پتنگ بازی سے شہری خوفزدہ ، پولیس خاموش ، وزیر اعلٰی سے نوٹس کا مطالبہ

پتنگ بازی سے شہری خوفزدہ ، پولیس خاموش ، وزیر اعلٰی سے نوٹس کا مطالبہ

لاہور( خبرنگار) صوبائی دارالحکومت میں گزشتہ روز منی بسنت ڈے منایا گیا اور دن بھر بو کاٹا کے نعرے لگتے رہے۔ گنجان آبادیوں کے ساتھ پوش علاقوں میں بھی پتنگ بازی کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق پتنگ بازی جیسے جان لیوا کھیل میں تیزی آ گئی ہے اور شہر میں گزشتہ روز پتنگ بازوں نے منی بسنت ڈے منایا۔ اس موقع پر پتنگ باز صبح سویرے ہی گھروں اور پلازوں کی چھتوں پر چڑھ گئے اور پتنگ بازی کا سلسلہ شروع کر دیا جس میں دن بھر بو کاٹا کے نعرے لگتے رہے اور پتنگ باز بڑے دھڑلے سے دن بھر اپنی مرضی کے گڈے اور بڑے بڑے سائز کی پتنگیں ہوا میں اڑاتے رہے جس کے باعث آسمان رنگ برنگ پتنگوں اور مختلف سائز کے گڈوں سے سجا رہا۔ اس موقع پر پتنگ باز موٹی ڈور اور کیمیکل سے تیار ہونے والی ڈور بھی استعمال کرتے رہے جس میں غازی آباد ، ہربنس پورہ ، باغبانپورہ ،فتح گڑھ، شالیمار، سنگھ پورہ، گجر پورہ اور چائنہ سکیم سمیت مصطفےٰ آباد میں سب سے زیادہ پتنگ بازی کی گئی جبکہ گلشن راوی، سمن آباد اور ساندہ میں بھی دن بھر پتنگ بازی کا سلسلہ جاری رہا۔ اسی طرح چونگی امر سدھو، کوٹ لکھپت اور اسماعیل ٹاؤن سمیت شیرا کوٹ اور کوٹ کمبوہ میں بھی پتنگ بازی کی گئی۔ اس موقع پر دن بھر بوکاٹا کے نعروں سے شہری خوف و ہراس میں مبتلا رہے اور پتنگ بازی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر شہری سراپا احتجاج بنے رہے۔ اس موقع پر شہریوں کا کہنا تھا کہ ہر اتوار کو پتنگ بازی کا سلسلہ عروج پر رہتا ہے۔ پولیس چند اصل پتنگ بازوں کو پکڑنے کی بجائے خانہ پری کے طور پر کارروائی کر کے سب اچھا کی رپورٹ دے دیتی ہے۔ اس پر نگران وزیراعلیٰ کو نوٹس لینا چاہیے۔ پتنگ بازی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر پتنگ سازی کے کام میں بھی تیزی آنے لگی ہے اور شہر کی 20 آبادیوں سمیت ارد گرد کے علاقوں میں اندر کھاتے پتنگ سازی کے دھندے نے زور پکڑ لیا ہے جس میں باغبانپورہ ، محمود بوٹی، جلو پنڈ، مناواں، ابراہیم کالونی، غازی آباد ، ہربنس پورہ اور چونگی امر سدھو ، کچا جیل روڈ ، کالا خطائی روڈ سمیت 20 سے زائد علاقوں میں اندر کھاتے پتنگ بازی کا سامان تیار ہونے لگا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مریدکے، نارنگ منڈی ، مانگا منڈی سمیت کاہنہ اور سٹی رائے ونڈ میں بھی بڑے بڑے سائز کی پتنگیں اور گڈے تیار ہونے لگے ہیں جس میں موٹی ڈور اور کیمیکل والی ڈور اور چرخیاں بھی تیار ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پتنگ سازوں کو دکانداروں اور پتنگ بازوں کے موبائل فون کے ذریعے آرڈر دینے کے دھندے میں اچانک تیزی آ گئی ہے اور پتنگ ساز رات کے اندھیرے میں آرڈر کے مطابق پتنگ بازی کا سامان فراہم کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میں پولیس ناکوں پر تعینات اہلکار اپنا حصہ وصول کر کے آگے جانے کی اجازت دے دیتے ہیں جس کے باعث پتنگ بازوں تک بڑی آسانی سے پتنگ بازی کا سامان پہنچانے میں مدد مل رہی ہے۔ اس حوالے سے ایس پی سٹی سیف اللہ کا کہنا ہے کہ ماضی میں شاہدرہ ، راوی پل اور مستی گیٹ پر اکثر گاڑیوں سے پتنگ بازی کا سامان پکڑا گیا ہے اب بھی ناکوں پر سخت چیکنگ کا حکم دے رکھا گیا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1