تفہیمِ اقبال: جواب شکوہ (5)

تفہیمِ اقبال: جواب شکوہ (5)
تفہیمِ اقبال: جواب شکوہ (5)

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دیکھا جائے تو ان دنوں کلامِ اقبال پاکستانی قارئین کو سنانا گویا بے وقت کی راگنی ہے۔۔۔ قوم آج اپنی 70سالہ زندگی کے مشکل ترین فیصلے سے گزر رہی ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ میں بھی اسی موضوع پر قلم فرسائی کرتا۔ لیکن پھر سوچا کہ چشمِ بصارت کو تھوڑا سا وقفہ ء آرام دے دیا جائے اور چشمِ بصیرت کا ذکر چھیڑا جائے۔۔۔ اس کالم کو یہی سمجھ کر پڑھ لیجئے:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(بند نمبر12)

کیا کہا، بہرِ مسلماں ہے فقط وعدۂ حور

شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور

عدل ہے فاطرِ ہستی کا ازل سے دستور

مسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حو ر و قصور

تم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیں

جلوۂ طور تو موجود ہے، موسیٰ ہی نہیں

اس بند کے مشکل الفاظ کے معانی:

فاطر (پیدا کرنے والا، خالق)۔۔۔ قصور (جمع ہے قصر کی یعنی محلات)

اس بند کی تشریح:

آپ کو یاد ہوگا اقبال نے خداسے یہ شکوہ کیا تھا:

قہر یہ تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصور

اور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حور

اس شکوے کا جواب اب خدا کی طرف سے یہ دیا جا رہاہے کہ :تم یہ کیا کہہ رہے ہو کہ مسلمانوں کو صرف وعدۂ حور ہی پر ٹرخا دیا جاتا ہے؟ ہرگز ایسا نہیں۔ اول تو تمہارا یہ شکوہ بے جا ہے اور بالفرض کوئی بے وقوف اگر شکوۂ بے جا بھی کرے تو اس کو اتنی سی عقل تو ہونی چاہیے کہ خالقِ کائنات کے اس کارخانہ ء حیات کی غرض و غائت کو سمجھے۔۔۔ زندگی عطا کرنے والے خالق کا ازل سے ہی یہ دستور رہا ہے کہ وہ منصف اور عادل ہے، ہر کسی کے ساتھ انصاف کرتا ہے۔ چنانچہ جب کافروں نے مسلمانوں کا سا وتیرہ اپنا لیا تو ہم نے ان کو حور و قصور عطا کر دیئے۔خدا کی ہستی تو سب کے ساتھ یکساں سلوک کرتی ہے۔ نام نہاد مسلمانوں کو نہیں دیکھتی۔ وہ ان کے اعمال کے مطابق ان کو سزا اور جزا دیتی ہے۔۔۔ تم مسلمانوں میں جب حوروں کا کوئی چاہنے والاہی نہ ہو تو پھر اس کو حوریں اور آرام دہ محلات کیوں عطا کئے جائیں؟ کوہِ طور پر خدا کا جلوہ تو آج بھی موجود ہے لیکن جب آپ لوگوں میں سے کوئی اس جلوے کا طلبگار ہی نہ ہو تو کیا کیا جائے؟ اس جلوے کے حصول کے لئے تو وہ موسیٰ چاہیے جو کوہِ طور پر گئے تھے اور خدا سے کلام کیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(بند نمبر13)

منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک

ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک

حرمِ پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک

کچھ بڑی بات تھی، ہوتے جو مسلمان بھی ایک

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟

اس بند کے مشکل الفاظ کے معانی:

منفعت (نفع)۔۔۔ حرم (کعبہ)۔۔۔ پنپنا(کامیاب زندگی گزارنا)

اب اس بند کی مختصر تشریح:

اللہ رب العزت بتا رہا ہے کہ قومِ مسلماں کا نفع نقصان ایک ہے، سب کا دین، پیغمبرؐ اور ایمان بھی ایک ہے، کعبہ بھی ایک ہے اور قرآن بھی ایک ہے۔ ایسے میں اگر مسلمان بھی ایک ہو جاتے اور متحد رہتے تو کیا یہ کوئی مشکل کام تھا؟۔۔۔ لیکن تم میں تو کہیں ذاتیں ہیں، کہیں فرقہ بندیاں ہیں اور کہیں برادریاں ہیں۔ ذرا سوچو کہ کیا زمانے کے ساتھ چلنے اور پھلنے پھولنے کے چلن ایسے ہوتے ہیں؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(بند نمبر14)

کون ہے تارکِ آئینِ رسولِ مختار؟

مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار؟

کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعارِ اغیار

ہو گئی کس کی نگاہ طرزِ سلف سے بیزار

قلب میں سوز نہیں، روح میں احساس نہیں

کچھ بھی پیغامِ محمدؐ کا تمہیں پاس نہیں

اس بند کے مشکل الفاظ کے معانی:

