پاکستان میں ہیپا ٹائٹس کے مریضوں کی تعداد ڈیڑھ کروڑ سے بڑھ گئی، ڈاکٹر حنا لطیف

پاکستان میں ہیپا ٹائٹس کے مریضوں کی تعداد ڈیڑھ کروڑ سے بڑھ گئی، ڈاکٹر حنا ...

لاہور(پ ر)میو ہسپتال کی اسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر حنا لطیف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہیپا ٹائٹس کے مرض میں مبتلا افراد کی تعداد ڈیڑھ کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے جن میں سے اکثریت کو اپنی بیماری سے متعلق علم ہی نہیں، پاکستان میں ہیپا ٹائٹس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتیں ٹی بی، ڈینگی، ملیریا اور ایڈز کے نتیجے میں ہونے والی اموات سے کہیں زیادہ ہیں، پاکستان میں ہیپا ٹائٹس کے مرض کی وجہ سے جگر کے کینسر میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں 7 کروڑ 10 لاکھ افراد ہیپا ٹائٹس سی کے موذی مرض میں مبتلا ہیں جن میں سے 10 فی صد افراد پاکستان میں پائے جاتے ہیں، پاکستان میں اس قابل علاج مرض کی پیچیدگیوں کے نتیجے میں سالانہ 40 ہزار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور لوگوں کو اس مرض کو انتہائی سنجیدہ لینا چاہیے اورعوام کی اسکریننگ کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں، ہیپا ٹائٹس سو فی صد قابل علاج مرض ہے۔ اسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر حنا لطیف نے کہا کہ ہیپا ٹائٹس کیلئے علامات کا ہونا ضروری نہیں، اس کی تشخیص خون کی اسکریننگ سے ابتدائی مرحلے میں ہو سکتی ہے، خون کی منتقلی سے یہ مرض کسی دوسرے شخص کو لاحق ہوسکتا ہے، ہیپا ٹائٹس اے اور ای آلودہ پانی، خراب غذا سے پھیلتا ہے جبکہ ہیپا ٹائٹس بی اور سی متاثرہ خون سے منتقل ہوتا ہے، حجام کے استعمال شدہ ریزر، میڈیکل پروسیجر میں متاثرہ سرنج کے استعمال یا منشیات کے انجیکشن کے ذریعے استعمال سے پھیل سکتا ہے ،لہٰذا اُبلے ہوئے پانی کے استعمال،کھانے سے پہلے، کھانے کے بعد، کھانا پکانے سے پہلے اور قضائے حاجت کے بعد ہاتھ دھونے سے اس سے بچاؤ ممکن ہے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1