اس یورپی شہری کو ایک ایسی وجہ سے جیل میں ڈال دیا گیا کہ اگر پاکستان میں یہ کردیا جائے تو آدھے سے زیادہ انٹرنیٹ صارفین جیل پہنچادئیے جائیں

اس یورپی شہری کو ایک ایسی وجہ سے جیل میں ڈال دیا گیا کہ اگر پاکستان میں یہ ...
اس یورپی شہری کو ایک ایسی وجہ سے جیل میں ڈال دیا گیا کہ اگر پاکستان میں یہ کردیا جائے تو آدھے سے زیادہ انٹرنیٹ صارفین جیل پہنچادئیے جائیں

  


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ایک شہری کو ایک ایسی وجہ سے جیل میں ڈال دیا گیا ہے کہ اگر یہی کام پاکستان میں ہونے لگے تو آدھے سے زیادہ لوگ جیلوں میں قید ہوں گے۔برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق 44سالہ ڈیوڈ بیل مین نامی اس شخص کو گالیاں دینے پر 4ماہ قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ کارن وال کے علاقے کے رہائشی ڈیوڈ پر الزام تھا کہ وہ اپنے سٹاف کو گالیاں دیتا ہے اور ایک بار ریلوے سٹیشن پر بھی اس نے لوگوں کو مغلطات سے نوازا تھا۔ شہریوں کے شکایت کرنے پر اسے گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اسے ایک ماہ قید کی سزا سنائی گئی اور وارننگ دی گئی کہ آئندہ کبھی کسی کو گالی مت دینا ورنہ دوبارہ جیل میں ڈال دیئے جاﺅ گے۔

نوجوان نے محبوبہ کو شادی کی پیشکش کیلئے موٹروے بند کردیا

رپورٹ کے مطابق جیل سے رہا ہونے بعد ایک ماہ کے اندر ڈیوڈ نے دو جگہوں پر لوگوں کو گالیاں دے ڈالیں اور عدالت کی حکم عدولی کا مرتکب ہو گیا۔ اس پر اسے دوبارہ 4ماہ کے لیے جیل بھیج دیا گیا ہے۔فیصلے کے بعد ٹرورو پولیس کے سارجنٹ کا کہنا تھا کہ ”ہمیں امید ہے کہ اب لوگ گلی میں گالیاں پڑنے سے محفوظ رہیں گے اور سکون سے اپنے روزمرہ کے کام سرانجام دے سکیں گے۔“ آج ہمیں پاکستان میں ہر ایرا غیرا انٹرنیٹ پر بیٹھ کر ملک کی اعلیٰ شخصیات تک کو مغلظات بکتا نظر آتا ہے۔ کوئی ایک شخصیت بھی ان کے شر سے محفوظ نہیں۔ اگر پاکستان میں گالیاں بکنے پر سزا ملنی شروع ہو جائے تو یقینا آدھے سے زیادہ انٹرنیٹ صارفین جیلوں میں سڑ رہے ہوں گے۔ کیا کہتے ہیں آپ، یہ قانون پاکستان میں بھی ہونا چاہیے یا نہیں؟

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...