خواتین کے ایک ایسے طبقے کا اپنے ساتھ ہونیوالی شرمناک جنسی زیادتیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کا فیصلہ کہ نام و نہاد مذہبی پارساﺅں کے طوطے اڑے گئے

خواتین کے ایک ایسے طبقے کا اپنے ساتھ ہونیوالی شرمناک جنسی زیادتیوں کے خلاف ...
خواتین کے ایک ایسے طبقے کا اپنے ساتھ ہونیوالی شرمناک جنسی زیادتیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کا فیصلہ کہ نام و نہاد مذہبی پارساﺅں کے طوطے اڑے گئے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

روم (ڈیلی پاکستان آن لائن)سالوں جنسی زیادتیوں کا نشانہ بننے کے بعد راہباﺅں نے بھی جنسی زیادتی اور مجرمانہ استحصال کے خلاف آواز بلند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ان کہ کہنا ہے کہ اب وہ اس مجرمانہ سلوک پر پر خاموش نہیں رہیں گے جو گرجوں میں ان کے سینئر پادریوں کے ہاتھوں ان کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے ۔ان راہباﺅں کی ذمہ داری گرجوں کو صاف رکھنا اور پادریوں ، بشپس اور کارڈینیلز کی خدمت کرنا اور ان کا کھانا پکانابھی ہے ۔ اس کے باوجود ان کوگرجوں میں دوسرے درجے کی مخلوق کا درجہ حاصل ہے ۔

امریکی نیوز ایجنسی کے مطابق ایک فرانسیسی اخبار میں چھپنے والے تحقیقاتی مضمون کے مطابق یہ بات واضح ہے کہ یہ عمل بہت وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا ہے اور اگر راہباﺅں نے کھل کر بولنے کا فیصلہ کرلیا تو ایک بہت بڑا سیکنڈل جنم لے سکتا ہے ۔اس حوالے سے ایک راہبہ”کرسٹیلی“ کا حوالہ بھی دیا گیاہے جس کو 2010اور 2011کے درمیان تشدداور جنسی زیادتی کا نشانہ بننا پڑا ۔اس کے کہنا ہے کہ وہ ”جین“ نامی پادری کے ساتھ 2004میں ملی جس کو ایک بڑے روحانی مبلغ کا درجہ حاصل تھا ۔راہبہ کا کہنا ہے کہ میں اس کو اپنا روحانی باپ سمجھتی تھی لیکن پھر 2007میں یہ درجہ تبدیل ہوگیا جب اس نے مجھ کو چومنے کی کوشش کی اورمیر بدحواسی دیکھتے ہوئے وہ پیچھے ہٹ گیا اور معذرت کرتے ہوئے مجھ سے فاصلہ رکھنا شروع کردیا ۔

راہبہ کے مطابق 2010میں مجھے احساس ہونا شروع ہوا کہ میں اپنی روحانی پاکیزگی کھوتی جارہی ہوں اور ہمار ے تعلقات بہتر ہونا شروع ہوگئے ۔وہ میرے ساتھ آخری شخص تھا جو میرے اوپر اختیار رکھتا تھا ۔اس نے چرچ میں تقرر کے لئے میری مدد بھی کی تھی ۔پھر اشارے غیر مناسب ہوتے گئے ۔ہر دفعہ میں نے اس کو انکار کیا لیکن اس نے کوشش جاری رکھی ۔اس نے ہمیشہ میرے برا منانے پر معذرت کی لیکن پھر وہ دن بھی آگیا جب اس نے میرے ساتھ جنسی زیادتی کردی ۔اس کے لئے خود کو قابو میں رکھنا مشکل ہوگیا تھا ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس