قومی عبوری حکومت کیلئے تمام سیاسی قوتوں سے بات چیت جاری ہے، شامی عبوری کونسل

قومی عبوری حکومت کیلئے تمام سیاسی قوتوں سے بات چیت جاری ہے، شامی عبوری کونسل

  

دمشق/ابوظہبی(آن لائن)شام کی قومی عبوری کونسل کے سربراہ عبدالباسط سیدا نے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی برادری شام میں خون خرابہ بند کرانے کے لیے سلامتی کونسل کے بجائے جنرل اسمبلی کے ذریعے فوری مداخلت کرے کیونکہ سلامتی کونسل شام میں صدر بشار الاسد کی جانب سے عوام پر مسلط کی گئی خونی جنگ کو رکوانے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے بار بار کے اجلاسوں میں چین اور روس جیسے اسد نواز ممالک کے ویٹو کے بعد شام میں خون کا کھیل بند کرانے میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ عالمی برادری کے پاس سلامتی کونسل کے علاوہ جنرل اسمبلی کے ذریعے بھی شام میں مداخلت کاآپشن موجود ہے۔شامی عبوری کونسل “ایس این سی” کے سربراہ نے ان خیالات کا اظہار متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل نے ہمیں بتا دیا ہے کہ روس کے خطے میں کچھ مفادات ہیں اور ماسکو کے یہ مفادات صدر اسد کے ساتھ وابستہ ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہونا چاہیے کہ شامی قوم کے مفادات کو نظر انداز کر کے ان کا قتل عام جاری رکھا جائے۔ قومی حکومت کے قیام کے بارے میں پوچھے گئے ۔عبدالباسط سیدا نے تسلیم کیا کہ شام میں عبوری حکومت کے متفقہ نقشہ راہ کی تیاری میں تاخیر کی وجہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان موجود اختلافات ہیں، جب تک شامی قوم کے تمام دھارے ایک ایجنڈے پر متفق نہیں ہو جاتے بشار الاسد کی باغیانہ اور ظالمانہ کارروائیاں بھی جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے شامی حکومت کے ہاتھ سے ملک نکل رہا ہے بشار الاسد اسی طاقت اور وحشت کے ساتھ عوام پرمظالم ڈھا رہا ہے۔ حتیٰ کہ اب نوبت نہتے مظاہرین پر میگ 12 اور میگ 23 جنگی جہازوں کے ذریعے بمباری تک جا پہنچی ہے، جو نہایت خطرناک ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -