ڈیڈلائن ختم ‘انٹی کرپشن اشتہاری مجرم افسروں کو گرفتار نہ کرسکی

ڈیڈلائن ختم ‘انٹی کرپشن اشتہاری مجرم افسروں کو گرفتار نہ کرسکی

  

لاہور(اپنے نمائندے سے)محکمہ اینٹی کرپشن کے تفتیشی افسران سنگین مقدمات میں ملوث اشتہاری سرکاری ملازمین اور افسروں کو ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد بھی گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، ڈائریکٹر جنرل کے تمام تر دعوے اور میٹنگز دھری کی دھری رہ گئیں اشتہاری قرار پانے والے سرکاری افسر و اہلکار پرکشش سیٹوں پر بیٹھے وہی کام کررہے ہیں جن الزامات پر مقدمات میں ملوث ہوئے لیکن شاید سلیمانی ٹوپی کے باعث تفتیشی افسروں کو دکھائی نہیں دے رہے، واضح رہے کہ ڈی جی نے ایک ماہ قبل ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملزم گرفتار نہ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاہم پنجاب بھر کے انویسٹی گیشن افسر اس ٹاسک کو پورا کرنے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیںاور محکمہ اینٹی کرپشن کے مختلف مقدمات میں ملوث سینکڑوں اشتہاری ملازمین میں سے 3، 4سے زیادہ ملزمان کی گرفتاریاں نہیں ہو پائی ہیں،مزید معلوم ہوا کہ ضلع لاہور کے بھی اس وقت 300سے زائد اشتہاری سرکاری ملازمین اپنی سیٹوں پر بیٹھ کر کام کرنے میں مصروف ہیں اور ان کے خلاف مزید کئی کرپشن میں ملوث اورعدالتوں سے اشتہاری پائے جانے والے سرکاری ملازمین کو گرفتار کرنے کا ٹاسک انویسٹی گیشن افسروں کو دیا گیا تھا اور اس ضمن میں یہ بھی ہدایات کی گئی تھیں کہ ان اشتہاری سرکاری ملازمین و افسران کی جائیدادوں کو بھی ضبط کر لیا جائے اس حوالے سے باقاعدہ 13جون کو پنجاب بھر کے ڈائریکٹرز کو بھی طلب کیا تھا اور اس اجلاس میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ اگر محکمہ اینٹی کرپشن کے انویسٹی گیشن افسران اشتہاریوں کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے تو ان کے خلاف درخواستیں محکمہ اینٹی کرپشن میں موصول ہو رہی ہیں شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن کے انویسٹی گیشن افسر جان بوجھ کر ان سرکاری اور اشتہاری ملزمان کو گرفتار نہیں کر رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ مزید شہریوں کو لوٹنے میں سرگرم ہیں اور اس ضمن میں محکمہ اینٹی کرپشن کے بعض افسروںکو مبینہ طور پر رشوت بھی دی جارہی ہے یہی وجہ ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن کے اشتہاری سرکاری ملازمین و افسران بے دھڑک ہو کر اپنی سیٹوں پر بیٹھ کر کام کررہے ہیں ضلع لاہور میں محکمہ اینٹی کرپشن کے زیادہ تر اشتہاری سرکاری ملازمین کا تعلق محکمہ ریونیو، پولیس، ایل ڈی اے، ضلعی حکومت، اوقاف،ایجوکیشن،ہیلتھ،اری گیشن،کوآپریٹو رداس سے ہے،1ماہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی نہ تو کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہیں اور نہ ہی کسی اشتہاری ملازمین کی جائیداد کو ضبط کیا جاسکا ہے جس سے ڈی جی اینٹی کرپشن کے زیر صدارت ہونے والی تمام میٹنگ اور دعوے بھی دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -