1988ء کے الیکشن کی یادیں (انتظامیہ سیاسی نمائندوں کے نرغے میں)

1988ء کے الیکشن کی یادیں (انتظامیہ سیاسی نمائندوں کے نرغے میں)
1988ء کے الیکشن کی یادیں (انتظامیہ سیاسی نمائندوں کے نرغے میں)

  

1988ء کے الیکشن کے بعد کے حالات پر بھی روشنی ڈالنا میرا اخلاقی فرض ہے۔ میں منافقت، جھوٹ، فریب اور خوشامد کا قائل نہیں۔ 1988ء میں جوچکوال کے نوزائیدہ بچے تھے وہ آج ماشاء اللہ جوان ہیں۔

میں آج سے 30 سال قبل کی بھولی ہوئی یادداشتوں کو اکٹھا اس لیے کر رہا ہوں تاکہ موجودہ نوجوان نسل کو آگاہی ہوسکے کہ 30 سال قبل کیا سیاسی حالات تھے۔ دراصل میری یہ یادداشتیں خطہِ پاکستان کے اس حصے چکوال کی تاریخ کو محفوظ کررہی ہیں۔ کل ہم اس دنیا میں نہیں ہوں گے تو ہماری تحریروں سے نئی نسل کچھ اسباق سیکھے گی اور رہنمائی حاصل کرسکے گی۔ 

1988ء کے الیکشن کے بعد سیاسی حکومتی پارٹی اور سیاسی اکابرین کی انتظامیہ اور پولیس پر مکمل گرفت تھی۔ ایم این اے چکوال کے داماد میجر سلیم اصغر چیئرمین ضلع کونسل تھے اور میر اہمیشہ احترام کرتے تھے۔

ایک دفعہ میں ڈسٹرکٹ کونسل ریسٹ ہاؤس کلر کہار گیا تو ریسٹ ہاؤس کے پردے پھٹے ہوئے تھے اور چائے کے کپ اور کراکری ٹوٹی ہوئی تھی۔ میں نے چیئرمین ضلع کونسل کو ایک خط لکھا: ’’جناب چیئرمین! ریسٹ ہاؤس پر لاکھوں روپے خرچ ہوئے اور ایک خوبصورت عمارت تعمیر ہوئی۔ اس ریسٹ ہاؤس کے پردے پھٹے ہوئے ہیں اور کراکری ٹوٹی ہوئی ہے۔ بہتر ہے ضلع کونسل نئے پردے لگوائے اور نئی کراکری خریدے کیونکہ کئی معزز شخصیات کے علاوہ سیاح بھی کلر کہار ریسٹ ہاؤس میں ٹھہرتے ہیں۔‘‘

میرے دوست چوہدری محمد یوسف آف فِم کسر نے مجھے چند دن بعد بتایا کہ جب آپ کا خط چیئرمین ضلع کونسل کو ملا تو وہ سیخ پا ہوکر کہنے لگا: ’’ڈپٹی کمشنر کون ہوتا ہے جو ہمیں حکم جاری کرے؟‘‘ اس واقعہ سے انتظامیہ کی بے بسی اور کمزوری کا اندازہ ہوتا ہے۔ ڈپٹی کمشنر جو سرکاری حکم بھی جاری کرتا اس میں سیاسی اکابرین کی مداخلت ہوتی تھی۔ وہ چاہتے تھے ہر کام ان کی مرضی کے مطابق ہو۔ 

ایک دفعہ چکوال کا ایک صوبائی وزیر ڈپٹی کمشنر آفس میں مجھے ملنے آیا۔ میں اس کے استقبال کے لیے آگے بڑھا تو وہ بلا جھجھک میری کرسی پر براجمان ہوگیا۔ اس کے ہمراہ اس کے حاشیہ بردار بھی تھے۔

وزیر صاحب نے بڑے رعب سے ڈپٹی کمشنر کو احکامات جاری کرنا شروع کردیئے۔ بدتمیزی اور جہالت کا یہ مظاہرہ میرے لیے بڑا عجیب تھا۔ ایک دفعہ میاں نواز شریف صاحب وزیر اعلیٰ پنجاب ہاؤس راولپنڈی جلسے پر آئے۔

مجھے محکمہ جنگلات کے کسی آفیسر نے ایک کام کہا تھا کہ اس نے مایوس ہوکر استعفیٰ دے دیا ہے۔ وہ دیانت دار آفیسر ہے۔ اس کے بچے زیر تعلیم ہیں۔ آ پ وزیر اعلیٰ سے احکامات جاری کروادیں تاکہ اس کا استعفیٰ واپس ہوجائے۔ میں نے چوہدری لیاقت ایم پی اے چکوال کو یہ کام کہا تو وہ کہنے لگا: ’’میں اس وقت سخت مصروف ہوں۔ سامنے پارکنگ میں میری پجارو کھڑی ہے اور ڈرائیور موجود ہے۔

آپ ڈرائیور سے میرا بریف کیس اُٹھا لائیں کیونکہ اس میں میرا پیڈ پڑا ہے۔ اس پر میں آپ کا کام لکھ کر وزیر اعلیٰ سے احکامات جاری کرواؤں گا۔‘‘ مجھے چوہدری لیاقت کی اس حرکت پر بڑا دکھ ہوا لیکن خدمت خلق کے جذبے کے تحت کہ کسی مسکین کا کام ہو جائے، میں ایم پی اے کا بریف کیس لے آیا۔ چوہدری لیاقت نے اپنا پیڈ نکالا اور وزیر اعلیٰ سے احکامات جاری کروادیئے۔

مزید : رائے /کالم