تارک (ترک کرنے والا، چھوڑ دینے والا)۔۔۔ آئین (دستور، قانون)۔۔۔ رسولِ مختار (اختیار والا نبیؐ)۔۔۔ شعار (طریقہ) ۔۔۔ اغیار (جمع غیرکی)۔۔۔ طرزِ سلف (بزرگوں کے طور طریقے)۔۔۔ قلب (دل)۔۔۔

اس بندکی مختصر تشریح:

یہاں خدا شکوہ کرنے والے سے یکے بعد دیگرے چار سوال پوچھ رہا ہے جو یہ ہیں:

1۔ رسول پاکﷺ کے آئین و قوانین کو کس نے ترک کیا؟

2۔کس کے اعمال کا معیار یہ ہے کہ وہ وقت کو دیکھ کر بدل جاتا ہے یعنی کون ہے جو ابن الوقت بنا ہوا ہے؟

3۔کس کی آنکھوں میں غیروں کے طور طریقے سمائے ہوئے ہیں؟

4۔وہ کون ہے جو اپنے بزرگوں کے طرزِ زندگی سے بیزار ہے؟

درج بالا چاروں سوالوں کا جواب عصرِ حاضر کے کسی بھی مسلمان سے مانگا جائے تو اس کا سر مارے شرم کے جھک جائے گا۔ گویا یہ چاروں گناہ وہ ہیں جو آج کے ہر مسلمان سے سرزد ہو رہے ہیں۔۔۔ اس کے بعد جب شکوہ کرنے والا لاجواب ہو جاتا ہے تو خدائی آواز ابھرتی ہے اور ان سب خامیوں کا کوئی تسلی بخش جواب نہ پا کر آخری شعر میں سرزنش کرتی اور کہتی ہے: ’’تمہارے دل سوزِ عشق سے خالی ہو چکے ہیں، تمہاری روح مر چکی ہے اور بے حِس ہو چکی ہے اور تمہیں اپنے پیغمبرؐ کا کوئی بھی پیغام یاد نہیں رہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(بند نمبر15)

واعظِ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی

برق طبعی نہ رہی، شعلہ مقالی نہ رہی

رہ گئی رسمِ اذاں روحِ بلالیؓ نہ رہی

فلسفہ رہ گیا، تلقینِ غزالی نہ رہی

مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے

یعنی یہ وہ صاحبِ اوصاف، حجازی نہ رہے

اس بند کے مشکل الفاظ کے معانی:

واعظِ قوم(قوم کے سامنے وعظ و نصیحت کرنے والا)۔۔۔ پختہ خیالی (وہ خیالات جن کو دلیل و منطق کی سپورٹ حاصل ہو)۔۔۔ برق طبعی (ایسی طبیعت جو آسمانی بجلی کی طرح بہت تیزی سے ردعمل کا اظہار کرے)۔۔۔ شعلہ مقالی (ایسی گفتگو جو شعلوں کی طرح تند و تیز اور سریع الاثر ہو)۔۔۔ روحِ بلالی (حضرتِ بلالؓ حبشی کی طرح کی سپرٹ / جذبہ)۔۔۔ غزالی(حجتہ الاسلام ابو حامد محمد ابن محمد الغزالی 1058ء میں ایران کے ایک مشہور شہر طوس (خراسان) میں پیدا ہوئے اور 1111ء میں 53برس کی عمر میں وفات پائی۔

غزالی گیارہویں صدی عیسوی کے ایک مشہور مسلمان فلسفی تھے جنہوں نے مشرق و مغرب کے فلاسفہ کو صدیوں تک متاثر کئے رکھا اور آج بھی ان کے ماننے والے ہزاروں کی تعداد میں مشرق و مغرب میں پائے جاتے ہیں۔ وہ مسلک کے اعتبار سے سُنی العقیدہ تھے۔

انہوں نے دورِ سلاجقہ میں اسلام اور ایران کا نام روشن کیا۔ 70سے زیادہ کتابیں تصنیف کیں جو عربی اور فارسی میں ہیں۔ ان کی سب سے مشہور تصنیف کا نام احیاء العلوم ہے جو عربی زبان میں ہے۔ اس کا خلاصہ امام صاحب نے فارسی میں بھی لکھا جس کا نام کیمیائے سعادت ہے۔

ہ دونوں کتابیں والد مرحوم کی لائبریری میں تھیں۔ دونوں بڑی تقطیع میں تھیں ۔جب بھی مجھے والد صاحب فرماتے کہ کیمیائے سعادت اٹھا لاؤ تو میں اس وزنی کتاب کو بڑی مشکل سے اٹھا کر لاتا ۔

