کینال توسیعی منصوبہ کیلئے سینکڑوں سال قدیم درختوں کا قتل عام

کینال توسیعی منصوبہ کیلئے سینکڑوں سال قدیم درختوں کا قتل عام

  

لاہور (جنرل رپورٹر) لاہور کینال پر سو سال سے زائد عمروں کے قدیم اورنایاب اقسام کے سینکڑوں درخت راتوں رات کاٹ دیئے گئے ہیں۔ یہ درخت دھرم پورہ انڈر پاس سے لیکر فتح گڑھ ہربنس پورہ کے درمیان نہر کے اطراف آسمان سے چھوتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ انہیں کاٹ دیا گیا درختوں کو توسیع منصوبہ لاہور کینال کے نام پر کاٹا گیا۔ یہ ایسے درخت تھے جسے ایک طرف آلودگی کا نام نہ تھا جبکہ دوسری طرف خوبصورتی کی علامت تھے اور ان میں کچھ درختوں کی عمریں 200 سال سے زائد تھیں۔ انہیں سڑک کھلی کرنے کے نام پر کاٹ دیا گیا ہے۔ دوسری طرف چوبچہ پھاٹک سے مغلپورہ کی طرف کا پارک بھی اس کی نذر ہوگیا ہے جس پر شہریوں نے حیرانگی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت ایک منصوبے پر دو بار پیسے لگارہی ہے جس سے قوم کے اربوں روپے پہلے بھی لگا چکے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کینال توسیع منصوبہ کے تحت حکومت نے محکمہ ماحولیات کی مخالفت کے باوجود دھرم پورہ پل سے جلو کی طرف جاتے ہوئے ہربنس پورہ تک سڑک کو کشادہ کرنے کا منصوبہ بنایا جس کے تحت دونوں طرف کے درخت کاٹ دیئے گئے ہیں جن کی تعداد ہزاروں میں ہیں جو کہ نایاب ہیں مزے کی بات یہ ہے کہ درخت کاٹتے وقت ایسے درخت کاٹ دیئے گئے جن کی عمریں 200 سال تک بتائی جاتی ہے۔ اس منصوبے کی راہ میں آنے والا حال ہی میںکروڑوں مالیت سے بنایا جانے والا پارک بھی ختم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر بی آر بی سے موٹروے تک فلائی اوور بن جاتا تو درخت نہ کاٹے جاتے۔ درخت کاٹ دینے سے ایسے لگ رہا ہے جیسے علاقے کی خوبصورتی ہی ختم ہوچکی ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -