الجزائر کے قومی ترانے میں فرانس کیخلاف نفرت کا پیغام

الجزائر کے قومی ترانے میں فرانس کیخلاف نفرت کا پیغام

  

لندن(اے پی اے ) برطانیہ کے ایک اخبار ٹیلیگراف نے لندن میں جاری اولمپکس کھیلوں کے عالمی مقابلوں کے دوران پیش کیے گئے مختلف ممالک کے قومی ترانوں کا تنقیدی جائزہ پیش کرتے ہوئے پسندیدہ اور ناپسندیدہ ترانوں کی ایک فہرست مرتب کی ہے۔ اخبار کے مطابق الجزائر، عراق، شمالی کوریا اور یوراگوائے کے قومی ترانے غیر مقبول ترانوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ اولمپکس مقابلوں کے دوران جہاں عالمی بالخصوص مغربی اور یورپی میڈیا نے لندن میں اپنے خیمے گاڑھ رکھے ہیں وہیں یہ عالمی میڈیا کھیلوں کے تمام پہلوو¿ں اور اس میں شریک دو سو پانچ ممالک کی تہذیبوں اور ان کے کلچر کے بارے میں بھی رپورٹنگ کر رہا ہے۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا ہے بلکہ جب سے اولمپکس کھیلوں کا سلسلہ شروع ہوا، اسی وقت سے مختلف ممالک کے بارے میں رپورٹنگ بھی مغربی میڈیا کا معمول بن گئی تھی جو آج تک بدستور چلی آرہی ہے۔ اخبار ٹیلی گراف کی جانب سے مختلف ملکوں کے غیر مقبول قرار دیے گئے قومی ترانوں کی فہرست کی تیاری بھی اسی روایت کا حصہ سمجھی جائےگی۔ اخبار لکھتا ہے کہ اس وقت الجزائر اور عراق کے قومی ترانے اولمپکس کے مقابلوں کے دوران سب سے ناپسندیدہ قرار دیے گئے ہیں کیونکہ اول الذکر میں فرانس کیخلاف نفرت کا پیغام ہے اور ثانی الذکر میں ایک خطرناک پیغام پنہاں ہے۔ یاد رہے کہ الجیرین قومی ترانہ 1956 میں شاعر مفدی ذکریا نے اس وقت تحریر کیا تھا جب الجزائر، فرانسیسی پنجہ استبداد میں جکڑا ہوا تھا۔ شاعر خود بھی فرانسیسی فوج کی قید میں تھا اور جب اس پر بے پناہ تشدد کیا گیا تو اس کے ردعمل میں اس نے یہ ترانہ لکھا۔ اس میں فرانسیسیوں کیخلاف سخت نفرت کا اظہار ملتا ہے۔ الجزائر کی آزادی کے بعد مفدی زکریا کی جیل کے اندر کی یہ منظوم صدائے احتجاج قومی ترانے کا درجہ اختیار کر گئی۔ فرانس اور الجزائر کے درمیان صلح بھی ہوگئی مگر یہ ترانہ آج بھی اسی طمطراق کے ساتھ گونج رہا ہے۔ ایک مصری شہری محمد فوزی نے مفدی کے تحریر کردہ ترانے کو گایا اور آج تک اسی کی آواز میں یہ ترانہ چل رہا ہے۔ ترانے میں توپ، کلاشنکوف اور بارود کی تعریف بھی کی گئی ہے۔ جہاں تک عراق کے قومی ترانے کا تعلق ہے تو یہ لکھا تو ایک فلسطینی شاعر محمد ابراھیم طوقان نے تھا جسے ایک لبنانی موسیقار نے کمپوز کیا لیکن 2003 میں عراق پر امریکی یلغار کے بعد اسے عراق کے قومی ترانے کا مقام دیا گیا۔ اس میں سابق صدر صدام حسین کے ہاتھوں عوام کو درپیش مسائل اور مصائب کا تذکرہ ہے۔ اخبار کے مطابق اس قومی ترانے میں خیر کے بجائے شر کے پہلو ہیں اور کئی خطرناک پیغامات ہیں۔ اخبار نے شمالی کوریا کے قومی ترانہ " آئی جوکا" یعنی "صبح کو چمکنے دو" کو بھی ناپسندیدہ قومی ترانوں کی فہراست میں شامل کیا ہے۔ یہ قومی ترانہ کوریائی شاعر سی یونگ نے تحریر کیا تھا۔ اس کے علاوہ ریاست یوروگوائے کا قومی ترانہ اس کی طوالت کی وجہ سے غیر مقبول ٹھہرا کیونکہ یہ ترانہ چھ منٹ پر محیط ہے۔

مزید :

عالمی منظر -