پولیس راج

پولیس راج
 پولیس راج

  

میرے سامنے بیٹھا نوجوان ڈاکو پولیس کے ہاتھوں ظلم و بربریت کی جو داستان سنا رہا تھا، اُ س کا ہر لفظ خنجر کی طرح میرے دل کے ٹکڑے کر رہا تھا، ظلم زدہ جوان آتش فشاں کی طرح پھٹ رہا تھا کہ مجھے کس قصور کی سزا دی گئی، انسپکٹر نے میرے اکاؤنٹ سے ساری رقم نکال لی۔ میرے لاکھوں روپے ہضم کرنے کے بعد بھی اُس کی ہوس ختم نہ ہوئی، اب آکر اُس نے پھر مجھے اوردوسرے قیدیوں کو مارنا شروع کر دیا کہ اور رقم دو اگر تم لوگ رقم نہیں دوگے تو تمہیں زندہ جلادوں گا، وہ ایک ڈیرے سے دوسرے ڈیرے ہمیں جانوروں کی طرح منتقل کرتا رہا، کبھی کسی پرانی فیکٹری میں لے جاتا، جگہوں کی تبدیلی وہ اِس لئے کر رہا تھا کہ کسی کو شک نہ ہوجائے۔ دو یا تین دن کے بعد کھانے کو کچھ دے دیتا، وہ ہمیں اتنا ہی کھانے کو دیتا، جس سے ہم زندہ رہ سکتے تھے، وہ ہماری سانسوں کے دھاگے کو توڑنا نہیں چاہتا تھا، رات کو کسی کو پکڑتا، اُس کو دور دراز جگہ پر لے جاکر اُس کے گھر والوں سے اُس کی بات کراتا، فوری فون بند کرتا اور واپس لے آتا۔ اِس طرح وہ اپنی لوکیشن نہیں دینا چاہتا تھا، اِس طرح وہ چاروں قیدیوں کو نچوڑ رہا تھا، اُس کے ماسڑ پلان میںیہی تھا کہ اِن سے رقم وصول کرکے اِن کو دہشت گرد قرار دے اور پولیس مقابلے میں ہلاک کر دے، اس طرح ایک تو اِن بیچاروں کی ڈھیر ساری دولت ڈکار لوں گا اور پھر حکومت اور ڈی پی او صاحبکی نظروں میں بھی ہیرو بن جاؤں گا، میرے اکاؤنٹ سے لاکھوں روپے نکالنے کے بعد اب اُس نے یہ ضد کی کہ میں دوبئی سے کروڑوں روپے ادھار لے کر اُس کو دوں یا گھر والوں سے کروڑوں روپے منگواؤں، میں نے کئی با ر اُس کے پا ؤں پکڑے کہ میرے پاس یہی پیسے تھے جو تم لے چکے ہو، خدا کی قسم اب میرے پاس کچھ نہیں بچا۔

10دن ہوگئے مجھے گھر سے نکلے ہوئے میں ساہیوال سے راولپنڈی کے لئے نکلا تھا، تو میرے بہن بھائی گھر والے تو پاگلوں کی طرح مجھے ڈھونڈ رہے ہوں گے، نہ میرا پتہ اور نہ ہی میری گاڑی کا میرے گھر والے تو روز مرتے ہوں گے، روز جیتے ہوں گے، مجھے چھوڑ دو میں باہر جاکر تمہاری ہر بات پوری کروں گا، پیسوں کا بھی بندوبست کروں گا، اِسی دوران ایک رات اُس نے مجھے خوب تشدد کرتے ہوئے لہولہان کردیا اور کہا آج رات میں تمہاری مہنگی نئی کار کو روڈ کے اوپر جلا کر راکھ کردوں گا اور یہ کہوں گا کہ تم دہشت گرد تھے، تمہاری کار میں بارود بھرا ہوا تھا۔ اِس لئے تمہاری کار جل گئی اور جب وہ میری کار کو جلانے کے لئے جارہا تھا تو میں نے اُس کی بہت منتیں کیں کہ تم میری کار کو جلادو، لیکن میں جو یتیم بچیوں کی شادی کے لئے بہت سارے کپڑے اور دیگر تحائف دبئی سے لایا ہوں، جو میں دینے راولپنڈی جارہا تھا، یہ مجھے نکالنے دو یا اُن یتیم لڑکیوں کے گھر پہنچا دو تو شیطان انسپکٹر بولا، تمہاری یہ چیز کار میں ہی جل کر راکھ ہوگی اور پھر میری مہنگی کار کو پٹرول چھڑک کر اُس میں بارود رکھ کر شعلوں کے حوالے کر دیا۔ اِس طرح میری کار راکھ کا ڈھیر بن گئی، اس ظالم نے اعلان کیا کہ دہشت گردوں نے خود کو بارود سے اُڑا لیا ہے، انسپکٹر کی دیدہ دلیری دیکھیں، کس طرح وہ اپنا شیطانی کھیل کھیلے جارہا تھا۔

ہمیں اُس جلاد کی قید میں اٹھارہ دن ہوگئے، ان قیامت کے دنوں میں جب یہ ہمیں ایک ڈیرے سے دوسرے ڈیرے لے جاتا تھا، ان میں سے کسی نے پولیس کو خبر کردی۔ ڈی پی او صاحب کو اس نے بتایا ہوا تھا کہ مجرم دہشت گرد ہیں جو آپ کی بھی جان لینا چاہتے ہیں، اِس لئے میں اُن کو تھانے کی بجائے کسی اور جگہ رکھتا ہوں، انسپکٹر کی دیدہ دلیری تھی کہ اپنے آفیسر کو بھی بے وقوف بنا رہا تھا آخر کار رحیم کریم خدا کو ہم پر ترس آگیا۔ ڈی پی او صاحب کو اس پر شک ہوگیا کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے، انہوں نے سختی سے اِس کو حکم دیا کہ دہشت گرد مجرموں کو فوری طور پر تھانے منتقل کرو اور تم نے تھانے سے باہر نجی جیل میں اِن کو رکھ کر قانون سے تجاوز کیا ہے پھر اٹھارویں دن ہمیں تھانے لاکر بند کر دیا گیا۔ انسپکٹر کو بھی مجرم کے طور پر ہمارے ساتھ بندکر دیا گیا اور پھر اگلے دن ڈی پی او صاحب خود جیل میں ہم سے ملنے آئے، اُن کی نظروں میں ہم ابھی تک دہشت گرد مجرم تھے، انسپکٹر نے ہمیں سختی سے کہا تھا کہ اگر تم لوگوں نے میرے خلاف ایک لفظ بھی زبان سے نکالا تو تمہیں زہر دے کر ہلاک کر دیا جائے گا تم نے چُپ رہنا ہے، آخر کار ڈی پی او صاحب ہمارے پاس آئے، ہمیں مجرم سمجھ کر ڈانٹ ڈپٹ کر نکل گئے، بعدازاں ڈی پی او صاحب کا ڈرائیور ہمارے پاس آیا۔ غور سے میری طرف دیکھنے لگا، میرے قریب آیا تو میں دھاڑیں مارکر رونے لگا کہ میں بے قصور ہوں، میری مدد کرو ڈی پی او صاحب واپسی کے لئے گاڑی میں بیٹھ چکے تھے، ڈرائیور گیا اور بولا صاحب جی دال میں کچھ کالا ہے، سچ وہ نہیں جو آپ کو بتایا گیا معاملہ تو کچھ اور ہے، آپ ایک دفعہ دوبارہ واپس جائیں اور جاکر خود قیدیوں سے بات کرلیں، انسپکٹر خطرے کو بھانپ چکا تھا، میرے پاس بیٹھ کر سرگوشیوں میں مجھے کہنے لگا، ایک لفظ بھی زبان سے نہ نکالنا ورنہ ساری عمر قید میں ایڑیاں رگڑتے مرجاؤگے، میں نے تمہارا انتظام کر دیا ہے، ڈی پی او صاحب کے واپس جاتے ہی تم کو رہا کرکے دبئی بھیج دوں گا، وہ مجھ سے باتیں کر رہا تھا کہ ڈی پی او صاحب آگئے، انہوں نے جب اِس کو مجھ سے باتیں کرتے دیکھا تو غصے سے میری طرف دیکھا اور بولے اوئے تم اِس کے دوست ہو۔ اِس کے ساتھ مل کر جرائم کرتے ہو۔ ڈی پی او صاحب کا الزام سن کر میرے ضبط کا بند ٹوٹ گیا، میں دھاڑیں مار کر رونے لگا کہ میں تو دوبئی سے آیا ہوں، میں مجرم نہیں ہوں، اب ڈی پی او صاحب نے شیطان انسپکٹر سے پوچھا بتاؤ یہ کون ہے، اِس کا جرم کیا ہے، انسپکٹر نے میرے خلاف بولنے کی کوشش کی، لیکن خدا نے اُس کے منہ سے نکلوا دیا، سر یہ بے گنا ہ اِ س کا کوئی جرم نہیں اور پھر میں نے اپنے اوپر پچھلے اٹھارہ دنوں میں ہونے والے مظالم بتانے شروع کئے تو ڈی پی او نے اپنا سر پکڑ لیا۔ اٹھے میرے پاس آئے اور ہاتھ جوڑ کر مجھے کہا، یارمجھے معاف کردو یہ میرے نیچے کون سا ظلم ہو رہا تھا، کل روز محشر میں کیسے جواب دیتا۔

محترم قارئین آپ اکثر سوا ل کر تے ہیں کہ یہ سچا واقعہ ہے تو ہا ں یہ سچا واقعہ ہے۔ کالم کی تنگ دامنی کی وجہ سے بہت ساری تفصیلات نہیں لکھ سکا پھر یہ جوان دبئی چلا گیا ۔ پو لیس کی غنڈہ گر دی سے آزاد ہوا اب 6ما ہ بعد یہ جوان میرے پاس آیا آج تک اِس کی کو ئلہ بنی گا ڑی یامتبا دل گاڑی اِس کو نہیں دی گئی اِس کے لاکھوں رو پے جو اِس کے اکا ؤنٹ سے نکالے گئے واپس نہیں دئیے گئے سپرداری کا ڈرامہ جاری ہے انسپکٹر کے گھروالے اور اُس کے پو لیس والے دوست اِس جوان کو دھمکی آمیز فون کر تے ہیں جیل میں شیطان انسپکٹر نے کسی کو کہا ہے کہ یہ میرے حق میں بیان نہیں دے رہا اس کو قتل کر دو یہ بیچارہ چھپتا چھپاتا میرے پاس آیا کہ کوئی دعا بتا ئیں میرے پیسے کار مجھے واپس مل جائے او رمیں پو لیس کے اعلیٰ افسران، وزیر اعلی صاحب، وزیر اعظم صاحب کی پھرتیاں دیکھ رہا ہوں۔

مزید :

کالم -