نئی حکومت کے لئے چیلنجز اور عمران خان کی فراست

نئی حکومت کے لئے چیلنجز اور عمران خان کی فراست
نئی حکومت کے لئے چیلنجز اور عمران خان کی فراست

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نئی آنے والی حکومت کے لئے اقتدار پھولوں کی سیج ہر گز نہیں ہو گا۔ آج مُلک میں بے یقینی کی صورتِ حال ہے۔ اداروں کے بیچ اعتماد کا فقدان ہے، مُلک قرضوں کے بوجھ تلے کراہ رہا ہے بے روزگاری کے طوفان کے ساتھ مہنگائی کا ناگ بھی پھن پھیلائے سامنے کھڑا ہے۔

اوپر سے سیاسی جماعتوں کے بیچ اختلافات دشمنی میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ اگر سرحدوں سے باہر نظر ماریں تو دوست کم دشمن زیادہ نظر آتے ہیں۔مظلوم کشمیری عوام آنکھوں میں آنسو لئے پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ان حالات میں نئی بننے والی حکومت کو اپنا ہر قدم پھونک کر اٹھانا اور اپنا ہر فیصلہ انتہائی تدبر سے کرنا ہو گا۔

ہر انتخاب کے بعد دھاندلی کا شور مچایا جاتا ہے۔ یہی سمجھ لیجئے کہ دھاندلی ہوئی ہے، لیکن پھر بھی ملکی امن کی خاطر اور جمہوری نظام کو تقویت پہنچانے کے لئے خاموشی سے نتائج قبول کریں اور اسمبلی کے اندر دھاندلی کا راستہ روکنے کے لئے قانون سازی کا بل پیش کریں۔

یاد رہے کہ جمہوری نظام میں آہستہ آہستہ بہتری آتی ہے اور سزائیں دینے یا پرتشدد احتجاج کی بجائے قانون سازی سے کرپشن اور دھاندلی پر قابو پایا جانا چاہئے۔ ہم 40 سال سے یہ دیکھتے آ رہے ہیں کہ ہر الیکشن کے بعد ہارنے والی جماعتیں دھاندلی کے الزامات لگاتے ہیں اور احتجاجی تحریک بھی چلاتے ہیں، حالانکہ براہِ راست ایسی کوئی دھاندلی اب ممکن نہیں ہے، بس جس پولنگ بوتھ پر جس جماعت کی اکثریت ہوتی ہے اور مخالف پولنگ ایجنٹ نہیں ہوتا وہاں، جس کی طاقت ہوتی ہے وہ ایسے ووٹ بھی کاسٹ کروا لیتے ہیں جو موقع پر موجود ہی نہیں ہوتے ہیں اور یہ کام ساری جماعتیں کرتی ہیں۔ ویسے بھی جب سارا ملک کرپشن میں ڈوبا ہو اور ہر طرف بددیانتی کا دور دورہ ہو۔

کوئی بھی ادارہ اپنا کام صحیح نہ کرتا ہو تو پھر انتخابات کیوں کر سو فیصد درست ہو سکتے ہیں؟ یہ عمل آہستہ آہستہ وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہوتا جائے گا۔ بس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع ملے اور جمہوری سفر کا تسلسل قائم رہے اور باقاعدگی سے انتخابات ہوتے رہیں۔

تحریک انصاف سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے۔اب عمران خان وزیراعظم بنتے ہیں تو ان پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک کو اس بے یقینی کی صورتِ حال سے نکالیں۔

کچھ جوڑ توڑ کے ساتھ پنجاب میں بھی پی ٹی آئی حکومت بنا سکتی ہے، لیکن عمران خان کو یہ جان لینا چاہئے کہ معاشی طور پر انتہائی کمزور مسائل میں گھرے پاکستان کے ساتھ ساتھ انہیں ایک مضبوط اپوزیشن سے بھی واسطہ پڑنے والا ہے اور جس زور دار طریقے سے انہوں نے خود پچھلے پانچ سال اپوزیشن کی ہے، اس سے کہیں زیادہ مشکلات کا سامنا ان کو بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

اِس لئے یہ ذمہ داری بھی اب عمران خان صاحب پر ہے کہ وہ افہام و تفہیم کی فضا پیدا کریں اور کوئی ایسی صورتِ نکالیں کہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر پاکستان اور جمہوریت کی مضبوطی کے لئے کوئی لائحہ عمل طے کریں اور حکومت کو اپنی کارکردگی دکھانے کا مناسب موقع دیں۔

مزید : رائے /کالم