نے انکشاف کیا ہے کہ الجزائرکے انٹیلی جنس حکام نے سرت شہر میں سابق مقتول لیبیائی مرد آہن کرنل معمر قذافی کے قتل سے قبل ان کے ٹھکانے کی نشاندہی کی تھی۔ وکی لیکس کے مطابق مشکل میں پھنس جانے کے بعد کرنل قذافی نے کئی مرتبہ الجیرین صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ سے فون کرنے کی کوشش کی تھی لیکن صدر بوتفلیقہ نے ان کا فون سننے سے انکار کر دیا تھا۔ وکی لیکس کے تازہ مراسلوں میں بتایا گیا ہے کہ سرت میں بنی ولید کے مقام سے کرنل قذافی کی ایک فون کال کے بعد برطانوی اور الجیرین انٹیلی جنس کو ان کے ٹھکانے کا علم ہو چکا تھا۔ وہ دارالحکومت طرابلس سے کوئی ایک سو کلومیٹر دور ایک خفیہ ٹھکانے میں روپوش تھے۔وکی لیکس کے برقیے کے مطابق الجزائر کو یہ خوف تھا کہ کرنل قذافی شکست خوردگی کے بعد مغرب اسلامی میں سرگرم شدت پسند تنظیم القاعدہ کے ساتھ اتحاد کر سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ الجزائر کرنل کے قتل کو اپنے مفاد میں سمجھ رہا تھا۔رپورٹ کے مطابق کرنل قذافی نے اپنی گرفتاری اور قتل سے قبل الجزائر میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن باغیوں نے انہیں گرفتار کر کے اردن فرار کی کوششیں ناکام بنا دی تھیں۔وکی مراسلوں کے مطابق لیبیا میں امریکی سفارت کاروں نے ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی تھی کہ کرنل معمر قذافی نے الجزائر میں پناہ حاصل کرنے کی درخواست دی تھی لیکن الجیرین صدر نے کرنل اپنے سابق حلیف کا فون سننا ہی بند کر دیا تھا۔برقیے میں بتایا گیا ہے کہ کرنل قذافی کو یکم ستمبر 2011ءکو اس وقت الجزائر میں پناہ ملنے کی امید پیدا ہوئی تھی جب ان کی اہلیہ صفیہ اور بیٹی عائشہ کو قومی عبوری کونسل کی ناراضگی کے علی الرغم الجزائر نے پناہ دے دی تھی۔ خیال رہے کہ مقتول کرنل قذافی کی بیوہ صفیہ، بیٹی عائشہ اور دو بیٹے محمد اور حنبل اگست کے آخر میں الجزائر چلے گئے تھے اور وہ آج تک وہاں پر کسی خفیہ مقام پر مقیم ہیں

مزید :

عالمی منظر -