ٹیلنٹ (1)

ٹیلنٹ (1)
ٹیلنٹ (1)

  



جزائر غرب الہند (ویسٹ انڈیز) کی نحیف و نزار کرکٹ ٹیم کے خلاف قومی ٹیم کی سیریز میں فتح پر شادیانے بجائے جانے کے علاوہ 40سالہ کپتان مصباح الحق کی توصیف میں ڈونگرے برسانا ناقابل فہم ہے۔70اور80ءکی دہائی میں ناقابل تسخیر سمجھی جانے والی اس ٹیم(ویسٹ انڈیز) کا سفر معکوس 1996ءکے عالمی کپ میں آسٹریلیا کے ہاتھوں سیمی فائنل میں شکست کے بعد شروع ہوا جو تاحال جاری ہے۔کھیل کے پنڈتوں کے مطابق مذکورہ ٹیم کی ماضی قریب میں سب سے بڑی کامیابی 2003ءکے عالمی کپ میں جنوبی افریقہ کو شکست دینا تھا، اگرچہ 2007ءکے ورلڈکپ میں اس ٹیم نے پاکستان کو شکست سے دوچار کرکے دوسرے مرحلے (سپر8) کے لئے کوالیفائی کرلیا تھا، لیکن 2007ءکا عالمی کپ پاکستانی ٹیم کے لئے ایک بھیانک خواب تھا اور کوچ باب وولمر کی پُراسرار موت سے لے کرآئر لینڈ کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست تک پاکستانی ٹیم نے کئی ناقابل تلافی نقصان برداشت کئے،جن کی بدولت اس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان دکھائی دیا۔یہی وجہ تھی کہ 2007ءکے عالمی کپ کے ابتدائی مرحلے میں جب ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو شکست سے دوچار کرکے دوسرے مرحلے کے لئے کوالیفائی کیا تو مبصرین نے اس پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کی دوسرے مرحلے میں خراب کارکردگی کی پیش گوئی کی جو سو فیصد درست ثابت ہوئی،شہرہ آفاق کپتان برائن چارلس لارا کی موجودگی بھی ویسٹ انڈیز کو ذلت آمیز شکستوں سے نہ بچا سکی اور یوں یہ ورلڈکپ لارا کے کیرئیر کے خاتمے کا باعث بھی بن گیا۔

1975ء،1979ءاور 1983کے ابتدائی تین عالمی کپ کے فائنل کھیلنے (اور دو میں کامیابی حاصل کرنے والی) والی جزائر غرب الہند کی ٹیم نے 90ءکی دہائی کے اواخر تک برائن چارلس لارا، شیونارائن چندرپال، کورٹنی واش، کرٹلی امبروز اور رچی رچرڈسن جیسے کھلاڑیوں کے باعث اپنا بھرم کسی حد تک برقرار رکھا، لیکن 1996ءمیں رچی رچرڈسن کے بطور کپتان ریٹائرڈ ہونے کے بعد اس کے زوال کا جو سلسلہ شروع ہوا، وہ آج تک نہ تھم سکا۔

2000ءکے بعد رام نریش سروان اور کرس گیل جیسے ٹیلنٹڈ کھلاڑی اس ٹیم میں شامل تو ہوئے، لیکن ان کی کارکردگی ایک آدھ میچ میں ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرنے سے زیادہ نہ ہوتی، جس کے بعد اس ٹیم کا شمار اے کیٹگری سے نکل کر بی اور پھر سی کیٹگری میں ہونے لگا۔2005ءکے بعد آسٹریلیا، انگلینڈ، بھارت اور جنوبی افریقہ (شاید پاکستان نے بھی ایک سیریز میں) نے متعدد سیریزوں میں ویسٹ انڈیز کو وائٹ واش (تمام میچوں میں شکست) کی خفت سے دوچار کیا۔گزشتہ عشرے کے دوران آسٹریلیا اوربھارت نے ویسٹ انڈیز کو کمتر درجے کی ٹیم تصور کرتے ہوئے اس کے خلاف باہمی مقابلوں میں اپنے بہترین کھلاڑیوں کو آرام کروایا اور سیکنڈ کلاس ٹیم کو مقابلے کے لئے میدان میں اتارا ،ایسی ہی ایک سیریز کے دوران بھارتی کپتان مہندرا سنگھ دھونی، سچن رمیش ٹنڈولکر، وریندر سہواگ کے علاوہ دیگر سینئر بھارتی کھلاڑیوں کو آرام دیتے ہوئے ویرات کوہلی نے سیریز میں کپتانی کے فرائض انجام دیئے اور ایک جونیئر بھارتی ٹیم نے ویسٹ انڈیز کو سیریز میں وائٹ واش کی خفت سے دوچار کیا ،جس کے بعد حالات یہاں تک خراب ہو گئے کہ کرکٹ میں بے بی ٹیم کے نام سے مشہور بنگلہ دیش نے بھی ویسٹ انڈیز کو ایک باہمی سیریز میں 3-0کی ذلت آمیزشکست سے دوچار کرتے ہوئے اس کے خلاف وائٹ واش مکمل کیا۔

کرکٹ کے موجودہ حالات میں بھارت اگرچہ عالمی کپ اور چیمپئنز ٹرافی کا فاتح ہے، لیکن اس کی بھی کارکردگی میں تسلسل نہ ہونے کے باعث کسی بھی ٹیم کو کرکٹ کی دنیا میں ناقابل تسخیر ہونے کا دعویٰ نہیں رہا۔1999ءسے 2007ءتک مسلسل تین عالمی کپ جیتنے والی آسٹریلوی ٹیم بھی شکست و ریخت سے دوچار ہے۔دوسری جانب آسٹریلیا اور دیگر ٹیموں کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کامیابی حاصل کرنے والی انگلینڈ کی ٹیم بھی ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں خاص کارکردگی دکھانے سے محروم ہے، اگرچہ انگلینڈ نے 2010ءمیں کرکٹ کا ٹی 20ورلڈکپ ضرور جیتا، لیکن اس فارمیٹ میں کسی بھی ٹیم کی کارکردگی میں مستقل مزاجی دکھائی نہیں دیتی۔

2007ءکا پہلا ٹی 20ورلڈکپ بھارت نے ،2009ءمیں پاکستان نے 2010ءمیں انگلینڈ نے اور 2012ءمیں ویسٹ انڈیز نے جیتا۔کرکٹ میں اس فارمیٹ کی آمد سے کسی بھی ٹیم کو فیورٹ کا درجہ حاصل نہیں رہا، کیونکہ کسی بھی ٹیم کے لئے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ بیک وقت ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی 20 میں کامیابیوں کا سلسلہ جاری رکھ سکے، لیکن کرکٹ کے ماہرین ابھی بھی ٹیسٹ اور ون ڈے انٹرنیشنل مقابلوں کو اصل کرکٹ قرار دیتے ہوئے ٹی 20کرکٹ کو محض تفریح کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔اس لئے ان دونوں فارمیٹس میں عمدہ کارکردگی دکھانے والی ٹیموں کو ہی کرکٹ کے میدان کا فاتح سمجھا جاتا ہے اور گزشتہ ایک عشرے سے ویسٹ انڈیز کی ٹیم ٹیسٹ اور ون ڈے میں مسلسل شکستوں سے دوچار ہو رہی ہے، اس لئے اس کے خلاف پاکستانی ٹیم کی فتح زیادہ اہمیت کی حامل نہیں۔

گزشتہ مہینے ہونے والی آخری چیمئنز ٹرافی (اس ٹرافی کے بعد چیمپئنز ٹرافی کا انعقاد بند ہوچکا) میں پاکستانی ٹیم نے اپنے پول کے تینوں میچوں میں شکست کھائی،جس میں یہ ویسٹ انڈیز کے خلاف بھی شکست سے دوچار ہوئی، اس لئے بعض ماہرین کے مطابق ویسٹ انڈیز میں ہونے والی حالیہ سیریز بہت اہمیت کی حامل تھی، جس میں پاکستان کو لازمی فتح حاصل کرنا تھی جو اگرچہ پاکستان حاصل کر چکا، لیکن اس فتح کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ ٹیم ان خامیوں سے پاک ہوگئی، جس کا سامنا اسے گزشتہ ایک عشرے کے دوران رہا ہے۔ویسٹ انڈیز کے انتہائی کمزور باﺅلنگ اٹیک کے سامنے پاکستانی بلے بازوں نے جس انداز سے اپنی وکٹیں گنوائیں، اگر صحیح معنوں میں اس کا احتساب ہو تو کوئی بھی بلے باز اس قابل نہیں کہ وہ بین الاقوامی مقابلوں میں ملک کی نمائندگی کر سکے۔بلے بازوں کے علاوہ باﺅلرز کی کارکردگی میں بھی تسلسل دکھائی نہیں دیتا۔سیریز کے تیسرے میچ میں حریف ٹیم کے آخری دو کھلاڑیوں نے 80رنز کا تعاقب کیا اور پاکستانی باﺅلر انہیں آﺅٹ کرنے سے قاصر رہے۔(جاری ہے)     ٭

مزید : کالم