سپریم کورٹ ، پنجاب کمپنیز سکینڈل نیب کو بھیج دیا گیا ، 10روز میں رپورٹ طلب

سپریم کورٹ ، پنجاب کمپنیز سکینڈل نیب کو بھیج دیا گیا ، 10روز میں رپورٹ طلب

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک،خبر نگار)چیف جسٹس ثاقب نثار نے پنجاب کمپنیز سکینڈل نیب کو بھیج دیا۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے پنجاب کی 56 کمپنیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ تمام کمپنیوں کے سی ای اوز، چیف سیکریٹری پنجاب، ڈی جی نیب لاہور عدالت میں پیش ہوئے۔ سی ای اوز نے موقف اختیار کیا کہ ان کا تقرر میرٹ کی بنیاد پر کیا گیا ہے لیکن سپریم کورٹ نے ان کے موقف پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے معاملہ نیب کو بھجوادیا اور 10 روز میں رپورٹ طلب کرلی۔چیف جسٹس نے نیب کو ہدایت کی کہ اگر اس کیس میں ریفرنس بنتا ہے تو نیب ریفرنس بھی فائل کرے۔ سپریم کورٹ نے 3 لاکھ سے زائد تنخواہ لینے والے تمام افسران کو نیب کے روبرو پیش ہونے کا بھی حکم دیا۔چیف جسٹس پاکستان نے آئی ڈیم کے سی ای او پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ 11 لاکھ روپے تنخواہ لے رہے ہیں، آپ کا کیا تجربہ ہے، کسی کو خیال ہی نہیں کہ یہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے، اگر کوئی پیسے واپس نہیں کرے گا تو ہم نکلوا لیں گے، اورنج لائن ٹرین ،فاسٹ ٹریک اور دیگر منصوبے ایک ہی ٹھیکیدار کو دئیے گئے۔دوسری طرف نیب لاہور نے 56 کمپنیوں میں بڑی بڑی تنخواہیں اورمراعات لینے والے سی ای اوز کیخلاف شکنجہ تیارکرلیا ہے اور پنجاب حکومت سے باقاعدہ ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم پر نیب لاہور نے پنجاب کی 56 کمپنیوں سے لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہیں اور مراعات لینے والے سی ای اوز کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا ہے اور اس سلسلہ میں ڈی جی نیب لاہور میجر (ر) شہزاد سلیم نے آج صبح ایک اہم اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں مختلف کمپنیوں میں تعینات سی ای اوز سے تحقیقات کے لئے طلبی نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب لاہور نے اضافی تنخواہیں اورمراعات لینے والے 6 کمپنیوں کے سی ای اوز کے خلاف پہلے سے تحقیقات شروع کر رکھی ہیں اور سپریم کورٹ کے حکم پر تحقیقات کے عمل کو مزید تیز کی جا رہا ہے جس میں بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔دریں اثناء سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی جانب سے صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت صوبے بھر میں بنائی گئی 56 کمپنیوں سے لاکھوں روپے بھاری تنخواہیں لینے والے سرکاری افسران کے نام سامنے آگئے ہیں ، صاف پانی کمپنی سمیت دیگر کمپنیوں میں بھاری تنخواہیں لینے والے افسران میں پنجاب ہیلتھ فیسٹلیز مینجمنٹ کمپنی سے گریڈ 19 کے محمد علی عامر 6 لاکھ وصول کر رہے ہیں جبکہ پی ایچ ایف ایم سی کے گریڈ اٹھارہ کے محمد ذوالقرنین ساڑھے 4 لاکھ تنخواہ وصول کرتے رہے اور گریڈ 20 کے ڈاکٹر ندیم سہیل 11 مئی 2017سے 3 لاکھ تنخواہ وصول کر رہے ہیں جبکہ پنجاب پاپولیشن اینوویشن فنڈ کے جواد احمد قریشی کا نام شامل ہے اور گریڈ 19 کے جواد احمد قریشی 8 مئی 2017 سے 7 لاکھ ماہانہ تنخواہ لے رہے ہیں پنجاب سکلز ڈویلپمنٹ فنڈ سے علی سرفراز 4 لاکھ 29 ہزار 250 روپے تنخواہ وصول کر رہے ہیں اسی طرح اربن سیکٹر پلاننگ کمپنی کے گریڈ 20 کے ڈاکٹر ناصر جاوید سی ای او کی حیثیت سے 2012 سے 8 لاکھ 80 ہزار تنخواہ وصول کر رہے ہیں اور اسی کمپنی کے رفاقت علی بھنگوبطورآڈٹ آفیسر کی حیثیت سے 4 لاکھ 10 ہزار تنخواہ لے رہے ہیں اوراربن سیکٹر پلاننگ کمپنی سے اون عباس بخاری 3 لاکھ 80 ہزار، عبدالرزاق 4 لاکھ95 ہزار، فیصل فرید 3 لاکھ 76 ہزار 250 روپے تنخواہ وصول کرتے رہے جبکہ ڈاکٹر طاہر علی اکبر 5 لاکھ 20 ہزار 300 روپے، توصیف دلشاد کھٹانہ 3 لاکھ 32 ہزار 750 روپے، محمد بابر چوہان بھی 3 لاکھ 85 ہزار اور سلیم خان رانا 3 لاکھ روپے تنخواہ وصول کر رہے ہیں پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے گریڈ 19 کے سید طاہر رضا ہمدانی 4 لاکھ 34 ہزار 500 روپے، وقار عظیم 3 لاکھ 93 ہزار، شاہدہ فرخ نوید 3 لاکھ 2 ہزار500، نور الرحمن 3 لاکھ 25 ہزار، سہیل احمد ٹیپو 3 لاکھ 35 ہزار اور مرزا نصیر عنایت 3 لاکھ 35 ہزار تنخواہ وصول کرتے رہے ہیں۔

مزید : صفحہ اول