نیا پاکستان ،کھیلوں کیلئے بھی نیا ہوگا؟

نیا پاکستان ،کھیلوں کیلئے بھی نیا ہوگا؟
نیا پاکستان ،کھیلوں کیلئے بھی نیا ہوگا؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

گزشتہ روز میرے دوست کا فون آگیا جس نے مجھے تحریک انصاف کی ملک بھر میں تاریخی کامیابی پر مبارکبا د دی اور کہا کہ لگتا ہے کہ ملک میں اب تبدیلی آگئی ہے کہ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے عمران خان کی بات پر عمل کرتے ہوئے بھرپور انداز سے سپورٹ کیا اور اب دیکھنا یہ ہے کہ جن باتوں کی بنیاد پر عوام نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا اس پر کس طرح سے عمل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے کیونکہ اس وقت ملک کو بہت چیلنج درپیش ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کو ئی کھلاڑی کسی ملک کا وزیر اعظم بن رہا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ بطور کپتان تو عمران خان نے پاکستان کو پہلی مرتبہ ورلڈ کپ جتوادیامگر سیاسی وکٹ پر کیسی پرفارمنس ہوتی ہے یہ آنے والا وقت ثابت کرے گا ملک میں اس وقت کھیل شدید پستی کاشکار ہیں خاص طور پرقومی کھیل ہاکی جو مسلسل تنزلی کا شکار ہے اور قومی ٹیم ایک طویل عرصہ سے شکست سے دوچار ہورہی ہے اس سے قبل جتنی بھی حکومتیں آئیں انہوں نے دعوے تو بہت کئے مگر عملی طور پر کچھ نہیں کیا ۔جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی پر سابق کرکٹرز بھی خوشی سے نہال ہیں۔ اور دوسری جانب بالی ووڈ میں بھی عمران کی فتح کے چرچے ہیں سابق بھارتی کپتان اور کانگریس لیڈر اظہر الدین نے کہا ہے کہ کرکٹ ٹیم کی قیادت اور ملک کی قیادت کرنا دو مختلف چیزیں ہیں عمران خان کا کرکٹ سے سیاست میں آنا مثبت عمل ہے لیکن انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چا ہئے کہ کرکٹ ٹیم کی قیادت اور ایک ملک کی قیادت دو مختلف چیز یں ہیں پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں سابق بھارتی کپتان کا کہنا تھا کہ انہیں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کیشد گی کو کم کرانے کی یقین دہانی کروانی ہو گی لیکن اس سے قبل انہیں ملکی مسائل سے نمٹا ہو گا۔سابق بھارتی کرکٹرنوجوت سنگھ سدھو نے پاکستان کے ممکنہ وزیر اعظم عمرا ن خان کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے۔ نوجوت سنگھ سدھو کاکہنا تھا کہ عمران خان بہترین لیڈرہیں، وہ سسٹم کوکچھ دینے آئے ہیں،لینے نہیں آئے۔ عمران خان نیک ،پاک اورپاکیزہ ہیں جو ہمیشہ جوڑنے کی بات کریں گے توڑنے نہیں۔جبکہورلڈکپ 1992 کی عالمی چیمپئن ٹیم کے کوچ انتخاب عالم نے بھی یقین ظاہر کیا ہے کہ عمران خان کی الیکشن میں کامیابی پاکستان اور بھارت کرکٹ تعلقات کیلئے بہت بہتر ثابت ہوگی۔ عمران خان فائٹر ہیں۔ورلڈکپ 1992 کے دوران وہ صرف 70 فیصد فٹ تھے لیکن انہوں نے عزم و ہمت سے کامیابی حاصل کیاس حوالے سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم ،انضمام الحق، محمد یوسف ،جاوید میانداد نے بھی سب سے پہلے عمران خان کو ان کی اس کامیابی پر مبارکباد دی ہے ۔دوسری جانب تحریک انصاف کی جیت کے ساتھ ہی پاکستان کرکٹ بورڈ میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کرنے کا فیصلہ اور ایسے افراد جو پاکستان کرکٹ بورڈ میں بدعنوانی اور کرپشن میں ملوث ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے او ر اب یہ ممکن ہے کہ اس حوالے سے اعلی عہدوں پر فائز افسران کو ہٹا دیا جائے گا۔ عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ میں فوری طور تبدیلی۔ نجم سیٹھی کو چیئرمین کے عہدے سے ہٹایا جائے گا۔ اس سلسلے میں خاموشی سے بیک ڈور ڈپلومیسی ہورہی ہے۔ نجم سیٹھی کے عہدے کی معیاد اگست 2019تک ہے ابھی ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا جبکہ سابق وزیر اعلی پنجاب نجم سیٹھی نے پاکستان کرکٹ بورڈ میں چیئرمین کا عہدہ سنبھالا تو عمران خان نے انہیں 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے 35 پنکچر کا الزام لگا دیا تھا لیکن عمران خان اس الزام کو ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ اس دوران نجم سیٹھی اور عمران خان کے درمیان قانونی جنگ بھی جاری رہی۔جبکہ عام انتخابات کے بعد لاہور میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا اعلی سطح اجلاس ہوا۔چیئر مین نجم سیٹھی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں نجم سیٹھی نے صلاح مشورے کئے۔نجم سیٹھی نے فون پر بھی اپنے قابل اعتماد ساٹھیوں سے مشاورت کی۔اورذرائع کا کہنا ہے کہ نجم سیٹھی کی بورڈ آف گورنرز میں نامزدگی پی سی بی کے سرپرست اعلیٰ وزیر اعظم پاکستان نے کی ہے اگر وہ چاہیں گے تو نجم سیٹھی کی نامزدگی سے دستبردار ہوسکتے ہیں۔ نجم سیٹھی کو فوری طور پر تبدیل نہیں کیا جائے گا تاہم وزیر اعظم بننے کی صورت میں عمران خان نے اگر نیا چیئرمین لانے کا سوچا تو آئی سی سی کے سابق صدر احسان مانی نئے چیئرمین کے لئے مضبوط امیدوار ہوسکتے ہیں۔اور کھیلوں کی مختلف فیڈریشنوں نے تحریک انصاف کی کامیابی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ عمران خان ملک میں کھیلوں کی ترقی کے لئے کام کریں گے۔ اور اس وقت جو فیڈریشنز مشکلات کا شکار ہیں اور ان سے وابستہ کھلاڑی پیچھے رہ گئے ہیں ان کی فلاح و بہبود کے لئے نئی حکومت بھرپور کام کرے گی اور جلد ہی پاکستان میں کھیلوں کی فیڈریشنز کا مستقبل بھی روشن ہوگا۔

مزید : رائے /کالم