پشاور سمیت صوبہ بھر میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ کھٹائی کا شکار ہوگیا

پشاور سمیت صوبہ بھر میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ کھٹائی کا شکار ہوگیا

  

پشاور (نعیم سرحدی سے ) پشاور سمیت صوبہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ کٹھائی کا شکار ہوگیا ہے اور عام انتخابات کے بعد نئی حکومت کی نگرانی میں بلدیاتی انتخابات متوقع ہیں بلدیاتی انتخابات کے مسلسل التواءکے سبب یونین کونسلوں کے ذریع عوام ملنے والی بیشتر سہولیات سے محروم ہوگئے ہیںجو چھوٹے موٹے مسائل دستاویزات کی تصدیق وغیرہ کیلئے رل گئے ہیں اس سلسلے میں باخبر سرکاری ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت کی واضح ہدایات کے باوجود صوبہ خیبر پختونخوا میں متوقع بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے جسکی وجہ سے عوامی مسائل گھمبیر ہوتے جارہے ہیں ذرائع کے مطابق شناختی کارڈ فارمں ،پیدائشی فارموں کی تصدیق اور دیگر کاغذات کی تصدیق اور سرکاری معاملات کیلئے شہریوں بلخصوص خواتین ،ضعیف العمر افراد وغیرہ کو سخت پریشانی اور مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے غریب اور بے بس لوگوں کی کلاس ون افسروں تک رسائی انتہائی مشکل ہے جبکہ بیشتر کلاس ون افیسر دوسرے اضلاع سے نقل مکانی کرنے اور آئی ڈی پیز اور دیگر لگوں کی تصدیق اس وجہ سے کرنے سے کتراتے ہیں کہ یہ کہیں قبائلی علاقوں یا افغانستان کے دہشت گرد نہ ہوں ،تصدیق کرنا عوامی نمائندوں کا کام ہے جو مقامی لوگوں اور ووٹروں کو اچھی طرح پہچانتے ہیں ذرائع کے مطابق لوکل یونین کونسلوں کے سیکرٹریز بھی مختلف پریشانیوں اور مشکلات کا شکار ہیں جنہیں دو دویونین کونسلوں حوالے کرکے جہاں بیگار لیا جارہا ہے وہاں بااثر افراد اور وزراءکے منظور نظر سنیٹریشن سٹاف کے ارکان اور ملازمین ڈیوٹیوں سے غائب ہیں اور بااثر وزراءاور افسروں کے دباﺅ کے پیش نظر ہر ماہ کی یکم سے تین تاریخ تک تنخواہیں تو لے کر حکومتی خزانہ کو کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگا رہے ہیں لیکن ڈیوٹی پر نہیں آرہے جسکی وجہ سے بلدیاتی نظام تباہ ہوگیا ہے اور خاص کر ضلع پشاور کے چاروں ٹاونز میں صفائی کا نظام بری طرح ناکام ہوگیا ہے شہر اور گردو نواح میں گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں بلدیاتی ناظمین اور کونسلروں کی موجودگی میں عوام کے ہر قسم کے بنیادی مسائل انکے گھروں کی دہلیز پر حل ہوجاتے تھے جبکہ بلدیاتی نظام کے ختم ہونے اور بلدیاتی انتخابات نہ کرائے جانے کے سبب 80فیصد لوگوں کو پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت نے عوامی مسائل کے حل کیلئے چند اضلاع جن میں نوشہرہ ،مردان ،مانسہرہ شامل ہیں میں جرگہ سسٹم رائج کیا ہے لیکن مصالحتی جرگوں کے دوران فریقین سے ممبروں کو شامل نہ کرنے کی پالیسی کے سبب بری طرح ناکام ہوگیا ہے جبکہ زیادہ تر اضلاع میں اسی وجہ سے جرگہ سسٹم نافذ نہ کیا جاسکا ذرائع نے نشاندہی کی کہ سابق صدر جنرل ضیاءالحق کے دور میں بلدیاتی نظام میں قائم مصالحتی جرگہ موضوع اور مناسب تھا جن میں فریقین کے ایک ایک معزز نمائندے کو شامل کیا جاتاصوبہ بھر میں اس جرگہ سسٹم کو بحال کرنے سے صورتحال بہتر ہوسکتی ہے ذرائع نے بعض علاقوں کے جرگہ ممبران کے ثبوت پیش کرتے بتایا کہ کمیٹیوں کے بعض ایسے ممبر بھی ہیں جو اپنے خاندانوں کے فیصلے نہیں کراسکتے تو وہ عوام کے لئے جرگے اور تصفیئے کیسے کرائیں گے انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے چند خامیوں کو دور کرکے 1979کے مصالحتی کمیٹی سسٹم کو بحال کیا تو امن وامان کی صورتحال کافی حد تک بہتر ہوسکتی ہے ۔

مزید :

صفحہ آخر -