لینڈ ریکارڈ اتھارٹی ، اثاثے ظاہر کرنے کا فارم دری ، خفیہ سورس رپورٹ تیار کرنے کا فیصلہ

لینڈ ریکارڈ اتھارٹی ، اثاثے ظاہر کرنے کا فارم دری ، خفیہ سورس رپورٹ تیار کرنے ...

لاہور(اپنے نمائندے سے)کون کتنا امیر ہے، پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی جانب سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ ،سروس سنٹر انچارج اور سروس سنٹر آفیشل سمیت انتظامی سیٹوں پر براجمان سٹاف کو اثاثہ جات ظاہر کرنے کے لئے دیئے جانے والے ڈیکلیریشن آف ایسٹس فارم ردی کی ٹوکری میں پھینک دیئے گئے ،2007سے لیکر2018تک اس پراجیکٹ میں شامل سٹاف کی جانب سے مرتب کی جانے والی رپورٹ کا جائزہ لینے کے لئے پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے خفیہ سورس رپورٹ تیار کرنے کا فیصلہ کر لیا،حقائق سے برعکس رپورٹ ظاہرکرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کا عندیہ دے دیا گیا ہے ،تفصیلات کے مطابق پانامہ ایشو کے بعد ایک طرف حکمران عتاب کا شکار ہیں اور عدالتی ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں تو دوسری طرف پنجاب حکومت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن بابت اثاثہ جات 2سال کا عرصہ گذر جانے کے بعد بھی عمل درآمد نہیں کیا جا سکا۔پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی جانب سے پنجاب کی 143تحصیلوں میں تعینات سروس سنٹر انچارج ،سروس سنٹر آفیشل اوراسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈر یکارڈز کے علاوہ ہیڈ آفس میں تعینات تمام افسران میں اثاثہ جات جمع کروانے کے لئے "ڈیکلیئریشن آف ایسٹس فارم"تقسیم کئے گئے تھے اورہدایات جاری کی ہیں کہ وہ 2مہینے کے اندر پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی میں تعیناتی کے آغاز سے تاحال تک اپنے اثاثہ جات کی تفصیلات جمع کروائیں ،غلط اثاثہ جات یا معلومات کو چھپانے کی پاداش میں سخت کارروائی کا عندیہ بھی دے دیا گیا تھا تاہم 2سال کا عرصہ گذر جانے کے بعد بھی کسی اہلکار نے اپنے اثاثہ جات تاحال ڈیکلیئر نہ کروائے ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ ڈی جی پی ایل آر اے اس نوٹیفیکیشن پر عملدرآمد کروا پاتے ہیں یا یہ بھی ناکام ہو جاتے ہیں یہ تو آنیوالا وقت ہی بتائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نوٹیفیکیشن پر عمل درآمد سے زیادہ تر اہلکار پھنس جائیں گے کیوں کہ کیونکہ پنجاب لینڈ ریکارڈاتھارٹی میں تعینات افسران اور اراضی ریکارڈ سنٹرز میں کام کرنے والے عملہ کے اثاثہ جات میں تعینات سے لے کر حال تک کئی سو گنا اضافہ ہو چکا ہے ،وہ اہلکار جو کبھی آفس یا اراضی ریکارڈسنٹرز میں موٹر سائیکلوں پر آتے تھے آج ان کے پاس قیمتی گاڑیاں ہیں ،بہترین لباس اور عالیشان رہائشوں میں رہنے والے یہ ملازمین اپنی شان و شوکت کا کیا جواب دیں گے ،ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اہلکاروں کی کثیر تعداد نے اپنے اثاثہ جات کو اپنے رشتے داروں اور قریبی عزیزوں کے نام پر کرنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیاگیا ہے جس کے لئے باقاعدہ وکلاء کی خدمت بھی حاصل کی گئیں ہیں تاکہ ڈیکلیئریشن آف ایسڈ فارم میں ظاہر کئے گئے اثاثہ جات کے متعلق جواب دینے کے لئے قبل ازوقت تیاری کر لی جائے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1