جس کی نو میدی سے ہو سوزِ درونِ کائنات

جس کی نو میدی سے ہو سوزِ درونِ کائنات
جس کی نو میدی سے ہو سوزِ درونِ کائنات

  

پیغمبرانِ یاس وکذب نے ذرائع ابلاغ پر گزشتہ چھ آٹھ ماہ سے انتخابات نہ ہونے ، ملتوی ہونے یا ملتوی کرنے کے مسلسل مخلصانہ مشوروں کا جو سلسلہ شروع کر رکھا تھا ، اس کا کچھ نہ کچھ اثر تو انسانی طبیعت پر ہوتا ہے۔

گاہے تشکیک اپنا چولا اُلٹ کر تیقن میں جون بدل لیتی ہے۔ میرے لئے 25 جولائی شام چھ بجے کے لمحات کچھ ایسے تھے کہ۔۔۔؟پتہ نہیں مجھے خود بھی علم نہیں۔۔۔ اندر کا حیوان ،حیوانی طریقے پر اچھل پھاند کر کے اظہار مسرت پر اُکسا رہا تھا ۔جی چاہ رہا تھا،کچھ لحن داؤدی مستعار مل جائے، ذرہ برابر ہی سہی، تو ارشمیدس کی طرح گلیوں میں دیوانہ وار رقص کرتے ہوئے پا لیا۔۔۔ پالیا کی جگہ لاتقنطوا۔۔۔ لاتقنطوا کہہ کر دستور دشمن ابلیس کا منہ چڑاؤں اور کہوں۔۔۔ آ دیکھ لاتقنطوا کا ورد کرنے والا میں اکیلا نہیں ہوں۔

میرے کروڑوں ہم وطن جو ووٹ کی پرچی ڈال کر آئے ہیں، ارے لاتقنطوا ان کی بدنی عبادت تھی، اب تواکیلا تقنطوا ،تقنطوا کرتا رہ:

جس کی نو میدی سے ہو سوزِ درونِ کائنات

اس کے حق میں تقنطوا اچھا ہے یا لاتقطنوا

میرے لئے انتخابات کے نتائج کوئی خاص معنی نہیں رکھتے۔ ذرا دیر کے لئے پاکستان کو ہم قومی وطن فرض کر لیں تو اس قومی وطن کے لئے کیا کچھ قربان نہیں کیا جا سکتا ۔یہ ہر شخص جانتا ہے، میرا دعویٰ کسی دوسرے کے دعوے پر سوا نہیں ہے۔ اس باب میں ہر پاکستانی یکساں سطح کا پاکستانی ہے۔ جب لوگوں کے ایمان پر ملا کی رائے زنی دوسروں کو اچھی نہیں لگتی تو کسی شخص یا ادارے کو میں کیسے یہ حق دے سکتا ہوں کہ میرے اختلاف رائے کو گھسیٹ کر وہ اسے غداری کے گڑھے میں جا پھینکے۔

اس سلسلے کو بند کر دیا جائے تو اپنے اس پیارے وطن کے حق میں یہی بہتر ہے۔ تو میرے لئے نتائج کیوں بے معنی ہیں اور با معنی کیا ہے؟ گزشتہ چار چھ ماہ کے عرصے میں بے یقینی کی جو دھول اڑائی جا رہی تھی، خدشہ تھا کہ مجتہدین دستور کسی از خود نوٹس کے سہارے کوئی ڈیم بنانے جیسا دستوری اجتہاد نہ کر گزریں کہ وطن عزیز میں کچھ بھی کریں ، غلام فرید صابری قوال کو سو پانچ سو تالیاں پیٹنے والے ہم نوا ہر جگہ اور ہر شکل میں مل جاتے ہیں۔

ایسے عالم میں کیادستور اورکیا علم الکلام؟کون سی دلیل، اور کہاں کی منطق ؟ اپنے محدود سے حلقہ احباب میں تو یہ کہہ کر میں اس انتہا تک چلا گیا تھا کہ 270 حلقہ ہائے انتخاب میں سے صرف ایک حلقے کا انتخاب بھی کرانا پڑے تو اسے عام انتخاب قرار دے کر ہر حال میں دو ماہ کی معین مدت کے اندر اسے ممکن بنایا جائے، بھلے بقیہ 269 حلقوں کے انتخابات ضمنی قرار دے دئیے جائیں۔

پہلے بھی ایک دفعہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ سرزمین بے دستور از مورخہ 25 مارچ 1969ء تا سقوطِ وطن عزیز کی حفاظت نہ فوج کر سکی تھی، نہ کوئی سیاسی جماعت۔ دستور کسی قوم کی چار دیواری پربری بھلی، ٹین ہی کی سہی، وہ چھت ہوا کرتی ہے، جس کا وجود اہل خانہ کو پُرسکون نیند سے ہم کنار کرتا ہے۔

چھت ہٹا دیں تو مکان کے کچھ مکین لامکاں ہو کر مکتی باہنی کا روپ دھار لیتے ہیں اورباقی خیمہ زن ہو جاتے ہیں۔

