مغل پورہ ، سرکل ، چوہدری ڈکیتی ، رہزنی اور قتل کے واقعات نے دیگر سرکلز کو مات دے دی

مغل پورہ ، سرکل ، چوہدری ڈکیتی ، رہزنی اور قتل کے واقعات نے دیگر سرکلز کو مات ...

لاہور(لیاقت کھرل) مغل پورہ پولیس سرکل میں ڈکیتی، چھینا جھپٹی اور موٹر سائیکل چوری کے واقعات نے پولیس کو کئی سال سے چکرا رکھا ہے جبکہ معمولی بات پر قتل و غارت اور دشمنی کو جنم دینے کے واقعات کے حوالے سے بھی اس پولیس سرکل کے تینوں تھانوں گجر پورہ ، مغل پورہ اور شالامار نے شہر کے دیگر پولیس سرکلز کو مات دے رکھی ہے۔ روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کے سرو ے میں شہریوں نے پولیس کے نامناسب رویے، مقدمات کے اندراج میں ٹال مٹول اور مٹھی گرم کرنے کے الزامات لگائے جبکہ تھانوں کے ایس ایچ اوز نے جرائم کی روک تھام میں ناکامی کی وجہ اہلکاروں کی کمی اور کئی کئی سال سے تھانیداروں اور اہلکاروں کی تعیناتی کو قرار دیا۔ اس موقع پر اہل علاقہ میاں اسلم، فیاض بٹ، اکرام اللہ، میاں انیس، اظہر اکبر،فیض الحسن ،سلیمان، شہباز،عارف،اشرف ،محمود، اقبال، عظیم، ذیشان،محمد اکرم ،ملک بشارت، ملک عارف اور ملک قاسم نے بتایا کہ تھانہ مغل پورہ اور تھانہ گجر پورہ کی حدود میں کئی سال سے موٹر سائیکل چوروں کے پانچ چھ گروہوں کے ملزمان متحرک ہیں، یہ لوگ انجینئرنگ یونیورسٹی سے تقریباً روزانہ ایک دو موٹر سائیکلیں چوری کر لیتے ہیں۔ شالامار لنک روڈ، جی ٹی روڈ، باغبانپورہ، چائنہ سکیم اور عالیہ ٹاؤن کو ڈاکوؤں اور راہزنوں نے اپنے نرغے میں لے رکھا ہے، جس کی وجہ سے گجر پورہ کے علاقہ میں ہر طرح کا کرائم ہوتا ہے بلکہ یہ علاقہ جرائم کے اعتبار سے’ سہراب گوٹھ ‘بن چکا ہے۔ یہاں ڈاکو اور راہزن لوٹ مار کر کے بڑے آرام سے دریائے راوی کی بیلٹ اور رِنگ روڈ کے ذریعے اپنی منزل پر پہنچ جاتے ہیں جبکہ باغبانپورہ بازار اور شالامار لنک روڈ پر چھینا جھپٹی کے واقعات کئی سال سے کنٹرول میں نہ ہیں،راہزن دن دیہاڑے خواتین سے پرس اور موبائل چھین کر فرار ہوجاتے ہیں۔ اس موقع پر تھانہ شالامار میںآئے ہوئے شہری محمد عمر نے بتایا کہ باغبانپورہ بازار میں دوموٹر سائیکل سواروں نے موبائل فون چھین لیا، پولیس نے چوری کی دفعہ کے تحت مقدمہ نمبر 676/18 درج کر کے ٹال دیا ہے۔ گجرپوہ کے مکینوں زوار حسین ، زوہیب علی ، ریاض حسین، اسلم پومی اور اخلاق خان نے بتایا کہ یہاں قبضہ گروپ کی زیادتی اورغنڈہ گردی عروج پر ہے۔ چائنہ سکیم اور ارد گرد پٹھان یاافغان برادری کی چارآبادیاں ہیں،معمولی بات پر عام شہری پر تشدد نے قتل و غارت کو جنم دے رکھا ہے۔ شہریوں نے بتایا کہ رواں سال کے دوران چار بے گناہ شہریوں کو قتل اور 30 افراد کو زخمی کیا گیا جبکہ تھانہ میں کئی سال سے تعینات اہلکار اور تھانیدار جرائم پیشہ اور غنڈہ عناصر کی سرپرستی میں لگے ہوئے ہیں جس کے باعث امن و امان کی فضا روز بروز خراب ہورہی ہے۔ اس موقع پر شہریوں وقاص ، فاروق احمد، ملک اشفاق ، علی زوہیب ، خرم علی ،اصغر علی، ذکیہ بی بی ، شکیلہ بی بی اور انوار حسین نے بتایا کہ مغل پورہ میں معمولی بات پر فیکٹری ملازم کوقتل کر دیا گیا ۔ شعبہ ہومی سائیڈ دوماہ تک قاقتل کا سراغ نہ لگا سکی۔معمولی تنازع پر ایک اور شہری کو قتل کر دیا گیا،پولیس چار روز گزر جانے کے باوجود تاحال ٹس سے مس نہ ہے۔ اسی طرح شالامار مدینہ کالونی اور کالج روڈ کے مکینوں نے بتایا کہ دوروزقبل گھر میں سوئے ہوئے شہری وقار کو قتل کردیا گیا، پولیس تاحال اندھے قتل کا سراغ نہیں لگا سکی ہے۔ سروے کے دوران شالامار ، مغل پورہ اور گجر پورہ کے تھانوں کی حدود میںآباد لوگوں نے منشیات فروشی کے خلاف شکایات کے انبار لگا دئے۔ مکینوں نے بتایا کہ گندے نالے کے ساتھ عیسیٰ نگر منشیات کا گڑھ ہے او رچائنہ سکیم ، گجر پورہ میں وہاں سے منشیات لا کر فروخت کی جا رہی ہیں جبکہ مغل پورہ میں منشیات فروشی اور قمار بازی کے کئی سال سے اڈے قائم ہیں۔ تھانہ مغل پورہ کے متصل آبادی میں منشیات فروشی کے دھندے پر آئے روز قتل و غارت اور لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے ہیں،پولیس روکنے کی بجائے سفارشی بنی ہوئی ہے۔اسی طرح شالامار کی آبادیوں امین پارک، ثریا پارک، القادر سکیم ، مدینہ کالونی اور سنگھ پورہ میں ہر طرح کا کرائم ہے جبکہ لینڈ مافیا نے بھی ان آبادیوں میں اپنے پنجے گاڑھ رکھے ہیں۔ اس موقع پر مکینوں کا کہنا تھا کہ عالیہ ٹاؤن کے قریب پولیس ناکے سے چند گز کے فاصلے پر موٹر سائیکل سوار لوٹ مار کر کے فرار ہو جاتے ہیں۔ ڈولفن فورس او پیروسکواڈ کے پہنچنے تک ڈاکو کئی کلو میٹر سفر کر چکے ہوتے ہیں۔

مزید : علاقائی