اتنی سی کہانی 

اتنی سی کہانی 
اتنی سی کہانی 

  

لاپرواہ

مَیں جونہی گھر سے نکلا ضیا بائیک سے اُترتا نظر آیا

ہم دونوں گاؤں میں ساتھ پڑھتے تھے

اسے اچانک سامنے دیکھ کر مَیں حیران رہ گیا

ہم گلے ملے۔وہ کسی این جی او میں کام کر رہا تھا

مَیں نے اُسے گھر کے سامنے کھڑی

چمچماتی کاریں دکھائیں

ضرور پڑھیں: بے ادب بے مراد

دکانوں کی تعداد گنوائی

اور فیکٹری کا راستہ سمجھایا تاکہ وہ ملنے آسکے

’’پروفیسر عطا یہاں رہتے ہیں‘‘ ضیاء نے پڑوسی کا پوچھا

ہاں پنشنر ہیں اکیلے رہتے ہیں مگر۔۔۔‘‘

’’انہوں نے فون کیا تھا این جی او کو‘‘

اُس نے میری بات کاٹ دی

’’کھانا دینے آیا ہوں‘

کئی دن سے بھوکے ہیں وہ‘‘

مزید : رائے /کالم