وقتِ امتحان

وقتِ امتحان
وقتِ امتحان

  

ہمیں اِس بات پر یقین رکھنا چاہئے کہ عمران خان ’’دو عملی‘‘ کا بہترین تعارف پیش کر رہے ہیں۔ ہم خود سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتے اور ان کے الفاظ یا بیانات سے ان کی ’’دوعملی‘‘ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر وہ کرپشن کے شدید مخالف ہیں، اور نواز شریف کو ایک کرپٹ شخص کے طور پر پیش کرتے ہیں، اپنے آپ کو وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ’’صادق و امین‘‘ قرار دیتے ہیں اور نواز شریف کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر کرپٹ قرار دیتے ہیں۔

وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو اپنے حق اور نواز شریف کے خلاف بطور دلیل پیش کرتے ہیں،مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اِسی سپریم کورٹ سے نااہل قرار دیئے جانے والے جہانگیر ترین کو کرپٹ یا نااہل تصور نہیں کرتے وہ شہباز شریف کو زیر تفتیش کرپٹ قرار دیتے ہیں، مگر علیم خان اور زلفی بخاری کو زیر تفتیش کرپٹ قرار دیتے سے گھبراتے ہیں۔

وفاق میں اپنی اکثریت کے حق کی بنیاد پر حکومت کا اختیار چاہتے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں بھی اپنا حق استعمال میں لانا چاہتے ہیں،مگر پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کے اکثریتی حق کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے نظر آتے ہیں۔

ان کی جماعت کے ایک رہنما نے گزشتہ رات ایک چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’’ ہم پنجاب میں حکومت بنائیں گے اور مسلم لیگ (ن) کے بندے توڑیں گے‘‘ اِن الفاظ کا مطلب کیا ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ جہانگیر ترین اور علیم خان جیسے کرپٹ اور زیر تفتیش کرپٹ پنجاب میں ایم پی اے خریدتے پھرتے ہیں۔گزشتہ روز اس حوالے سے سوشل میڈیا پر یہ دلچسپ تبصرہ بھی پڑھنے کو ملا کہ سعودی عرب کے سفیر نے عمران خان سے ملاقات کے وقت یہ شکوہ کیا کہ آپ ان دونوں ’’رہنماؤں‘‘ کو سمجھاؤ، یہ کم بخت مجھے بھی پنجاب اسمبلی کا رکن سمجھتے ہوئے اٹھاکر لے آئے ہیں۔

مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ پنجاب میں خرید و فروخت ہو رہی ہے اور بدقسمتی سے ڈنکے کی چوٹ پر ہو رہی ہے۔۔۔ اور اگر عمران خان کا ’’نیا پاکستان‘‘ یہی ہے تو پھر اسے مَیں نیا کیا پرانے پاکستان سے ’’بدتر‘‘ سمجھتا ہوں۔پرانے پاکستان میں چھانگا مانگا میں اگر خرید و فروخت کی گئی تو ’’پردہ‘‘ بھی رکھا گیا۔۔۔ مگر اب علیم خان اور جہانگیر خان جہاز بھر بھر کے بندے خریدتے پھرتے ہیں۔۔۔ اور بدقسمتی سے اس عمل میں ایسے دو شخص شریک ہیں جن کے بارے میں خود تحریک انصاف کے اندر ناپسندیدگی کا اظہار کیا جاتا ہے اور پارٹی میں ان کی مداخلت کو پسند نہیں کیا جاتا اور عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ان دونوں نے عمران خان کو اپنی دولت کے زور پر ’’یرغمال‘‘ بنا رکھا ہے۔

اب عمران خان لاکھ اپنے بارے میں کہیں کہ وہ ایک ’’بے نیاز‘‘ آدمی ہیں۔۔۔ قابل ِ تسلیم بات نہیں ہے۔ وہ اپنے عمل سے ثابت کر رہے ہیں کہ وہ ماضی کے حکمرانوں سے مختلف نہیں ہوں گے، بلکہ انہی کی ایک ’’نئی شکل ہیں‘‘۔۔۔ سو ان حالات میں اپوزیشن کی جماعتوں کا ’’بیانیہ‘‘ عوامی خواہش کے عین مطابق ہے اور اگر اپوزیشن نے عوامی سطح پر کوئی احتجاجی پروگرام ترتیب دیا تو وہ عوامی حمایت حاصل کر سکتا ہے،مگر مُلک کے حالات کا تقاضا ہے کہ سیاسی کشیدگی کو بڑھانے کا راستہ اختیار نہ کیا جائے۔

سو کشیدگی کے خاتمے کے لئے اب عمران خان کا کردار بڑھ گیا ہے اور اُنہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ انہوں نے گزشتہ پانچ سال میں جس بات کو بنیاد بنا کر احتجاج جاری رکھا۔۔۔ اپوزیشن بھی اسی بات کو بنیاد بنا کر سڑکوں پر نکلنے کا ارادہ رکھتی ہے،جو عمران خان کی حکومت کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا اور اتنی بڑی اپوزیشن کے سامنے اُن کی حکمرانی نہیں چل سکے گی، سو انہیں اپنی سیاسی سمت درست کرنے کی ضرورت ہے۔

سب سے پہلے انہیں سندھ اور پنجاب میں اکثریتی پارٹیوں کا حق تسلیم کرتے ہوئے جوڑ توڑ کا راستہ بند کرنا چاہئے۔ اپوزیشن کو بھی تحریک انصاف کا راستہ نہیں روکنا چاہئے، مگر اپنے جائز مطالبات سے دستبردار بھی نہیں ہونا چاہئے۔

جہاں تک وفاق میں عمران خان کی اکثریت کا تعلق ہے تو وہ اسے حاصل ہو چکی ہے اور اس کا حقِ حکمران تسلیم کیا جانا چاہئے۔۔۔ اور انتظار کرنا چاہئے کہ وہ اپنے پہلے سو دن کے وعدے کیسے پورے کرتا ہے۔

عمران خان نے اپنے پہلے سو دن کے لئے جو وعدے کئے ہیں، ان میں ’’صوبہ جنوبی پنجاب‘‘ کا وعدہ سب سے نمایاں ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنا یہ وعدہ کیسے پورا کرتے ہیں؟۔۔۔ پرائم منسٹر ہاؤس اور گورنر ہاؤسز میں نہ رہنے کے اعلان کی اہمیت کچھ نہیں ہے۔

سوال یہ ہے کہ پنجاب بھر میں اورپورے پاکستان میں تمام ڈپٹی کمشنر،ایس ایس پی، ضلعی عدالتوں کے سربراہ بھی تو سو سو کنال کے گھروں میں رہتے ہیں، کیا وہ انہیں بھی چھوٹے گھروں میں رہنے کا حکم دیں گے،کیا وہ ’’بیورو کریسی‘‘ کے ساتھ بھی دو دو ہاتھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟’’جنوبی پنجاب‘‘ جو ایک آئینی معاملہ ہے، وہ اِس معاملے سے کیسے نپٹیں گے؟یہاں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ وہ لوگ جو اچانک الگ صوبے کے قیام کے لئے مسلم لیگ (ن) سے اپنی وابستگی توڑنے کے بعد تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے ،کیا اب بھی اُن کے ’’ضمیر بیدار‘‘ رہیں گے۔۔۔ یہ اور اس کے طرح کے دیگر سیاسی، معاشی، قومی اور بین الاقوامی مسائل عمران خان کے منتظر ہیں اور پھر پاکستان کے عوام کو جو ’’امید‘‘ دلائی ہے۔۔۔ وہ ایک امتحان ہے اور اپوزیشن کو چاہئے کہ وہ عمران خان کو اس امتحان میں ڈالے رکھے۔

مزید : رائے /کالم