پھر بعد میں جب ہائی کلاسوں میں گیا تو از راہِ تجسّس اس کو کھول کر پڑھنے کی کوشش کی۔ یہ کیمیائے سعادت کا اردو ترجمہ تھا جو مطبع منشی نولکشور، لکھنو میں چھاپا گیا تھا۔اس کے اوراق بھورے رنگ کے تھے۔ میں نے پڑھنے کی کوشش کی۔

کچھ کچھ پڑھ تو سکا لیکن سمجھ نہ سکا۔اردو کی یہ ساری اصطلاحاتِ فلسفہ میرے سر کے اوپر سے گزر گئیں۔ دوبارہ پڑھنے کی ہمت نہ ہوئی۔ والد مرحوم فرماتے تھے کہ امام غزالی، غیر معمولی طور پر ذہین و فطین شخص تھے۔ امام الجوینی سے فلسفہ، تصوف اور فقہ کا درس لیا اور ابوسینا اور فارابی جن پر یونانی فلاسفہ کا بہت اثر تھا ان کی تصانیف کا رد (ابطال) لکھا اور عالمِ اسلام میں بڑی شہرت پائی۔۔۔

یہ خلافتِ عباسیہ کا دور تھا۔ اور اس وقت ایران، فارس کہلاتا تھا اور خراسان اس کا ایک وسیع و عریض صوبہ تھا۔ غزالی کے علم و فن کے بارے میں چند تعارفی سطریں لکھنا بھی اس چھوٹے سے مضمون میں ممکن نہیں۔۔۔ معلوم ہوتا ہے کہ اقبال نے قیامِ یورپ کے دوران ان کی تصانیف دیکھی اور پڑھی ہوں گی۔امام غزالی کا فلسفہ کیا تھا اور ان کی ’’تلقین‘‘ کیا تھی اس پر بھی کوئی مختصر بحث نہیں کی جا سکتی۔

فلسفہ، منطق اور کلام وغیرہ جیسے علوم سمجھنے میں ہر دور کے قارئین کو مشکلات کا سامنا رہا۔ آج بھی وہی صورتِ حال ہے۔ اقبال کے اس مصرعہ (فلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نہ رہی) کا عمومی مفہوم یہ ہے کہ امام غزالی کی تصانیف میں علومِ فلسفہ پر جو بحث کی گئی ہے وہ بظاہر تاثیر سے خالی نظر آتی ہے لیکن امام جب ان خشک فلسفیانہ مضامین کی تشریح و تعبیر کرتے ہیں تو یہ تاثیر دل میں اترتی معلوم ہوتی ہے۔

یہی وہ کیفیت ہے جس کا ذکر ’’جواب شکوہ‘‘ کے اس مصرع میں ’’تلقینِ غزالی‘‘ کہہ کر کیا گیا ہے۔ یعنی فلسفہ گویا بادام یا کسی اور ڈرائی فروٹ مثلاً اخروٹ وغیرہ کا چھلکا ہے اور تلقین اس کا مغز ہے جو چھلکا توڑ کر اندر سے نکالا اور استعمال کیا جاتا ہے اور بہت سے فوائد کا حامل ہوتا ہے)۔۔۔ مرثیہ خواں (مرثیہ پڑھنے والے، کسی کی موت پر ماتم کرنے والے)۔۔۔ صاحبِ اوصاف (خوبیوں کے مالک) ۔۔۔ حجازی (حجاز / عرب کے رہنے والے)۔۔۔

اس بند کی تشریح:

خدا کی طرف سے اقبال کے شکوے کا جواب دیا جا رہا ہے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ مسلمان قوم میں جو لوگ اسلام کے اولین دور میں بہت پُرمغز نکات بیان کیا کرتے تھے، ان میں اب زبان و بیان کی وہ گرمی، تیزی اور جوشِ خطابت باقی نہیں رہا۔۔۔ مسجدوں میں اذانیں تو اب بھی دی جاتی ہیں لیکن ان میں وہ جذب و تاثیر نہیں جو اذانِ بلالِ حبشیؓ میں تھی۔

اب خالی خولی فلسفہ ہی رہ گیا ہے اور امام غزالی جیسے فلاسفروں کے کلام میں جو اثر انگیزی تھی وہ آج کے غزالیوں میں غائب ہو چکی ہے۔۔۔ آج جو چند لوگ مسجدوں کا رخ کرتے ہیں ان کی قلتِ تعداد دیکھ کر مسجدوں کے در و دیوار ماتم کرتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ کہاں گئے وہ مسلمان جو دیوانہ وار اذان کی آواز سنتے ہی جوق در جوق مسجدوں کا رخ کیا کرتے تھے؟ اور کہاں ہیں وہ مسلمان جن میں اہلِ حجاز کی سی خوبیاں اور اچھائیاں پائی جاتی تھیں؟

مزید : رائے /کالم