"جان، جان : پاکستان"

"جان، جان : پاکستان"

  

کشمیر کی سحر انگیز فضاوں میں پرُ جوش نعرے جس میں جنت نظیر و ادی کے نوجوان "جان ، جان : پاکستان " کہہ کہ نہ صرف پاکستان سے وابستگی کا اعادہ کر رہے ہیں، بلکہ عالمی برادری اور بھا رت کو بھی بہت واضح پیغام دے رہے ہیں کہ کشمیر کی پانچویں نسل بھی پاکستان کے نام پر جان قربان کرنے کو ہمہ وقت تیار ہے ۔برہان وانی ، جدوجہد آزادی ،کشمیر کا 22 سالہ نوجوان سپاہی کشمیری لگن اور قومی جراٗت و حمیت کی زندہ مثال تھا۔ اس کی شہادت کشمیر کی دہائیوں سے جاری جہدوجہد کو نئی جہت اور تازگی دے کر اُسے ہمیشہ کے لئے امر کر گئی۔ پاکستان کے عوام ،ریاست اور حکومت نے ہمیشہ کی طر ح اِس بار بھی کشمیری بھائیوں کے ہم آواز ہو کر کشمیر سے اپنے لگاؤکا پھر پور انداز میں اظہار کیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور غیر انسانی جنگی جرائم کی پاکستان نے ریاستی سطح پر مذمت کی اور 20 جولائی کو یوم سیاہ منایا گیا۔ وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا، جس کے مطابق نہ صرف پاکستان بھر میں "یوم سیا ہ" منایا گیا، بلکہ دنیا بھر میں قائم پاکستان کے نمائندہ مشن اور سفارت خانوں میں یوم سیاہ کی بھر پور تقریبات منعقد کی گئیں۔

20 جولائی کو ملک بھرمیں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی تقریبات منعقد کی گئیں اور تمام سفارتحانوں میں کشمیر کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے قرآن خوانی اور دعائیہ تقریبات کا اہتمام کیا گیا ۔ جس میں سفراکے کرام، دیگر افسران اور پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اِن تقریبات میں سفراء نے مسئلہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور بھارتی مظالم کو بھر پور انداز میں اجاگر کیا اور کشمیر کی جہدوجہد آزادی کی ’’سفارتی سیاسی اور اخلاقی حمایت‘‘ کا آعادہ کیا۔ اِسی حمایت کا والہانہ اظہا وزیر اعظم نے مذکورہ کا بینہ اجلاس میں بھی کیا اور کشمیریوں کو یہ احساس دلایا کہ پاکستان کسی سطح پر کشمیریوں کو فراموش نہیں کرے گا۔ وزیراعظم پاکستان نے واشگاف انداز میں بر ہان وانی کی جدو جہد اور بہادری کو خراج عقیدت پیش کیا اور اُسے" آزادی کا سپاہی"قرار دیا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے ملک میں موجود تمام اہم ممالک کے سفراء کے لئے مسئلہ کشمیر پر خصوصی بریفنگ کا ہتمام کیا، تاکہ بھارتی مظالم کو تما م مما لک کے سفراء کے سامنے واضح کیا جاسکے۔ سفارتی سطح پر بھارت کے ساتھ براہ راست احتجاج ریکارڈ کرانے کے لئے دو بار بھارتی ہائی کمیشن کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔

سول قیادت کے شانہ بشانہ ملٹری قیادت نے بھی کشمیر سے بھر پور یکجہتی اور حمایت کا بر ملااظہار کیا۔ چیف آف آرمی سٹاف نے کورکمانڈرمیٹنگ میں بھارتی مظالم پر تشویش کا اظہار کیا ، خاص طور پر عالمی طاقتوں کو اِس انسانی المیہ کے حل کے لئے اپنا موثر کر دار ادا کرنے پرز ور دیا۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف پہلے بھی واضح طورپر کشمیر کو تقسیم برصغیر کا" نا مکمل ایجنڈا "قرا دے چکے ہیں۔ سول ، ملٹری قیادت کی ان کاوشوں سے واضح طور پر اخذ کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی معاونت اور حمایت کو باہمی اور عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لئے کوشاں ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی کئی ملکوں کی طرف سے عالمی سطح پر کی گئی مذمت شاید بھارت کی جنگی جرائم کی بھر پور عکاسی تو نہ کرتی ہو ہرحال عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتی ضرور ہے ’’نیویارک ٹائمز‘‘ میں مظالم کے خلاف اداریہ تحریر کیا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اپنے لگاؤ آواز بلند کی، بلکہ بھارت میں بھی انسانیت پسند میڈیا ارکان نے انسانی حقوق کی پامالی کو بحث کا موضوع بنایا۔ پاکستان کے میڈیا نے بھی عوام اور پاکستان کی ریاستی حمایت اور بھارتی مظالم کو نمایاں طور پر دنیا کے سامنے پیش کرکے انسان دوست ہونے کا اور کشمیری بھائیوں سے محبت و عقیدت کا بھر پور اظہار کیا۔ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے عین مطابق ہے ۔عالمی سطح پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ، لہذا اس کا حل عالمی ذمہ داری ہے۔ بھارتی پراپیگنڈہ کشمیر کو بھارت کا اندرونی مسئلہ قرار دینے کی غیر قانونی اور مضحکہ خیز کوشش ہے۔ پاکستان سفارتی سطح پر کوشاں ہے کہ مسئلہ کشمیر کو بھارت کے اندرونی اور بھارت و پاکستان کے مابین مسئلے کی سطح سے اٹھاکر عالمی سطح پر نمایاں کیا جائے اور عالمی برادری کواس دیرینہ ذمہ داری یاد دلائی جائے۔ عالمی طاقتوں کو ہر صورت اِس حقیقت کا ادراک کرنا پڑے گا کہ مسئلہ کشمیر کا حل نہ صرف پاکستان اوربھارت کے تعلقات کو بہتر کرے گا ،بلکہ یہ علاقائی ترقی اور عالمی امن میں بھی اپنا بھر پور کردار ادا کرے گا۔ اِس کے علاوہ دیگر عالمی تنظیموں کو بھی اپنا کردار موثر طور پر ادا کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ دہائیوں سے جاری مقبوضہ کشمیر میں دہائیوں سے جاری مظالم کو نہیں رکوا سکی اور اِس کے حل میں اپنا کردار ابھی تک نہیں ادا کرسکی۔ یہ صورت حال اس قراردادوں کی عملی اہمیت اور موثر ہونے پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

اقوام عالم اور عالمی طاقتیں جو عالمی امن کی ضامن ہیں انہیں اقوام متحدہ جیسے اہم ادارے کی ساکھ کی بحالی اور مضبوطی کے لئے مسئلہ کشمیر کو ترجیحاتی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے علاوہ او آئی سی کو بھی کشمیر سمیت دنیا میں تمام مصیبت زدہ مسلمانوں کی داد رِسی کے لئے اپنا کردار واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ ادارے اور تنظیمیں جب عالمی سطح پر زمینی حقائق کے مطابق انسانوں کے مسائل کو حل نہ کر پائیں تو خودبخود غیر متعلقہ ہوکر اپنی اہمیت کھو د دیتی ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو بھی بھارتی مظالم کو اور واضح انداز میں بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے ۔پاکستان عوامی، ریاستی و حکومتی سطح پر کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں ہر طرح کی سفارتی سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا اور تمام پاکستانی اُسوقت کے لئے دعاگو اور منتظر ہیں جب" کشمیر بنے گا پاکستان"۔

مزید :

کالم -