اذیت ناک لوڈ شیڈنگ کیخلاف گرمی و حبس سے نڈھال روزہ دار سراپا احتجاج :نہر کنارے دن گزارنے پر مجبور

اذیت ناک لوڈ شیڈنگ کیخلاف گرمی و حبس سے نڈھال روزہ دار سراپا احتجاج :نہر ...

  

لاہور (جنرل رپورٹر) صوبائی دارالحکومت لاہور کے شہریوں کا لوڈشیڈنگ سے براحال، شہر لاہور میں نہر کنارے ایک نیا شہر آباد کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 16 سے 18 گھنٹے تک جاپہنچا ہے جس کی وجہ سے لوگ گرمی سے بلبلا اٹھے ہیں۔ رمضان المبارک میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کے تمام وعدے اور دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے اور گزشتہ روز اتوار کے دن بھی لوڈشیڈنگ میں کمی واقع نہ ہوئی جس کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد نے نہر کنارے ڈیرے جمالیے ہیں اور نہانے میں مصروف ہیں۔ لوگوں کے مطابق لوڈشیڈنگ نے ان کا جینا دوبھر کررکھا ہے۔ رمضان المبارک کے گرم مہینے میں حکومت لوڈشیڈنگ کا تحفہ دے کر عوام کے صبر کا امتحان لے رہی ہے۔ انہوں کا کہنا تھا کہ گرمی اور حبس میں اضافہ لوڈشیڈنگ کے بڑھتے دورانیے نے کردیا ہے۔ گھروں میں نہانے اور وضو کرنے کیلئے بھی پانی میسر نہیں ہے جس کی وجہ سے نہر کنارے آکر گرمی کی شدت کم کرلیتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق لوگوں کی ایک بڑی تعداد فیملی سمیت جوق درجوق صوبائی شہر واقع نہر آتے ہیں اور ٹھنڈے پانی اور ٹھنڈے سائے تلے بیٹھ کر روزہ گزارتے ہیں۔ واپڈا کے مختلف دفاتر میں لوگوں نے گھیراﺅ جلاﺅ کیا اور احتجاج کیا مگر حکومت نے بھی لوڈشیڈنگ میں کمی کا کوئی ارادہ نہیں کیا جس کی وجہ سے عوام میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ ہم اس حکمران ٹولے کو ووٹ دے کر ان سے بہت بڑی غلطی ہوگئی ہے۔ جس کی وجہ سے آج انہیں گھر سے باہر دن گزارنا پڑتا ہے۔ بوڑھوں، بچوں اور خواتین کا شدید گرمی میں بہت برا حال ہوجاتا ہے جبکہ حکومت کے سر پر جوں تک نہیں رینگی۔ عوام لاہور کا کہنا تھا کہ جو شخص وزیر بجلی وپانی بن کر اپنے فرائض سرانجام نہ دے پایا اسے وزیراعظم کا عہدہ دے کر پوری قوم سے مذاق کیا گیا ہے۔ لوگوں کا مزید کہنا تھا کہ وہ دن دور نہیں جب ان حکمران ٹولے کے گریبانوں میں عوام کا ہاتھ ہوگا اور لوگ انصاف کے حصول کے لئے سڑکوں پر نکل آئیں گے اور اپنے ساتھ ہوئی زیادتیوں کا ازالہ خود کریں گے۔ واضح رہے کہ حکومت نے بجلی پیدا کرنیوالی کمپنیوں کے پیسے روک رکھے ہیں جس کی وجہ سے شارٹ فال 6000 میگا واٹ تک پہنچ چکا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا پہلے سے ہی موقف ہے کہ وفاقی حکومت لوڈشیڈنگ کرکے جس صوبے سے ناانصافی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ پنجاب کے کئی شہروں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ دوسرے صوبوں کے شہروں میں ہونیوالی لوڈشیڈنگ سے قدرے زیادہ ہے۔ جو کہ وفاقی حکومت کی سازش ہے۔ نہر کنارے لوگو کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا کیمپ آفس میں اجلاس کرانا خوش آئند ہے۔ خادم اعلیٰ بھی عام عوام کے حالات سے آگاہی رکھتے ہیں جس کی وجہ سے وہ گرمی میں اجلاس منعقد کرتے ہیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -