حکومت سازی کے لئے جوڑ توڑ۔۔۔ اصولوں کو سربلند رکھیں

حکومت سازی کے لئے جوڑ توڑ۔۔۔ اصولوں کو سربلند رکھیں

پاکستان پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ(ن)، متحدہ مجلس عمل(ایم ایم اے) اور دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر وفاق میں حکومت سازی کی تجویز مسترد کر دی ہے،بلاول بھٹو زرداری اور اُن کے والد آصف علی زرداری کا موقف ہے کہ انتخابات میں بدترین دھاندلی ہوئی،لیکن ہم اِس کے بدلے میں غلط روایت نہیں ڈالیں گے، معاملے کو پارلیمینٹ میں آگے بڑھائیں گے۔معلوم نہیں یہ تجویز اُنہیں کس نے پیش کی تھی اور اِس تجویز کو آگے بڑھانے کے کتنے امکانات تھے،کیونکہ اگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن)کی نشستوں کو جمع کر لیا جائے تو بھی تعداد پاکستان تحریک انصاف سے کم رہتی ہے، جہاں تک ایم ایم اے کا تعلق ہے اس کی قیادت تو حلف اٹھانے ہی کے حق میں نہیں اور یوں اسمبلی کے بائیکاٹ کے راستے پر چلنا چاہتی ہے، تاہم اگر یہ تجویز پیپلزپارٹی کی قیادت کو کسی جانب سے باضابطہ طور پر پیش کی گئی تھی تو یہ جمہوری سپرٹ کے خلاف ہے اور اسے مسترد کر کے پیپلزپارٹی نے اچھا کیا ہے۔اگرچہ ایسے غیر جمہوری روئیے ماضی میں مروج رہے ہیں اور چھوٹی پارٹیاں کسی نہ کسی کی آشیر باد سے بڑی پارٹی کو بے دست و پا کر کے اپنی حکومت بناتی رہی ہیں جیسا کہ غلام اسحاق خان کی سرپرستی میں جام صادق نے صوبہ سندھ میں پیپلزپارٹی کے ساتھ کیا تھا۔

وفاق میں اگرچہ نمبر گیم اب بھی پوری نہیں اور تحریک انصاف کو کئی دوسری جماعتوں اور تقریباً تمام آزاد ارکان کا تعاون مطلوب ہے، جس کے بغیر عمران خان وزیراعظم بن سکتے ہیں، نہ تحریک انصاف کی حکومت بن سکتی ہے،قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے اپنے ارکان کی تعداد اِس وقت115 ہے ان میں سے بھی جب ایک سے زیادہ نشستوں پر منتخب ہونے والے اپنی نشستیں چھوڑیں گے تو تعداد مزید 10 تککم ہو جائے گی اور تحریک انصاف کو اکثریت کے لئے دوسری جماعتوں پر انحصار کرنا ہو گا،جس کے حصول کے لئے جہانگیر ترین اور پارٹی کے دوسرے رہنما کافی سرگرم ہیں۔ بعض آزاد ارکان پارٹی میں شامل بھی ہو رہے ہیں، قومی اسمبلی میں ایسی جماعتیں بھی ہیں، جن کے پاس چند نشستیں ہیں اور وہ وزیراعظم کے انتخاب میں عمران خان کے حق میں ووٹ ڈال سکتی ہیں تاہم تادمِ تحریر تحریک انصاف کو کم از کم 20ارکان کی مزید حمایت درکار ہے، دیکھیں یہ حمایت اسے کس قیمت پر ملتی ہے اور آزاد ارکان حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کن شرائط پر کرتے ہیں،چونکہ تحریک انصاف نے ہر حال اور ہر قیمت پر حکومت بنانی ہے اور دوسروں کے تعاون کے بغیر اس کا بننا محال ہے اِس لئے ان کی شرائط جیسی بھی ہوں طوعاً وکرہاً ماننا ہی پڑیں گی، بھلے اس کے لئے کچھ اصولوں کی قربانی دینی پڑے یا انہیں کم از کم وقتی طور پر طاقِ نسیاں پر رکھنا پڑے۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو حکومت سازی کا کام مشکلات سے دوچار ہو جائے گا، جس قسم کا مینڈیٹ تحریک انصاف کو ملا ہے ایسے میں یہی کچھ ہوتا ہے۔

لُطف کی بات یہ ہے کہ تحریک انصاف وفاق کے ساتھ ساتھ پنجاب میں بھی اپنی حکومت نہ صرف بنانا چاہتی ہے،بلکہ اس پر اپنا حق بھی جتا رہی ہے،جبکہ پنجاب میں سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ(ن)ہے اور اس کی صوبے میں تقریباً وہی حیثیت ہے، جو وفاق میں تحریک انصاف کی ہے، پنجاب میں مسلم لیگ(ن)کے پاس129 نشستیں ہیں، جو تحریک انصاف سے چھ زیادہ ہیں، کہا جا سکتا ہے کہ فرق بہت معمولی ہے اور دوسرے نمبر والی جماعت کو حق حاصل ہے کہ وہ کھینچ تان کر یہ نمبر پورا کر لے۔ مراد ہے آزاد ارکان یا دوسری چھوٹی جماعتوں کو ساتھ ملا لے،لیکن اگر تھوڑے فرق ہی کو پیشِ نظر رکھنا ہے تو وفاق پر دوبارہ نگاہ ڈالیں وہاں تحریک انصاف اگر ایک جانب ہو اور مسلم لیگ(ن)اور پیپلزپارٹی دوسری جانب تو پھر کوئی فرق نہیں رہ جاتا، پیپلزپارٹی جمہوریت کی خاطر بڑی پارٹی کے مدِ مقابل کوئی گیم نہیں کرنا چاہتی، لیکن پنجاب میں تحریک انصاف کو ایسی کسی گیم پر اعتراض نہیں یہ تو خیر معلوم ہو جائے گا کہ آزاد ارکان اور چھوٹی جماعتیں کس جانب جاتے ہیں اور بالآخر اکثریت کی کیا صورت سامنے آتی ہے،لیکن ہماری گزارش صرف اتنی ہے کہ سیاسی جماعتیں وقتی مصلحتوں اور وقتی مفادات کے لئے جمہوری اصولوں کو پسِ پشت نہ ڈالیں۔ اگرچہ صوبے میں حکومت سازی کے کام میں جُتی ہوئی تحریک انصاف کی قیادت کو اس طرح کا مشورہ پسند نہیں آئے گا،لیکن پیپلزپارٹی کے مستحسن فیصلے کے بعد ایسے مشورے میں چنداں مضائقہ بھی نہیں۔

2013ء کے الیکشن میں خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتِ حال پر ایک نگاہِ واپسیں ڈالنا بے محل نہ ہو گا اس وقت وفاق میں مسلم لیگ(ن)کی حکومت تھی اور صوبے میں تحریک انصاف سنگل لارجسٹ پارٹی تھی، مخالف جماعتیں مل کر حکومت بنا سکتی تھیں،لیکن مسلم لیگ(ن)نے ان کی حوصلہ افزائی نہ کی،بلکہ مولانا فضل الرحمن کو تو باقاعدہ روک دیا گیا اور کہا گیا کہ بڑی پارٹی کو اس کا حق ملنا چاہئے۔ اب دیکھنا ہو گا کہ پنجاب کی بڑی پارٹی کے بارے میں آج وفاق کی حکومت کسی بڑے پن کا مظاہرہ کرتی ہے یا نہیں،بظاہر تو جو سرگرمیاں جاری ہیں اُن سب کا لُبِ لباب یہی ہے کہ تحریک انصاف پنجاب میں دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر ہر حالت میں اپنی حکومت بنائے اور وزیراعلیٰ بھی اپنا بنائے، اس کی ضرورت غالباً اس لئے پیش آئی ہے کہ بعض ایسے نام بھی سامنے آئے ہیں جن کی پارٹیاں تو چند رُکتی ہیں،لیکن وہ اپنی سودے بازی کی پوزیشن سے فائدہ اُٹھا کر اسی طرح وزارتِ علیا حاصل کرنے کے لئے سرگرم ہیں، جس طرح ایک زمانے میں میاں منظور احمد وٹو صرف 18ارکان کے ساتھ وزیراعلیٰ بن گئے تھے اور اتحادی جماعت پیپلزپارٹی اپنے سو سے زیادہ ارکان کے باوجود اپنا وزیراعلیٰ نہیں بنا سکی تھی، بعد میں جب میاں منظور وٹو کو ہٹایا گیا تو بھی ان کے جانشین کا تعلق بھی اُنہی کی جماعت سے تھا،اس پورے عہد میں پیپلزپارٹی کو اپنا وزیراعلیٰ بنانے کی حسرت ہی رہی، جب صورتِ حال ایسی ہو جائے تو کرشمے ہوتے ہیں،لیکن امید یہی کرنی چاہئے کہ جمہوری اصولوں کی بالادستی کا لحاظ رکھا جائے گا اور وقتی مصلحتوں کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔ جو دعوے بہت کرتے ہیں، ان کے کندھوں پر ذمے داری بھی بڑی آجاتی ہے، ایسے میں ’’مفید مشورے‘‘ دینے والے مشیروں سے بھی ہوشیار رہنا پڑتا ہے۔

مزید : رائے /اداریہ