شیلٹر ہوم میں 42کم عمر بچیوں سے جنسی زیادتی ، نشہ آور ادویات دیئے جانے اور انکار پر ایسا شرمناک سلوک کہ این جی اوز پر اعتبار ختم ہو گیا

شیلٹر ہوم میں 42کم عمر بچیوں سے جنسی زیادتی ، نشہ آور ادویات دیئے جانے اور ...
شیلٹر ہوم میں 42کم عمر بچیوں سے جنسی زیادتی ، نشہ آور ادویات دیئے جانے اور انکار پر ایسا شرمناک سلوک کہ این جی اوز پر اعتبار ختم ہو گیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بہار میں واقع شیلٹر ہوم کی بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے ، پیٹے جانے اورکسی کوبتانے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیئے جانے کا انکشاف ہوا ہے ۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بہار میں واقع سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام شیلٹر ہوم سیکنڈل کی تحقیقات کے بعد نت نئے انکشافات سامنے آرہے ہیں ۔لڑکیاں جن کی عمر 18سال سے کم ہے کا کہناہے کہ ان کوکیٹر ے مارنے والی ادویات کے نام پرگولیاں کھلائی جاتی تھیں جس کے بے وہ بے ہوش ہو جاتی تھیں اور جب وہ ہوش میں آتیں تو ان کے کپڑے اترے ہوئے ہوتے اور وہ درد محسوس کرتی تھیں۔

تحقیقات کے مطابق میڈیکل رپورٹ میں ان تما م بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی ثابت ہوگئی ہے ۔پولیس نے چائلڈ پروٹیکشن آفیسر کمار روشن اور برجیس ٹھاکر کو جو این جی او چلاتا تھا گرفتار کر لیا ہے ۔پولیس نے کارروائی کرکے شلٹر ہوم کو بلیک لسٹ کردیا ہے جبکہ بچیوں کو یہاں سے دوسری جگہ پر منتقل کردیا گیا ہے ۔میڈیکل رپورٹ کے مطابق 42لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیاہے ۔

لڑکیوں کے مطابق ملز م روشن کمار روزانہ کی بنیاد پر شلٹرہوم میں آیا کرتا تھا، لڑکیوں کو شراب پلائی جاتی ،مدہوش کیا جاتا اور انکار پر مارپیٹ کی جاتی تھی ۔ایک لڑکی نے بتایا کہ ان کی نگران چندا آنٹی مجھ اس کے پاس لے گئی ۔ ان نے مجھ کو ایک گولی دی اور میں بے ہوش ہوگئی اور جب مجھ کو ہوش آیا تو میر ے جسم کے اوپر کوئی لباس نہیں تھا ۔روشن نے میرے ساتھ جنسی زیادتی کی اور کہا کہ اس کے متعلق کسی کو بتانا نہیں ہے ۔ ایک دوسری لڑکی نے بتایا کہ ایک ذہنی معذور لڑکی کو بھی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیاہے ۔

شلٹر ہوم میں مقیم رہنے والی ایک لڑکی کا کہنا تھا کہ اس کو پیٹا گیا جب اس نے جنسی زیادتی کا نشانہ بننے پر مزاحمت کی تھی ۔روشن نے مجھے قتل کردینے کی دھمکی دی تھی ۔

لڑکیوں کا کہنا ہے کہ ان کو تنگ کپڑے پہنائے جاتے تھے جس کے بعد روشن اور اس کے ساتھیوں کے سامنے ناچنے پر مجبور کیا جاتا تھا ۔اس دوران روشن اور اس کے ساتھی ہمارے جسم کے حصوں کو نامناسب انداز میں چھوتے تھے ۔اگر ہم انکار کرتیں تو ہمیں مارا پیٹا جاتا تھا ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس