خواجہ آصف ، ایاز صادق ، خیال زمان ، ذوالفقار بھٹی ، قادرپٹیل کی جیت برقرار ، سہیل منصور کی درخواست مسترد

خواجہ آصف ، ایاز صادق ، خیال زمان ، ذوالفقار بھٹی ، قادرپٹیل کی جیت برقرار ، ...

لاہور،کراچی، ملتان، جھنگ ، لاڑکانہ ،سرگودھا ،چکوال(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی )کئی حلقوں میں امیدواروں کی جانب سے درخواستوں پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مرحلہ جاری ہے جبکہ این اے 73 سیالکوٹ سے مسلم لیگ ن کے خواجہ آصف اپنی جیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔این اے 73 سیالکوٹ میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل مکمل کرلیا گیا جس کے بعد خواجہ آصف کے مجموعی ووٹوں میں 45 اور عثمان ڈار کے ووٹوں میں 132 ووٹوں کا اضافہ ہوا۔خواجہ آصف نے ایک لاکھ 16 ہزار 957 ووٹ حاصل کیے تھے جو اب بڑھ کر ایک لاکھ 17 ہزار 2 ہوچکے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے عثمان ڈار نے ایک لاکھ 15 ہزار 464 ووٹ حاصل کیے تھے تاہم دوبارہ گنتی کے بعد ان کے مجموعی ووٹوں کی تعداد بڑھ کر ایک لاکھ 15 ہزار 596 ہوگئی۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 129 لاہور میں تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کی درخواست پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی گئی۔دوبارہ گنتی کے بعد بھی حلقے میں ایاز صادق کی جیت برقرار رہی۔ کل دو دن پہلے شروع ہونے والی گنتی گزشتہ رات ختم ہوئی اور اس دوران 252 پولنگ سٹیشنوں کے ووٹوں کو دوبارہ گنا گیا۔ریٹرننگ افسران کے مطابق دوبارہ گنتی میں ایاز صادق کے ووٹ مزید بڑھے۔حلقے سے مسلم لیگ (ن) کے سردار ایاز صادق کامیاب قرار پائے تھے تاہم پی ٹی آئی امیدوار علیم خان نے دوبارہ ووٹوں کی گنتی کی درخواست کی تھی۔حلقہ این اے 248 کراچی سے تحریک انصاف کے سردار عبدالعزیز کی درخواست پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی گئی جس کے بعد بھی پیپلز پارٹی کے عبدالقادر پٹیل کو کامیاب قرار دیا گیا۔نئی گنتی کے بعد قادر پٹیل کے ووٹوں میں مزید اضافہ ہوگیا اور اب ان کے ووٹ 37075 ہوگئے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے سردار عبدالعزیز کے ووٹوں میں کمی ہوئی اور اب ان کے ووٹ 34322 ہیں۔قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 33 ہنگو کے 180 میں سے 50 پولنگ سٹیشنوں پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل مکمل ہونے کے بعد تحریک انصاف کے امیدوار خیال زمان کے 735 ووٹ زیادہ نکلے جس کے بعد ان کی جیت برقرار ہے۔ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے بعد نتائج کے مطابق پی ٹی آئی امیدوار خیال زمان نے 28 ہزار 703 ووٹ حاصل کیے جب کہ ان کے مدمقابل ایم ایم اے امیدوار عتیق الرحمان نے 27 ہزار 968 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 114 جھنگ سے پیپلز پارٹی کے امیدوار فیصل صالح حیات کی درخواست پر گزشتہ روز 5 پولنگ اسٹیشنز پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی گئی جس کے دوران فیصل صالح حیات کے ووٹوں میں 38 ووٹ کا اضافہ ہوا جس کے پیش نظر آج مزید 5 پولنگ اسٹیشنز پر گنتی کا عمل جاری ہے۔این اے 114 سے تحریک انصاف کے صاحبزادہ محبوب سلطان نے ایک لاکھ 6 ہزار 43 ووٹ حاصل کیے تھے جب کہ پیپلز پارٹی کے فیصل صالح حیات نے ایک لاکھ 5 ہزار 454 ووٹ حاصل کیے، دونوں امیدواروں کے درمیان جیت کے ووٹوں کا فرق 589 تھا۔قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 129 لاہور میں تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کی درخواست پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی آج دوسرے روز بھی جاری ہے۔ حلقے سے مسلم لیگ (ن) کے سردار ایاز صادق کامیاب قرار پائے تھے تاہم پی ٹی آئی امیدوار علیم خان نے دوبارہ ووٹوں کی گنتی کی درخواست کی تھی۔ایاز صادق نے ایک لاکھ 3 ہزار 21 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی جن کے مدمقابل پی ٹی آئی امیدوار علیم خان نے 94 ہزار 879 ووٹ حاصل کیے۔اسی طرح قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 108 فیصل آباد پر بھی گنتی جاری ہے ،یہاں (ن) لیگ کے امیدوار عابد شیر علی کے مقابلے میں تحریک انصاف کے فرخ حبیب کامیاب قرار پائے تھے۔ گوجرانوالہ سے صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 52 اور پی پی 54 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی جاری ہے، پی پی 52 پر ن لیگ کے عادل چٹھہ تحریک انصاف کے امیدوار احمد چھٹہ کے مقابلے میں ایک ہزار 113 ووٹوں کی برتری سے کامیاب ہوئے تھے۔پی پی 54 گوجرانولہ میں ن لیگ کے عمران خالد بٹ تحریک انصاف کے رضوان اسلم بٹ کے مقابلے میں ایک ہزار 457 ووٹوں کی برتری سے کامیاب قرار پائے تھے تاہم ہارنے والے امیدوار نے دوبارہ گنتی کی درخواست کی تھی۔ملتان کے حلقوں این اے 154 اور157، اور این اے 22 مردان کے 131 پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی جائے گی۔قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 230 بدین پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل آج بھی جاری ہے، اس حلقے سے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی فہمیدہ مرزا نے پیپلز پارٹی کے حاجی رسول بخش چانڈیو کو 860 ووٹوں سے شکست دی تھی۔فہمیدہ مرزا نے 96 ہزار 875 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی جب کہ ان کے مدمقابل پیپلز پارٹی کے امیدوار رسول بخش چانڈیو نے 96 ہزار 15 ووٹ حاصل کیے تھے۔پیپلز پارٹی کے امیدوار نے فہمیدہ مرزا کی کامیابی کو چیلنج کرتے ہوئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست کی تھی۔ اسی طرح صوبائی اسمبلی کی نشست پی ایس 73 بدین پر بھی ووٹوں کی دوبارہ گنتی جاری ہے جہاں پیپلز پارٹی کے تاج ملاح 37645 ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے جب کہ جی ڈی اے کی فہمیدہ مرزا نے 37364 ووٹ حاصل کیے تھے۔حلقہ این اے 248 کراچی سے تحریک انصاف کے سردار عبدالعزیز کی درخواست پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی جاری ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز 51 پولنگ اسٹیشنز کے ووٹوں کی گنتی مکمل کی گئی اور آج 231 پولنگ اسٹیشنز کے ووٹوں کی گنتی کی جائے گی۔این اے 248 سے پیپلز پارٹی کے عبدالقادر پٹیل 35124 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے اور انہوں نے تحریک انصاف کے سردارعبدالعزیز کو شکست دی جنہوں نے 34101 ووٹ حاصل کیے اور انہیں ایک ہزار 23 ووٹوں سے شکست ہوئی تھی۔متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے انتخابی نتائج مسترد کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی دونوں نشستوں پر دوبارہ گنتی کی درخواست جمع کرادی۔فاروق ستار کو قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 245 پر تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اور 247 سے ڈاکٹر عارف علوی نے شکست دی۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ہمارے چیف پولنگ ایجنٹ اور پولنگ ایجنٹس کو فارم 45 فراہم نہیں کیا گیا اور گنتی کے وقت ہمارے پولنگ ایجنٹس کو پولنگ اسٹیشنز سے باہر بھی نکالا گیا۔ حلقہ پی پی 22میں مسلم لیگ ن کے کامیاب امیدوار ملک تنویر اسلم سیٹھی کے خلاف دوبارہ گنتی کی درخواست مسترد کر دی گئی ۔ مسترد شدہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے بعد ملک تنویر اسلم سیٹھی کو منتخب قرار دے دیا گیا ، پی ٹی آئی کے ناکام امیدوار راجہ طارق افضل کالس جو 27سو ووٹوں سے شکست کھا گئے تھے ۔قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 91 میں پوسٹل بیلٹ کی گنتی مکمل ہونے پر بھی مسلم لیگ (ن )87 ووٹوں سے برتری مل گئی جسکے بعد نو منتخب ایم این اے ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی نے اس حلقے سے باپ بیٹے انور چیمہ اور عامر چیمہ کو ہرانے کا منفرد اعزاز حاصل کر لیا ۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی پوسٹل بیلٹ گنتی فیصلہ میں110654 ووٹ حاصل کر کے رکن قومی اسمبلی منتخب ہو گئے۔جن کے مدمقابل پی ٹی آئی کے امیدوار چوہدری عامر سلطان چیمہ کو 110567 ووٹ ملے اس طرح ایم این اے ذوالفقار علی بھٹی 87 ووٹوں کی برتری سے دوبارہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہو گئے ہیں ۔ لاڑکانہ کے حلقہ پی ایس 13 پرجی ڈی اے عادل انڑنے دوبارہ گنتی کی درخواست ڈوکری میں سہولت نہ ہونے کے باعث لاڑکانہ سیشن کورٹ میں دی۔درخواست منظوری کے بعد پی ایس 13 پر جی ڈی اے کے امیدوار عادل الطاف انڑ نے پیپلز پارٹی کے امیدوار حزب اللہ بگھیو کے حلقہ پی ایس 13 کی گنتی کی گئے غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار حزب اللہ بگھیو نے 46101 ووٹ حاصل کئے تھی دوبارہ گنتی میں حزب اللہ بگھیو کے مزید70 ووٹ کے اور اضافہ ساتھ46171 ووٹ ہوگئے۔یہاں سے جی ڈی اے کے امیدوارعادل انڑ نے74172۔حاصل کرکے 2 نمبر پر ہی رہ گئے۔جھنگ کے قومی اسمبلی کے حلقے 114 میں تحریک انصاف کے امیدوار محبوب سلطان کی لیڈ کم ہو کر 503 ہو گئی اس پر پیپلزپارٹی کے امیدوار مخدوم فیصل صالح حیات تمام پولنگ سٹیشن کے مستردووٹوں کی دوبارہ گنتی کامطالبہ کردیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق این اے 114 میں پیپلزپارٹی کے مخدوم فیصل صالح حیات کی درخواست پر دوبارہ گنتی ہوئی،این اے114کے10پولنگ سٹیشن کی دوبارگنتی میں86ووٹوں کافرق آگیااورتحریک انصاف کے محبوب سلطان کی لیڈکم ہوکر 503ہوگئی۔پیپلزپارٹی کے مخدوم فیصل صالح حیات نے تمام پولنگ سٹیشن کے مستردووٹوں کی دوبارہ گنتی کامطالبہ کردیا۔سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادوں عبدالقادرگیلانی اور علی موسیٰ گیلانی نے این اے 154 اور این اے 157 میں دوبارہ گنتی کی عمل کا بائیکاٹ کردیا۔عبدالقادر گیلانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اعتراضات نہیں سنے جا رہے، ہمیں کاؤنٹر فائلز چیک نہیں کروائی جا رہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے حلقے کھولنے کااعلان کیاتھا،ہمارے حلقے کھولے جائیں،گزشتہ روز پورے دن میں صرف 18 بیگ کھولے گئے، عبدالقادر گیلانی نے کہاکہ دوسرے امیدواروں کے تھیلوں سے بھی ہمارے ووٹ نکل رہے ہیں ، این اے 154 سے صرف میں جیتا ہوں۔علی موسیٰ گیلانی نے کہا کہ ہمارا وقت ضائع کیا جا رہا ہے، الیکشن بالکل متنازع بن چکا ہے،انہوں نے کہا کہ دوبارہ گنتی کا عمل بھی متنازع بنایا جا رہا ہے۔متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے نامزد امیدوار این اے 239 خواجہ سہیل منصور نے متعلقہ حلقہ کے ریٹرننگ آفیسر کو انتخابی ایکٹ 2017کی شق 95کی ذیلی شق 5کے تحت ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست دی تھی جسے ریٹرننگ آفیسر نے ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مستر د کردیاہے،واضح رہے کہ حلقہ این اے 239 جہاں ایم کیو ایم پاکستان کے حق پرست امیدوار خواجہ سہیل منصور صرف 366 ووٹوں سے ہاریں ہیں اور جہاں مسترد ووٹوں کی تعداد 3281 ہے۔ رابطہ کمیٹی نے کہا کہ کل صبح چیف الیکشن کمشنر اسلام آبادکے سامنے ایم کیو ایم کے خواجہ نوید احمد ایڈوکیٹ اور محفوظ یار خان ایڈوکیٹ ،این اے 239 کے امیدوار خواجہ سہیل منصور کی پٹیشن پیش کریں گے۔ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے چیف الیکشن کمیشن اور چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ریٹرننگ افسران کے امتیازی روئے کا فوری نو ٹس لیا جائے ،انتخابی نتائج ،انتخابی عملے کی غفلت کے باعث پہلے ہی متنازعہ بن چکے ہیں اور انکے یہ عمل جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں ،لہٰذاتمام امید وارن کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔

مزید : صفحہ اول