نواز شریف اور عمران خان ایک ہی پیج پر آگئے

نواز شریف اور عمران خان ایک ہی پیج پر آگئے
نواز شریف اور عمران خان ایک ہی پیج پر آگئے

  

ویسےتو عمران خان نے ”آزادی مارچ“کی کال دے کر وزیر اعظم نواز شریف کو مشکل میں ڈال رکھا ہے اور حکومت اس مارچ سے جان چھڑانے کے لیے نت نئے طریقے تلاش کر رہی ہے، بظاہر تو یہ دونوں صاحبان ایک دوسرے کی ضد ہیں لیکن ایک بات پر دونوں نے اتفاق کیا ہے اور وہ ہے 28روزوں کی عید ۔پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے سعودی عرب میں 28روزوں کے ساتھ رمضان المبارک کو رخصت کیا تووہیں عمران خان بھی ان سے پیچھے نہ رہے اور وہ بھی 28روزوں کے بعدقبائلی بھائیوں کیساتھ خوب کھاتے پیتے دیکھے گئے۔

وزیراعظم نواز شریف اور عمران خان دونوں قومی رہنماﺅں کو دیکھ کر احساس ہوا کہ واقعی قوم حقیقی رہنماﺅں سے محروم ہے۔ایک جانب نواز شریف بظاہر وزیراعظم تو اسلامی جمہوری پاکستان کے ہیں لیکن اپنی عید وہ ایک دن قبل یعنی 28 جولائی کو سعودی عرب میں منانے کے بعد رائیونڈ پہنچ چکے ہیں ۔اس سال بھی وطن عزیز میں دوہری عیدیں منائی گئیں یعنی پشاور ،بنو ں وغیرہ میں 28جولائی کو  باقی پاکستان میں 29جولائی کو عید منائی گئی۔گذشتہ سال تو کسی نا کسی طرح یہ بندوبست کر لیا گیا تھا کہ تمام پاکستان میں ایک ہی روز عید ہوگی اور اس پیشرفت میں تحریک انصاف نے خصوصی دلچسپی دکھائی تھی لیکن اس بار قوم کو ’پوپلزئی‘ کے سپرد کردیا گیا۔عمران خان جو خود کو تمام پاکستان کے لیڈر کہتے ہیں نےباقی تمام پاکستان کو چھوڑتے ہوئے 28جولائی کوخیبرپختونخواہ میں جاکر عید مناڈالی ۔ملک کے ٹی وی چینلز نے ان کی ویڈیو فوٹیج چلائی جس میں وہ زوروشور اور بے تکلف ہو کر کھانے پر ٹوٹ پڑے۔ کیا کیا جائے  کہ وہ متاثرین وزیرستان آپریشن کے ساتھ عید منا رہے تھے لیکن دوسری جانب بقیہ پوری قوم روزے کی حالت میں اُنہیں کھاتے دیکھ رہی تھی اور یہ سوچنے پر حق بجانب تھی کہ کیا 28 روزوں کی عید ہو سکتی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کو دیکھا جائے تو انہوں نے بھی سعودی عرب میں عید منائی، قوم کو مایوس نہیں تو کم از کم شش و پنج میں ضرور چھوڑا ۔ویسے ’ان ‘سے اتنی بھی کیا محبت کہ قوم کو چھوڑ کر آپ وہاں تشریف لے گئے۔ یقیناً ان دونوں لیڈروں نے رمضان کا آغاز اپنی قوم کے ساتھ کیا لیکن اختتام؟

میرا خیال ہے کہ یہ دونوں لیڈر کسی اور بات میں ایک پیج پر ہوں یا نہ ہوں لیکن 28روزوں کے معاملے میں ایک پیج پر ضرور ہیں ۔ان دونوں قومی لیڈروں کو اب مل بیٹھنا چاہئے اور کم ازکم اس بات پر ضرور اتفاق کرلینا چائیے کہ آئندہ عید 28روزوں کے بعد ہو گی یا پھر ہمیں اپنے کیلنڈر کو سعودی عرب کے ساتھ ہی جوڑ دینا چاہئے،گو کہ اس میں کئی پیچیدگیاں ہوں گی لیکن یہ پیچیدگیاں دو عیدوں سے توکم ہوں گی۔

مزید :

بلاگ -