عمران خان طویل جدوجہد کی درخشاں مثال

عمران خان طویل جدوجہد کی درخشاں مثال
عمران خان طویل جدوجہد کی درخشاں مثال

  

جناب مجیب الرحمن شامی نے کل ’’وزیراعظم عمران خان، مبارک‘‘ کے عنوان سے کالم لکھا تو مجھے 1993ء کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ مجھے یاد ہے عمران خان پہلی بار ملتان آئے تھے اور کرکٹ ہیرو کے طور پر اُن کا والہانہ استقبال ہوا تھا۔

وہ جب بومن جی چوک کے قریب سے جلوس کی صورت میں گزر رہے تھے تو قریب ہی بلقیس پلازہ میں واقع روزنامہ ’’خبریں‘‘ کے بیورو میں دیگر ساتھیوں کے ہمراہ موجود تھا۔ جلوس کے شرکاء دیگر نعروں کے ساتھ ساتھ ’’وزیر اعظم عمران خان‘‘ کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔

شرکاء میں زیادہ تر نوجوان تھے۔ یہ غالباً پہلا موقع تھا کہ کسی جگہ عمران خان کے لئے وزیراعظم کے نعرے لگے ہوں۔ مَیں نے جب اس کی خبر دی تو ایک سنگل کالم خبر اس نعرے کے حوالے سے بھی بھیجی، جو اگلے دن شائع ہو گئی۔

اس سے اگلے دن جناب مجیب الرحمن شامی نے ایک کالم لکھا جس کا عنوان تھا ’’ وزیر اعظم عمران خان‘‘۔۔۔ کپتان کے وہم و گمان میں بھی یہ نہیں ہو گا کہ ملک کے اتنے بڑے صحافی اور کالم نگار ان کے لئے اس عنوان سے کالم لکھیں گے۔ گویا جو ٹھہرے پانی میں پہلا پتھر مجیب الرحمن شامی صاحب نے پھینکا تھا، وہ آج عزم کا ایک پہاڑ بن کر وزیر اعظم عمران خان کی شکل میں سامنے آ رہا ہے۔

میرے ذہن میں اس کالم کا جو تاثر محفوظ ہے،اس کا لب لباب یہ ہے کہ عمران خان کو سیاست میں آنا چاہئے، پاکستان کو ان جیسے باعزم اور با عمل سیاست دانوں کی ضرورت ہے جو پاکستان کو ایک مضبوط قیادت فراہم کر سکیں۔ یاد رہے کہ اس وقت تک عمران خان نے سیاست میں آنے کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا تھا۔ کل جب مَیں نے شامی صاحب کے کالم کی سرخی پڑھی تو یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ عمران خان کے وزیر اعظم بننے کا خواب پہلے انہوں نے دیکھا تھا یا عمران خان نے؟ اس تاریخی حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ وزیر اعظم کا لفظ سب سے پہلے مجیب الرحمن شامی صاحب نے عمران خان کے ساتھ جوڑا اور جو تاریخ کی فائلوں میں ثبوت کے طور پر موجود رہے گا۔

آج مجھے ایک اور واقعہ بھی یاد آ رہا ہے۔ یہ غالباً 2006ء کی بات ہے، ان دنوں عمران خان کو اتنی زیادہ اخباری کوریج نہیں ملتی تھی۔ اخبارات کے بیک پیج پر ان کی خبریں بمشکل دو کالم چھپتیں۔ فرخ حبیب جو فیصل آباد سے عابد شیر علی کو شکست دے کر ایم این اے منتخب ہوئے ہیں، ان دنوں انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سرگرم رہنما ہوا کرتے تھے،انہوں نے ایک دن مجھے میسج کیا کہ کپتان کے ساتھ میڈیا امتیازی سلوک کر رہا ہے، آپ عمران خان کے لئے ایک کالم لکھیں۔

