پاکستانی سینما کا معیار پہلے سے بہتر ہورہا ہے:مدیحہ اشرف

پاکستانی سینما کا معیار پہلے سے بہتر ہورہا ہے:مدیحہ اشرف
پاکستانی سینما کا معیار پہلے سے بہتر ہورہا ہے:مدیحہ اشرف

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور ( فلم رپورٹر ) معروف بیوٹیشن مدیحہ اشرف نے کہا ہے کہ ہمارے چاروں صوبے اپنی رسم ورواج، میوزک ، بولیوں اور ملبوسات کی وجہ سے اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں اس لئے جب ہم اپنے ملک یا دنیا کے کسی بھی خطے کی کہانی کواپنی فلم یا ڈرامے میں پیش کرتے ہیں توضروری ہوجاتا ہے کہ ہم وہاں کا کلچر بھی دکھائیں۔ مدیحہ اشرف نے کہا کہ فلموں میں حقیقت کے رنگ بھرنے کے لئے جس طرح کہانی اورکردارکا مضبوط ہونا ضروری ہوتا ہے ، اسی طرح ان کرداروں کے مطابق اگران کے ملبوسات بھی تیارکیے جائیں تووہ سونے پہ سہاگہ کا کام کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دیکھا جائے توہالی ووڈ اوربالی ووڈ میں بننے والی فلموں کے کرداروں کی ڈریسنگ پرخاص توجہ دی جاتی ہے۔ جس کے ذریعے کردارکی اپنی ایک منفرد جھلک دکھائی دیتی ہے۔ اس طرح کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح فلم میکنگ کیلیے ڈائریکٹر، رائٹر، کیمرہ مین ضروری ہے۔ اسی طرح ڈریس ڈیزائنرکا ہونا بھی اشدضروری ہوتا ہے جو سکرپٹ اور لوکیشنز کے مطابق ڈریس تیار کرتا ہے جس سے فلم کی خوبصورتی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس اہم شعبے پر موجودہ دورمیں بھی کچھ خاص توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کچھ نئے پراجیکٹس پر کام جاری ہے لیکن اس کے حوالے سے فی الوقت تفصیلات کی فراہمی معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔

لیکن اتنا ضرور کہنا چاہوں گی کہ جس طرح پاکستانی سینما کا معیار دن بدن بہترہورہا ہے۔

مزید : کلچر