سال چھ ماہ بعد اس کھنڈر میں جا کر جھانکیں تو وہاں ایک حصے میں بھارتی فوجیں جام وسبو سے اور معاف کیجئے، اسی بے دستور بستی کی بے نور آنکھوں والی اور خلا میں تکتی دو شیزاؤں،معصوم دو شیزاؤں سے اٹھکیلیاں کر رہی ہوتی ہیں۔

اس ملک کی نسبت سے اربابِ اختیار اگر مجھے صرف ایک درخواست کرنے کی اجازت دیں کہ مانگ بچہ !جو مانگو گے ملے گا۔ تو سائل دست بستہ ایک ہی گزارش کرے گا: وہی گزارش! مندر ڈھا دو، مسجد ڈھا دو جو چاہے ڈھا دو، پھر سے بنا لیں گے، لیکن ہماری امنگوں اور خواہشا ت کا 280 نکاتی خلاصہ المعروف بہ دستور کو مت ڈھانا، پلیز!

علت اور معلول(Cause & Effect) کے جس دستور پر کائنات چل رہی ہے، اسے لاگو کریں تو تب پتہ چلتا ہے کہ اُمتِ مسلمہ کے جسد واحد کے معصوم بنگالی ٹکڑے۔۔۔معصوم انسانی وجود ۔۔۔ جس بے دردی سے کلکتہ، مغربی بنگال اور حتیٰ کہ اپنے کراچی میں خریدے بیچے جار ہے ہیں، اس معلول کی علت وہی خود ساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان تھا،جس نے پہلی دفعہ ملک کو بے دستور کر کے علیحدگی کے شجر خبیثہ کا بیج بو دیاتھا ۔

علیحدگی کے خارِ مغیلاں سے مزین یہ تناور ببول دستوری کلہاڑی سے بخوبی کاٹا جا سکتا تھا، لیکن نفسانی خواہشات کے اسیر صرف دو جرنیلوں نے ملک کو بے دستور کر کے کروڑوں معصوم لوگوں کے گھروں میں صفِ ماتم بچھا دی۔

فوج اتنی ہی اہم ہے جتنی عدلیہ، جتنی پولیس اور جتنی جامعات۔ یہ سب مل کر ملک کا دفاع کرتے ہیں۔سرحدوں پر سپاہی بلندگل زمستانی ہواؤں اور سنو بائٹ کے نتیجے میں شہید ہو جائے تو گٹر میں اتر کر زہریلی گیس کا شکار بوٹا مسیح بھی اسی مٹی کا فرزند ہے پر اسے کوئی شہید نہیں لکھتا۔

اے ایس آئی اللہ ڈنو ابڑو سماج دشمن افراد کے خلاف آپریشن کرتے کرتے گولی کا نشانہ بن جائے تو 23مارچ کو کوئی لوہے کا معمولی سا چھلہ ہی اس کی بیوہ کو دے دو کہ یہ لو ،یہ تغمہ ہے۔ فوج، پولیس، صفائی کے عملے، یونیورسٹی کے پروفیسر اور عدالتی حکام میں اس باب میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ۔ بحسن و خوبی چلنے والے اس مکالمے کے آخر میں دو ایک ’’ محب وطن‘‘ افراد نے، آپ یقین کریں، میرا فون نمبر بلاک کر دیا۔

ہم چوما دیگرے نیست!

مَیں یہ بات بار بار کہتا ہوں کہ مُلک و قوم کی حفاظت کے لئے فوج اور مضبوط فوج کا انکار کرنے والے نادان اس لائق نہیں کہ ان کے ساتھ کوئی مکالمہ کیا جائے۔ اللہ میاں کے وجود اور عدم وجود پر کوئی مسلمان مکالمہ کرنا تو در کنار سننا بھی پسند نہیں کرتا۔

اسی پر میں فوج کو بھی قیاس کرتا ہوں ۔یہ فوج چار دیواری کے باہر کسی چور ڈکیٹ کی آمد پر حرکت میں آتی ہے، لیکن دستوری چھت اڑا دینے کا نتیجہ ایک بار ہم بھگت چکے ہیں۔ اسی لئے ہر فوجی مداخلت کے وقت میرا دل دہل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے ذاتی طور پر میں ایک حد تک بے خوابی کا شکار بھی رہا کہ ہمارے سروں پر سے یہ دستوری چھت ایک دفعہ پھر نہ اڑ جائے۔ اللہ کا شکر ہے کہ انتخابات بحسن و خوبی سرانجام پا گئے ہیں۔ توقع ہے کہ تمام متعلقہ فریق ایک د وسرے کو حاصل عوامی نمائندگی کا احترام اور مکمل احترام کریں گے۔

کسی کے ذہن میں اگر یہ طنطنہ جڑ پکڑ چکا ہے کہ مرکز میں ہماری حکومت بن چکی ہے تو پنجاب میں بھی ہم تھوڑی سی محنت، جوڑ توڑ اور اس ناقابلِ بیان ’’سرپرستی‘‘ کے باوصف اپنی حکومت بنا سکتے ہیں توایسے فریق کے لئے بس دعا ہی کی جا سکتی ہے، جن لوگوں کو یوں ان کے حق سے دور رکھا جائے گا،وہ اقتدار سے باہر رہ کر قدرے بہتر انداز میں مرکز کے اندر نقب لگانے کا عمل جاری رکھیں گے کہ کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ ایسے کاموں میں کامیابی ہو یا ناکامی، خسارہ مُلک ہی کو اٹھانا پڑتا ہے۔ 

امید اور ہر حال میں امید ہی اس وقت ہمارا اثاثہ ہونا چاہئے۔ یہ سیاسی افراتفری جو اس وقت گزشتہ ایک ڈیڑھ عشرے سے دیکھی جا رہی ہے، یہ اس طویل گھٹن اور حبس کا نتیجہ ہے، جس کے پیچھے فردِواحد کی آمریت ہوا کرتی ہے۔ کوئی ایک طالع آزما اٹھ کر جب پورے نظام کو یرغمال بنا لے تو ککر کے اندر بنا ہوا پریشر چولہا بجھا دینے پر بھی کافی دیر تک سیٹی بجاتا رہتا ہے۔

سیاست دان پارلیمان کے اندر پہنچ جائیں تو پھر یوں سمجھ لیجئے، آمریت کا ڈسا ہوا مریض شفاخانے میں پہنچا دیا گیا ہے۔ علاج میں دیر سویر ہو سکتی ہے۔ طبیب کا ادل بدل بھی ممکن ہوتا ہے۔ ممکن ہے، دوا کا حصول قدرے دشوار ہو۔ یہ سارے عوامل اپنی جگہ، لیکن مریض نے بہرحال شفایاب ہونا ہی ہے۔

امید ہے کہ آپ خواتین و حضرات 25 جولائی شام چھ بجے میرے شاداں فرحاں ہونے کا سبب جان چکے ہوں گے۔ ایک وجہ اور بھی ہے۔

تالاب میں کودنے سے وجود گیلا ہو جاتا ہے۔ اگلی دفعہ اس امید پرتالاب میں چھلانگ لگائی جائے کہ موم جامہ اوڑھ کر کود رہا ہوں تو بھی وجود بھیگ کر رہتا ہے۔ یہ عمل دہراتے جائیں ، نتیجہ وہی مرغے کی ایک ٹانگ! جنرل ایوب خان نے ایک صاحب کو بیٹا بنایا ، کچھ عرصے تک وہ ڈیڈی ڈیڈی کرتا رہا ، پر پیمانہ لبریز ہو جانے پر ہم نے ایک حرام جانور کا تذکرہ بھی سنا۔ جنرل ضیاء الحق شہید ، مودی کے یار کے بانی و موجد تھے۔

اللہ کے اتنے مقرب بندے تھے کہ اللہ نے ان کی سُن لی: ’’رب العالمین، میری عمر نواز شریف کو لگا دے۔‘‘ جب اللہ نے ان کی سُن لی تو ضیاء الحق شہیدکے سجادہ نشینوں کے پاس نواز شریف کو نکالنے کا ایک ہی راستہ تھا: مودی کا جو یار ہے، غدار ہے غدار ہے۔ قارئین کرام اس نئے مُہرے کے بارے میں مَیں نے کہیں پڑھا تھا کہ ایک دفعہ کرکٹ منیجرنے،جو تمام کرکٹروں کا افسر اعلیٰ ہوتا ہے، آ کر کوئی ڈکٹیشن دی تو اسے اُلٹے ہاتھ کا چھانبڑ سلامی کی صورت میں ملا تھا۔اندریں حالات میں دو صورتیں نظر آتی ہیں: ’’جرمن ہے توبڑا ظالم ، پر اب میرا بیٹا بھی فرنگی کی فوج میں بھرتی ہو چکا ہے، ہے بڑا ہی اتھرا ، ا للہ ہی خیر کرے‘‘۔

چنانچہ بغل میں دبی چھڑی اب کی با ر شاید ہاتھ میں لے کر ’’ وہاں ‘‘ جانا پڑے کہ تالاب میں کودنے سے وجود گیلا ہو جاتا ہے۔ اگلی دفعہ اس امید پر تالاب میں چھلانگ لگائی جائے کہ موم جامہ اوڑھ کر کود رہا ہوں تو بھی وجود بھیگ کر رہتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ مودی کا عرصہ حکومت ایک سال باقی ہے۔

ممکن ہے، اگلے 23 مارچ کوتغمہ جات وصول کرنے والوں میں ایک غدار کا اضافہ ہو جائے۔ ہر دو صورتوں میں مجھے اطمینان ہے کہ تبدیلی آنے والی ہے اور پاکستانی عوام دستور کے اندر رہ کر آسیب سے چھٹکارا پانے میں کامیا ب ہو جائیں گے۔ ’’جرمن ہے توبڑا ظالم ، پر اب میرا بیٹا بھی فرنگی کی فوج میں بھرتی ہو چکا ہے، ہے بڑاہی اتھرا ، ا للہ ہی خیر کرے‘‘۔

مزید : رائے /کالم