عمران خان اور وزارتِ عظمیٰ 

عمران خان اور وزارتِ عظمیٰ 
عمران خان اور وزارتِ عظمیٰ 

  

آخر کار انتخابات ہو گئے ہمارے لئے انتخابات کا انعقاد ہی بڑی خوش آئند خبر ہے، کیونکہ ہماری تاریخ غلط فیصلوں، بے یقینی اور شکوک و شبہات سے بھری پڑی ہے، ان انتخابات سے پہلے کیا کچھ نہیں کہا گیا، حتیٰ کہ دو ہفتے پہلے تک غیر یقینی صورتِ حال رہی اور یہ افواء بڑے زور سے چلتی رہی کہ انتخابات نہیں ہوں گے اور کیئرٹیکر حکومت تین سال تک کام کرے گی اس سیاست کو پاک کیا جائے گا اور پھر جب ’’مثبت نتائج ‘‘ یقینی ہو جائیں گے اس وقت انتخابات کروائے جائیں گے۔ میں نے 14 مارچ کو اپنے کالم میں کہا تھا کہ انتخابات وقت پر ہوں گے اور عمران خان وزیراعظم بنیں گے۔ الحمدللہ میرا تجزیہ صحیح ثابت ہوا۔ بعد میں بہت سارے تجزیہ نگاروں نے یہی پیشینگوئی کی۔

بہرحال اب عمران خان کا وزیراعظم بننا تقریباً یقینی ہو گیا ہے۔ انہوں نے اس پر قوم سے خطاب بھی کر دیا ہے خطاب میں انہوں نے اپنا لہجہ واضح طور پر بدل لیا ہے اور ایسا ضروری تھا۔ اپوزیشن کی ایجی ٹیشنل سیاست اور ہوتی ہے اور حکومت بالکل مختلف تقاضے رکھتی ہے اب اُن کی سب سے بڑی دشمن جماعت یعنی مسلم لیگ (ن) مرکز اور پنجاب میں اپوزیشن میں ہو گی اور اپوزیشن کے بارے میں ہمارے ہاں عام آدمی کا تصور حکومت کی دشمنی ہوتا ہے،لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہم چونکہ جمہوریت کے زیادہ عادی نہیں اس لئے ہمارے رویئے اور سوچ جمہوری تقاضوں کے بارے میں زیادہ صحیح نہیں۔

جمہوری نظام میں اپوزیشن دراصل اُس نظام کا حصہ ہوتی ہے حکومت کو قدم قدم پر اسمبلیوں میں اپوزیشن سے تعاون کی ضرورت پڑتی ہے۔ عمران خان کو ان باتوں کا احساس ہے۔ عمران خان نے تقریر میں کافی باتوں کا ذکر کیا ہے، حتیٰ کہ خارجہ پالیسی پربھی اپنے خیالات کا اظہار کر دیا ہے۔

اچھا ہوتا وہ اتنی تفصیلی تقریر کے لئے حلف برداری کا انتظار کر لیتے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ سرکاری سطح پر سادگی اپنائیں گے بہت اچھی بات ہے اپنی ذات کی حد تک وہ پہلے ہی سادہ لباس پہنتے ہیں اور صحیح معنوں میں ڈاؤن ٹو ارتھ شخصیت ہیں، لیکن حکومت میں سادگی اپنانا ذرا مختلف بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ پروٹوکول سے جان چھڑائیں گے بڑا اچھا ارادہ ہے،لیکن پروٹوکول میں کمی اور سیکیورٹی کے تقاضوں کے درمیان توازن پیدا کرنا ہو گا۔ یہ بہرحال یورپ نہیں کہ آپ اکیلے گھومتے پھریں سیکیورٹی والے آپ کو بہت ساری باتوں کی اجازت نہیں دیں گے۔

ایک اہم اعلان انہوں نے یہ کیا کہ وہ وزیراعظم ہاؤس کی بجائے منسٹرز انکلیو میں رہیں گے۔ ارادہ اچھا ہے ،لیکن مجھے ڈر ہے کہ اس سے کچھ عملی مسائل پیدا ہوں گے۔

میاں نوازشریف جب دوسری دفعہ وزیراعظم منتخب ہوئے تھے تو انہوں نے وزیراعظم سیکرٹریٹ میں نہ بیٹھنے کا اعلان کر دیا تھا اور کینٹ سیکرٹریٹ میں بیٹھنا شروع کر دیاتھا ،حالانکہ وزیراعظم سیکرٹریٹ کی عمارت تعمیر ہو چکی تھی، جس میں وزیراعظم کے دفتر کے لئے تمام ضروریات کا خیال رکھا گیا تھا ظاہر ہے اخراجات تو ہو چکے تھے پھر اس پر مستزاد کہ کیبنٹ سیکرٹریٹ کی حالت بہتر بنانے پر بھی کچھ فنڈز خرچ ہو گئے یعنی نیک ارادے کے عملی نتائج سے مُلک اور قوم کو کوئی فائدہ نہیں ہو سکا۔

اب عمران خان وزیراعظم ہاؤس نہیں رہیں گے۔ وزیراعظم ہاؤس تو ظاہر ہے اسی مقصد کے لئے بنایا گیا ہے اس کا کوئی اور استعمال تو نہیں ہو سکتا ویسے توپیپلزپارٹی کے زمانے میں وزیراعظم ہاؤس میں ایک پولو گراؤنڈ بھی بنایا گیا تھا اور گھوڑے رکھنے کا بھی بندوبست کیا گیا تھا،جس کا کیس بعد میں سی ڈی اے کے چیئرمینوں سعید مہدی اور ظفراقبال پر چلتا رہا۔ مَیں نے پی ٹی وی کے لئے اس اصطبل پر ایک فلم بھی بنائی تھی۔

اب بھی سنا ہے کہ کچھ پرندے وغیرہ رکھے گئے ہیں اور ان کی خوراک کا خرچہ اسلام آباد کے چڑیا گھر کے بجٹ سے غیرقانونی طور پر لیا جا رہا ہے۔ رہائش کے علاوہ وزیراعظم کو سرکاری تقریباً ت کے لئے بہرحال وہیں جانا ہو گا۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا وہ وزیراعظم سیکرٹریٹ اپنے دفتر کے لئے استعمال کریں گے یا نہیں؟

انہوں نے گورنر ہاؤسز کو کسی مفید استعمال میں لانے کا بھی ارادہ ظاہر کیا ہے۔

یہ ایک بہت اچھا اقدام ہو گا انہیں گورنر ہاؤسز کے علاوہ پنجاب میں ایک سے زیادہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے استعمال کے بارے میں بھی فیصلہ کرنا چاہئے اور ساتھ ساتھ سرکاری افسروں کی 20, 20 کنال پر محیط رہائش گاہوں کو ختم کر دینا چاہئے۔

اس کے علاوہ سرکاری افسروں کے لئے پجارو گاڑیوں کے استعمال پر بھی پابندی لگا دینی چاہئے۔ مجھے خوشی ہے کہ مَیں نے 28 دسمبر کو اپنے کالم ’’عمران خان کا ایجنڈا‘‘ میں اُن کو اِسی قسم کے مشورے دیئے تھے جن پر عملدرآمد کرنے کا انہوں نے اپنی تقریر میں ذکر کیا ہے۔

بدعنوانی ہمارے معاشرے میں بری طرح سرائیت کر چکی ہے عمران خان نے حکومت کے خلاف اسی ایک ایشو پر زبردست مہم چلائی، جس کا انہیں فائدہ ہوا ،لیکن اب اُن کا امتحان شروع ہو جائے گا وہ خود تو اس سے پاک ہیں ،لیکن اس ایجنڈے کو حکومت میں نافذ کرنا بہت مشکل ہو گا اور یہ شاید اُن کا سب سے بڑا امتحان بن جائے۔ گڈگورننس پر مسلم لیگ (ن) کی حکومت بری طرح ناکام ہوئی ہے۔

عمران خان کے لئے یہ بھی چیلنج ہے کہ وہ ترقیاتی کاموں کے علاوہ اس محاذ پر بھی کچھ کر دکھائیں۔ سرکاری ملازموں کی بھرتیوں، ترقیوں اور تبادلوں میں میرٹ نافذ کرنا ہو گا۔ دوست نوازی اور اقربا پروری کی حوصلہ شکنی کرنا ہو گی۔ ناجائز فائدوں کے لئے ڈیپوٹیشن کا بے دریغ استعمال بند کرنا ہو گا۔ خودمختار اور نیم خودمختار اداروں میں تقرریوں میں میرٹ ملحوظ رکھنا ہو گا صرف یہی نہیں، بلکہ مناسب وقفے کے بعد ان کی کارکردگی کا جائزہ لینا ہو گا۔

بہت پہلے میں نے نیوز ویک میں فلپائن کی صدر کو ری اکینو کا ایک انٹرویو پڑھا تھا اُن سے سوال کیا گیا کہ کوئی ایسی کوتاہی،جس پر آپ کو افسوس ہو انہوں نے کہا کہ ہم نے غلطی یہ کہ کہ بہت سارے لوگوں کو اہم پوسٹوں پر لگایا اور پھر پلٹ کر اُن سے کارکردگی کے بارے میں کچھ نہ پوچھا۔

اب ہمارے ہاں یہ ہو رہا ہے کہ کوئی صاحب سفارش کے ذریعے قومی ادارے کے سربراہ بن جاتے ہیں اور اپنی مرضی کی تنخواہ وغیرہ بھی مقرر کروا لیتے ہیں اور پھر اس ادارے میں وہ من مانی کرتے ہیں ،کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ سفارش یا رشوت کے نتیجے میں لی گئی ملازمت میں کوئی اُن سے کنٹریکٹ ختم ہونے کے بعد بھی سوال نہیں کرے گا۔

وزراء کی کارکردگی پر بھی نظر رکھنی ہو گی اور انہیں اپنی اہلیت اور کارکردگی ثابت کرنا ہو گی۔ وزارتیں انعام کی بجائے اہلیت کی بنیاد پر تقسیم ہونی چاہئیں اور کابینہ مختصر ہونی چاہئے۔ وزیراعظم ہاؤس میں ایک تھنک ٹینک قائم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

وزراء اور بیوروکریسی کی ٹیم کا انتخاب بہت اہمیت رکھتا ہے۔

ریڈ ٹیپ ازم کو ختم کرنا ہو گا۔ مختلف کاموں کے لئے ٹائم فریم طے کرنا ہو گا۔ اسی ہفتے فلپائن کے صدر نے اس مقصد کے لئے ایک قانون نافذ کیا ہے، جس میں مختلف ایشوز پر کارروائی کے لئے ٹائم فریم دیا گیا ہے اور دستخط کرنے والے افسران کی تعداد بھی کم کی گئی ہے۔

ہمارے ہاں کچھ بھی طے نہیں کوئی افسر فائل جب تک چاہے دبائے رکھے۔ جنرل پرویز مشرف نے ایک دفعہ اعلان کیا تھا کہ آئندہ کوئی افسر ایک فائل ایک ہفتے سے زیادہ اپنے پاس نہیں رکھے گا،لیکن جلد ہی غالباً انہیں احساس ہو گیا کہ یہ بھاری پتھر ہے، لہٰذا انہوں نے بعد میں کبھی اس بات کا ذکر نہیں کیا۔

ان کاموں کے لئے بیوروکریسی کی Orientation میں تبدیلی کرنی ہو گی۔ بیوروکریسی میں اصلاحات کا عمل بھی بڑی دیر سے رُکا ہوا ہے اس پر بھی توجہ کرنی ہو گی۔

خارجہ پالیسی پر بھی انہوں نے بڑا تفصیلی اظہار خیال کر دیا ہے بھارت کے ساتھ تعلقات نارمل کرنے کے بارے میں انہوں نے بڑے حقیقت پسندانہ ارادے ظاہرکئے ہیں ،لیکن یہ ذہن میں رہے کہ ماضی میں ایسے خیالات رکھنے والوں کو ’’انڈین ایجنٹ‘‘ کا خطاب ملتا رہا ہے۔

خدا کرے ہمارے مُلک میں رائے عامہ پختہ ہو جائے اور سیاسی لیڈروں کے انڈین ایجنٹ اور یہودی ایجنٹ جیسے غلط اور قومی سطح پر ہتک آمیز خطابات سے پرہیز کیا جائے۔

اگر عمران خان نے اِن ایشوز پر پہلے چھ مہینے یا سال میں عمل شروع کر دیا تو اُن کی حکومت کا بہت اچھا تاثر پیدا ہو گا اور لوگ واقعی تبدیلی محسوس کریں گے اور اگر عمران خان سٹیٹس کونہ توڑ سکے اور اِن ایشوز پر کوئی خاطر خواہ پیشرفت نہ کر سکے تو بہت جلد لوگوں کا جوش و خروش مایوسی میں بدل سکتا ہے۔

مزید : رائے /کالم