مجھے یاد ہے مَیں نے ایک کالم لکھا، اسی شام میں حسین آگاہی سے کینٹ کی طرف آ رہا تھا کہ گھنٹہ گھر کے قریب مجھے ایک کال موصول ہوئی، دوسری طرف فرخ حبیب تھے۔ انہوں نے کہا خان صاحب آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں پھر انہوں نے فون عمران خان کو دیا،انہوں نے اپنے مخصوص سٹائل میں السلام علیکم کے بعد کہا آپ کا بہت شکریہ مجھ پر کالم لکھا۔ ’’ میرے ساتھ میڈیا کا سلوک اچھا نہیں ہے، وہ مجھے دبانا چاہتے ہیں، لیکن دبا نہیں سکیں گے، آپ نے میرا ساتھ دیا، مَیں آپ کا شکر گزار ہوں۔‘‘ پھر رفتہ رفتہ پرنٹ میڈیا کا رویہ ان کے ساتھ بدلتا چلا گیا۔

جب عمران خان یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے 22 سال تک جدوجہد کی ہے تو غلط نہیں کہتے، واقعتا وہ زمین سے اٹھ کر آسمان تک پہنچے ہیں، آج انہیں وزارتِ عظمیٰ طشتری میں سجا کر نہیں پیش کی جا رہی اس کے لئے ان کی سیاسی جدوجہد کا کردار فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

سیاست میں دو بڑے کردار،جو ان کے ہم عمر بھی تھے، پوری طرح حاوی تھے۔ بے نظیر بھٹو اور نوازشریف۔۔۔ ان کی موجودگی میں عمران خان کی جگہ اخبارات کے آخری صفحہ پر دو کالمی ہی بنتی تھی، مگر یہ شخص اپنی خدا داد قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت کچھوے کی رفتار سے ہی سہی آگے بڑھتا رہا۔ عمران خان کی اس رفتار پر بعدازاں نوازشریف اور آصف علی زرداری نظر نہ رکھ سکے ،خاص طور پر بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان بُری کارکردگی اور کرپشن کا جو مقابلہ شروع ہوا، اس نے عمران خان کو ایک ایسی گنجائش فراہم کی جو ایک اچھے کھلاڑی کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ہوتی۔ پھر جب ان دونوں کو نشانے پر رکھ کر کپتان نے دھواں دھار اننگ کھیلنے کا آغاز کیا تو دیکھتے ہی دیکھتے تحریک انصاف ملک کی تیسری بڑی سیاسی قوت بنتی چلی گئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نوازشریف اور آصف علی زرداری نے پھر بھی عمران خان کو سنجیدہ نہیں لیا۔ اس غلط فہمی میں مبتلا رہے کہ ایک بلے باز ان کی سیاسی بصیرت اور گرفت کا کیسے مقابلہ کر سکتا ہے؟

قدرت کا ایک اپنا ہی نظام ہوتا ہے، شاید اس سے پہلے عمران خان کو اقتدار ملتا تو ان کی حکومت کا اتنا ڈنکا نہ بجتا، جیسے اب بج رہا ہے، حالانکہ انہوں نے اقتدار سنبھالا نہیں، اصل میں ان کی سیاسی جدوجہد اور ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں سمیت تمام مذہبی و لسانی قوتوں کے خلاف ایک واضح برتری دنیا کی نظر میں ان کے سیاسی قد کاٹھ کو بہت نمایاں کر گئی ہے۔

وہ یک دم تیسری بڑی سیاسی قوت سے پہلی بڑی سیاسی قوت بن گئے ہیں۔انہیں ملنے والے ایک کروڑ اڑسٹھ لاکھ ووٹ کسی بھی جماعت کو آج تک ملنے والے سب سے زیادہ ووٹ بن گئے ہیں۔ انہوں نے منتخب ہونے کے بعد اپنی پہلی تقریر ہی سے دنیا کو متاثر کر دیا ہے۔ مغرب جو انہیں ’’پلے بوائے‘‘ کہتا تھا،اب انہیں ایک منجھا ہوا سیاسی رہنما کہنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ بلا شبہ چیلنجز بہت بڑے ہیں لیکن پاکستان ایک بہت بڑا ملک ہے۔

دنیا اسے نظر انداز نہیں کر سکتی،ایک اچھا لیڈر اسے کسی وقت بھی زمین سے اٹھا کر اوج ثریا تک لے جا سکتا ہے، پاکستان کو سب سے بڑا چیلنج معیشت کی بد حالی کا درپیش ہے، تاہم کڑے فیصلے کر کے اس چیلنج کو ٹھکانے لگایا جا سکتا ہے۔ چین اور سعودی عرب نے پہلے ہی ہر قسم کے تعاون کی پیش کش کر دی ہے۔ ملک کے اندر گڈ گورننس اور سادگی کے کلچر کو متعارف کرا کے اربوں روپے کی بچت کی جا سکتی ہے۔

بیرون ملک مقیم پاکستانی عمران خان کی ایک کال کے منتظر ہیں، وہ اتنا زر مبادلہ بھجوائیں گے کہ ڈالر مزید سستا ہو جائے گا۔ پاکستان سے کرپشن کو ختم کر دیا جائے تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ یہاں اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری غیر معمولی طور پر بڑھ جائے گی، بلکہ ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی کئی گنا زائد ہو جائے گی۔

عمران خان کا جو شخصی امیج دنیا کی نظر میں ہے وہ بہت مثبت اور متاثر کن ہے۔ اس کا پاکستان کو فائدہ ہوگا۔ عمران خان کی اپنی جماعت پر بھی مکمل گرفت ہے، پارٹی کا ہر شخص جانتا ہے کہ اس کی کامیابی صرف عمران خان کے نام کی مرہون منت ہے، یہی وجہ ہے کہ پارٹی کا بڑے سے بڑا لیڈر بھی اپنے قائد کی اتھارٹی کو تسلیم کرتا ہے۔ یہ بڑی مثبت بات ہے، اس سے عمران خان کا وہ وژن اور نظریہ، جسے وہ اقتدار میں آنے کے بعد نافذ کرنا چاہتے ہیں، اپنے پورے سیاق و سباق کے ساتھ عملی جامہ پہن لے گا۔ملک میں موجود باقی لیڈروں کو تو ہم نے اچانک سامنے آتے دیکھا ہے، نوازشریف اچانک ضیاء الحق کے فریم میں آکر لیڈر بنے، آصف علی زرداری بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر مین سٹریم میں آ گئے، مولانا فضل الرحمن اپنے والد مفتی محمود کی گدی سنبھال کے سیاست کرنے لگے، یہی حال اسفند یار ولی کا ہے، اگر کسی شخص نے ٹک ٹک کر کے اننگ کھیلنے کے بعد سیاست کے عروج کو چھوا ہے تو وہ عمران خان ہے، جو حادثاتی طور پر سیاست میں نہیں آئے،بلکہ شعوری فیصلے سے ایک سیاسی جماعت بنا کر خاص نظریے کو لے کر جدوجہد کرتے آج یہاں تک پہنچے ہیں کہ وزارتِ عظمیٰ کی کرسی اُن کا انتظار کر رہی ہے۔

وہ ایک لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں۔ لیڈر وہ ہوتا ہے جس سے عوام معجزوں کی توقع باندھ لیتے ہیں، جس میں مسیحا کو ڈھونڈتے ہیں اور یہ اعتماد بھی رکھتے ہیں کہ وہ ان کی امیدوں اور آشاؤں پر پورا اترے گا۔ خدا کرے کہ جہاں عمران خان کا خواب حقیقت میں ڈھل گیا ہے، وہاں اس ملک کے بیس کروڑ عوام کے وہ خواب بھی اب پورے ہوں جو ستر برسوں سے تعبیر کے منتظر چلے آ رہے ہیں۔

مزید : رائے /کالم