تھانہ شالیمار کے سامنے ”پاکستان “کی کھلی کچہری ‘شہری پولیس کے خلاف پھٹ پڑے

تھانہ شالیمار کے سامنے ”پاکستان “کی کھلی کچہری ‘شہری پولیس کے خلاف پھٹ پڑے

  

لاہور (لیاقت کھرل) تھانہ شالیمار جو کہ شہر کے دیگر تھانوں کی نسبت ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں میں کسی بھی طرح پیچھے نہیں ہے اس تھانے کی حدود میں جی ٹی روڈ پر شام 4 بجے سے رات 10 بجے تک ڈاکوﺅں کی لوٹ مار جبکہ بھوگیوال روڈ اور عالیہ ٹاﺅن میں رات 2 بجے سے صبح 4بجے تک وارداتیں، جبکہ دکانوں کے تالے توڑنے والے گروہوں نے دکانداروں کی نیندیں حرام کرکے رکھ دیں ”پاکستان“ کی تھانے کے سامنے ”کھلی کچہری“ اور علاقے کی آبادیوں مدینہ کالونی، عالیہ ٹاﺅن، رحمان پارک اور غوثیہ کالونی کے سروے پر جہاں شہری پولیس کے خلاف وارداتوں کی روک تھام میں ناکامی پر پھٹ پڑے وہاں پولیس اہلکاروں اور تھانیداروں نے پولیس اہلکاروں اور تھانیداروں نے پولیس افسروں کے خلاف نفری کی عدم فراہمی پر شکایات کے انبار لگا دیئے۔ اس موقع پر مدینہ کالونی شالامار کے رہائشی اور سابق کونسلر حاجی غلام حسین نے بتایا کہ اس تھانے کی حدود میں ڈاکوﺅں نے لوٹ مار کے اوقات مقرر کر رکھے ہیں جس میں ڈاکوﺅں نے علاقے میں اندھیر نگر مچا رکھی ہے اور جی ٹی روڈ پر ڈاکو شام 4 بجے سے رات 10 بجے لوٹ مار کرتے ہیں جبکہ بھوگیوال روڈ اور عالیہ ٹاﺅن سمیت بند روڈ پر ڈاکو رات 2 بجے سے صبح 4 بجے سے لوٹ مار کرتے ہیں اس موقع پر شہری محمد بوٹا نے بتایا کہ وہ پائپ بنانے کا کام کرتا ہے۔ 20 دن قبل گاڑی میں دو دوستوں کے ہمراہ گوجرانوالہ جانے لگا تو تین ڈاکوﺅں نے بھوگیوال رود پر علی الصبح روک لیا اور گن پوائنٹ پر دو قیمتی موبائل فون سیٹ اور 17 ہزار روپے نقدی لوٹ لی تھانے اطلاع کی اس کے باوجود پولیس نے تاحال کوئی کارروائی نہ کی ہے جس کے باعث ڈاکوﺅں کی لوٹ مار کو ختم نہیں کیا جاسکا ہے شہری اکبر عادل ، نبیل احمد اور احسن خان نے بتایا کہ عالیہ ٹاﺅن اور شیلر چوک کے قریب خالی پلاٹوں میں نامعلوم افراد کو قتل کرکے ان کی لاشوں کو پھینک دیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 16 جولائی کو نامعلوم افراد نے ایک 32 سالہ نوجوان کے سر اور گردن پر کلہاڑیوں کے وار کرکے اسے قتل کر دیا اور لاش شیلر چوک میں ایک خالی پلاٹ میں پھینک دی پولیس نے تاحال اس اندھے قتل کے سراغ نہیں لگا سکی ہے جبکہ اس سے قبل عالیہ ٹاﺅن میں ایک 35 سالہ شخص کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا اور نامعلوم قاتلوں نے لاش عالیہ ٹاﺅن کے قریب خالی پلاٹ میں پھینک دی پولیس دو ماہ 10 دن گزر جانے کے باجود تاحال اس اندھے قتل کی سراغ نہیں لگا سکی ہے انہوں نے بتایا کہ اس علاقے میں ڈاکوﺅں کی لوٹ مار ختم کر دی جائے تو اس علاقے میں شہریوں کا سکون بحال ہو سکتا ہے۔ شہری نبیل احمد اور صغیر نے بتایا مدینہ کالونی میں نامعلوم ڈاکوﺅں اور چوروں نے ایک ہی دن میں چار دکانداروں کے تالے توڑ دیئے اور دکانوں سے لاکھوں روپے مالیت کا سامان لوٹ لیا ڈاکوﺅں اور چوروں نے راہ جاتے ایک محلے دار کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور لوٹ مار کے بعد فرار ہوگئے اور چار ماہ گذر جانے کے باوجود پولیس نے تاحال کوئی کارروائی نہیں کی۔ شہریوں نے بتایا کہ مدینہ کالونی میں کوئی واردات یا واقعہ ہوجائے تو شالیمار تھانے کی پولیس کے پاس جائیں تو باغبانپورہ تھانے بھجوا دیا جاتا ہے جبکہ باغبانپورہ تھانے کی پولیس یہ کہہ کر ٹال دیتی ہے کہ ان کا علاقہ نہیں اس موقع پر شہریون کی ایک بڑی تعداد نے بتایا کہ اس تھانے کی حدود میں معمولی لڑائی جھگڑے سے پیدا ہونے والی دشمنیاں اور قتل کے ہونے والے واقعات نے اس علاقے میں رہنے والے لوگوں کا سکون تباہ کرکے رکھ دیا ہے کبھی کیبل کے جھگڑے پر اور کبھی پلاٹ کے لین دین کے معمولی تنازع پر پہلے لڑائی جھگڑا اور بعد میں ایک دوسرے پر فائرنگ کرکے قتل وغارت شروع کر دی جاتی ہے پولیس محض ”کمائی“ کے سوا کچھ نہیں کرتی ہے۔ جس سے اغواءبرائے تاوان کے واقعات نے بھی جنم لینا شروع کر دیا ہے اور حال ہی میں اغواءبرائے تاوان کے ہونے والے واقعہ نے ملزمان کے پکڑے جانے کے باوجود اس علاقے کے مکینوں میں خوف وہراس پھیلا رکھا ہے تھانے میں پولیس کی حراست میں علی حسین نے بتایا کہ امام مسجد کو دکان کرائے پر دیا اور کرایہ مانگنے پر پولیس کے ہاتھوں گرفتار کروا دیا ہے تھانے کی حوالات میں بند سید عرفان احمد نے بتایا کہ پولیس نے اسے ون ویلنگ کے الزام میں ناجائز طور پر بند کر رکھا ہے اس نے بتایا کہ میں ون ویلنگ نہیں کر رہا تھا۔ تھانے کے اہلکاروں نے بتایا کہ تھانے میں صرف 6 سے 7 کمرے ہیں، نہ سائل بیٹھ سکتے ہیں اور نہ ہی ان کیلئے بیٹھنے کی جگہ کوئی جگہ ہے جبکہ پولیس کی نفری انتہائی کم ہے اور افسران اس جانب توجہ تک نہیں کرتے ہیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -